Thursday, 10 October 2024

ہنی مون ان جرمنی Part 1

 میرا نام روبینہ ہے. میری عمر پچیس سال ہے. حال ہی میں شادی ہوئی ہے اور میں اپنے خاوند کے ہمراہ ہنی مون پر ہوں. میرا تعلق نسبتاً امیر گھرانے سے ہے اور جہاں میری شادی ہوئی ہے وہ ہم سے بھی زیادہ امیر ہیں. میں بچپن سے اچھے تعلیمی اداروں سے پڑھی ہوں. ہمارے گھر کا ماحول بھی کافی آزادانہ ہے. اس سے میری مراد یہ ہے کہ خیالات اور رہن سہن ایسا ہے جیسا ایلیٹ کلاس کے گھرانوں کا ہوا کرتا ہے. اتنے ماڈرن ہونے کے باوجود شادی کے بعد مجھے اپنی زندگی کا سب سے بڑا سرپرائز ملا. میں لباس میں ہمیشہ جینس اور شرٹ پسند کرتی تھی. کالج اور یونیورسٹی میں بھی میرا لباس یہ ہی تھا. لڑکوں سے دوستی بھی تھی لیکن ایک حد تک. میں نے کبھی کسی کو حد کراس نہیں کرنے دی. ایسا اس لئے کے مجھے معلوم تھا کہ اگر میں نے کوئی ایسا قدم اٹھا لیا تو پھر واپسی ممکن نہیں ہو گی. پارٹیوں میں جانا میرا معمول تھا. ویکینڈز پر ایسی پارٹیاں بھی ہوتی تھیں جہاں شراب نوشی اور دیگر نشہ اور چیزیں عام چلتی تھیں. میں نے بھی کی مرتبہ شراب پی تھی لیکن ہمیشہ اس بات کا خیال رکھا تھا کہ نشے میں آوٹ نا ہو جاؤں. سگریٹ نوشی بھی دوستوں کے ہمراہ چلتی رہتی تھی. یہ تمہید باندھنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ آپ سب کو اچھی طرح سے اندازہ ہو جائے کہ میرا لائف سٹائل کیسا تھا. ایسے بیک گراؤنڈ کی وجہ سے میں یہ سمجھتی تھی کہ مجھ سے زیادہ ماڈرن شاید ہی کوئی ہو اس ملک میں.

میری شادی بھی انتہائی ماڈرن سیٹنگ میں ہوئی تھی اور میں نے اپنے شوہر کے ہمراہ اسٹیج پر ڈانس بھی کیا تھا. مجھے اس بات کی بے حد خوشی تھی کہ میرا شوہر بھی میری طرح آزادانہ خیالات کا ملک ہے اور وہ مجھ پر کسی قسم کی پابندیاں لگانے سے گریز کرے گا. ویسے تو میں رتی برابر پریشان نہیں تھی کیوں کہ مجھے اپنی طبیعت کا بھی پتہ تھا. اگر شوہر مجھ پر پابندیاں لگاتا تو میں نے برداشت ہی نہیں کرنی تھیں. میں ان عورتوں میں سے تو تھی نہیں کہ اپنا گھر بچانے کی خاطر میں ساری زندگی شوہر کی فرمانبردار بن کر رہتی. خیر، شادی خوب دھوم دھڑکے سے ہوئی. سب رسمیں ہوئیں. سہاگ رات بھی منا لی. اگلے دن معلوم ہوا کہ میرے شوہر شہریار نے ہنی مون کے لئے جرمنی کی ٹکٹس پہلے ہی خرید رکھی ہیں. میں پاکستان سے باہر کئی مرتبہ سفر کر چکی تھی لیکن جرمنی کبھی نہیں گئی تھی. شائد شہریار کو بھی اس بات کا پتہ تھا تب ہی اس نے جرمنی کا انتخاب کیا تھا. میرا ویزہ لگنے میں ایک ہفتہ لگا اور ہم ویزہ لگتے ہی جرمنی روانہ ہو گئے. کراچی سے برلن کا سفر سات گھنٹے سے زیادہ وقت میں طے ہوا. وقت کے فرق کی وجہ سے جب ہم وہاں پہنچے تو صبح صادق کا وقت تھا. برلن کے مغربی حصّے میں ہمارا ہوٹل تھا. شائد میں ان تفصیلی باتوں سے آپ سب کو بور کر رہی ہوں لیکن معذرت چاہتی ہوں کہ میرے لکھنے کا انداز ہی کچھ ایسا ہے. جب تک باریک سے باریک باتیں بیان نہ کر دن مجھے لگتا ہے کہ میری تحریر معیاری نہیں ہے. امید ہے آپ لوگ غصہ نہیں کریں گے۔
ائیرپورٹ سے ٹیکسی لے کر ہم ہوٹل پہنچے اور کمرے میں پہنچ کر بیڈ پر گر گئے. تھکاوٹ کے باوجود ایک دوسرے سے لپٹنے پر شہوت بھڑک اٹھی اور ہم نے سیکس کیا. ویسے یہ بتاتی چلوں کہ میرا تجربہ ہے کہ سیکس کا اصل مزہ صبح کے وقت آتا ہے جب آپ سو کر اٹھیں. یہ بات نہیں کہ رات کو مزہ نہیں آتا، آتا ہے لیکن اگر صبح ہو تو دس گنا زیادہ مزہ آتا ہے. پتہ نہیں وجہ کیا ہے. ہم دونوں سیکس کر کے ایک دوسرے سے لپٹ کر سو گئے. آنکھ کھلی تو لنچ کا وقت تھا. ہم نے اکٹھے غسل کیا اور اور ہوٹل کی لابی میں لنچ کر کے روانہ ہو گئے. اس وقت مجھے بھی معلوم نہیں تھا کہ ہماری اگلی منزل کہاں ہے. شہریار سے پوچھا کہ ہم کہاں جا رہے ہیں لیکن اس نے بھی بس یہ ہی کہا کہ تھوڑا صبر کرو. مجھے بے چینی تو تھی لیکن یہ بے چینی جلد ہی شدید حیرانی میں بدل گی جب ہم اپنی منزل پر پہنچے. ہماری منزل سٹرانڈ بینڈ وانسی جھیل تھی. ابھی ہم جھیل کے ساحل تک پہنچے نہیں تھے کیوں کہ ٹیکسی نے ہمیں سرک پر اتارا تھا اور یہاں سے آدھ کلومیٹر پیدل واک تھی. جھیل کے ساحل پر لوگ دھندلے سے نظر آ رہے تھے. یہ گرمیوں کا موسم تھا. شہر یار نے پنٹس کی بجائے شارٹس پہنے تھے اور ٹی شرٹ پہنی تھی. میں نے بھی بغیر بازوں والی ٹی شرٹ پہنی تھی لیکن جینز پہنی تھیں جو کے ٹخنوں سے کچھ اپر تک تھی. جیسے جیسے ہم ساحل کے قریب ہوتے گئے ویسے ویسے ہر چیز واضح ہوتی گی. یہ گروبر جھیل کا مشرقی کنارہ تھا. شائد اپ سوچ رہے ہوں کہ جھیل میں ایسی کیا خاص بات ہو سکتی ہے لیکن خاص بات تو تھی اس جھیل میں. میں کراچی کا سمندر ہزاروں بار گھوم چکی تھی اور منوڑا، ہاکس بے، کلفٹن، سی ویو سب جگہیں میری دیکھی بھالی تھیں. وانسی جھیل ان سب جگہوں سے مختلف اور بہتر تھی. جھیل کے کنارے کیبن بنے ہوے تھے. اسی ترتیب میں آگے شاور لگے تھے. ایک سائیڈ پر واشرومز بنے ہوے تھے. کیبن اور واشروم تو ٹھیک لیکن میں کھلے میں شاور دیکھ کر حیران ہوئی لیکن میری اس حیرانگی کی جگہ ایک اور حیرانگی نے لے لی کہ جو نظارہ میری آنکھیں دیکھ رہی تھیں مجھے اس پر یقین ہی نہیں آ رہا تھا. جھیل کے کنارے بے شمار لوگ تھے. تا حد نگاہ لوگ ہی لوگ تھے. ننگے لوگ. بچے، بوڑھے، جوان، مرد، خواتین. سب کے سب ننگے. میں جو اپنے آپ کو اتنی ماڈرن سمجھتی تھی، شرم کے مارے نظریں جھکا کر شہریار سے کہنے لگی کہ واپس چلیں یہ آپ مجھے کہاں لے آے ہیں.
کوئی مانے یا نہ مانے، مشرقی لڑکی جتنی بھی ماڈرن ہو جائے، مغربی لڑکی سے مقابلہ نہیں کر سکتی. مشرقی سے میری مراد پاکستانی، بھارتی، بنگلادیشی لڑکیاں ہیں. میں اپنے آپ کو اتنی ماڈرن سمجھتی تھی. سکن ٹائٹ جینز پہن کر مالز میں گھومنا، اور لڑکوں سے کھلم کھلا ہر قسم کی بات چیت کر کے میں سمجھتی تھی کہ میں نے موڈرنزم کی ہر حد پار کر دی ہے اور لڑکے مجھے دیکھ کر آہیں بھرتے ہیں لیکن شہریار کے ساتھ اس جھیل کے کنارے پہنچ کر میں یہ سوچ رہی تھی کہ جہاں میرا موڈرنزم ختم ہوتا ہیں، ان مغربی خواتین کا موڈرنزم تو اس کے بھی بعد کہیں شروع ہوتا ہے.
شہریار میرے اسرار کے باوجود واپس جانے کی بجاے مجھے سمجھانے لگا کہ وہ پہلے سے ہی یہاں ایک کیبن بک کروا چکا ہے. میری نئی نئی شادی ہوئی تھی اور میں شادی کے شروع کے دنوں میں ہی اپنے شوہر سے لڑائی تو مول نہیں لینا چاہتی تھی. شہریار نے مجھے بتایا کہ یہ لوگ اپنی مرضی سے کپڑے اتار کر نہاتے ہیں اور حکومت کی طرف سے انہیں ایسا کرنے کی اجازت ہے. میں حیرانی سے ان لوگوں کو دیکھ رہی تھی تو شہریار نے مجھے ٹوکا کہ ایسے نہ دیکھوں کیوں کہ ایسے گھورنے سے ہو سکتا ہے کوئی برا مان جائے. پاکستان میں تو مجھے ذاتی تجربہ تھا مردوں کی نگاہوں کا مرکز بننے کا اور سچی بات ہے کہ بہت برا لگتا تھا. شہریار کی زبانی مجھے معلوم ہوا کہ یہ ضروری نہیں کہ یہاں ہر ایک کو ننگا ہونا پڑے. یہ ہر ایک کی اپنی مرضی پر منحصر ہے. میں تو سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ ایسا کرنے کا. شہریار اور میں کیبن میں آ گئے. میں کسی حد تک اپنے آپ کو سنبھال چکی تھی اور اب حیرت کم ہو گئی تھی کیوں کہ حیرت کی جگہ تجسس نے لے لی تھی. میں شہریار سے سوال کیے جا رہی تھی اور وہ میرے سوالات کا جواب دئے جا رہا تھا. ایک بات میں نے محسوس کی تھی کہ وہاں کپڑوں میں صرف میں ہی تھی. باقی سب کے سب یا تو ننگے تھے یا پھر چند مردوں اور خواتین نے انڈر ویر پہن رکھے تھے. شہریار نے مجھ سے کہا کہ اگر ہم یہاں آئیں اور بغیر نہائے واپس جایئں تو اس سے بڑی بدقسمتی نہیں ہو سکتی. میں نے پہلے تو صاف انکار کر دیا کہ میں ان ننگے لوگوں کے ساتھ کیسے نہا سکتی ہوں. بیشک میں نے کپڑے پہنے ہیں لیکن وہ سب تو ننگے ہیں نہ. میں خود تو نہانے پر تیار نہ ہوئی لیکن شہریار کو نہانے سے روکنا بھی غلط محسوس ہو رہا تھا.
میں کسی حد تک پریشان تو تھی لیکن شہریار کے حوصلہ دینے اور پھر اپنے آپ کو لوگوں کی نگاہوں کا مرکز نہ پا کر پریشانی کافی حد تک کم ہو گئی تھی. ایسا نہیں کہ کسی نے میری طرف دیکھا ہی نہیں. بہت سے لوگوں نے مجھے دیکھا بلکہ اکثر نے حیرانی سے دیکھا تھا. کراچی میں تو میں جان بوجھ کر ایسی ڈریسنگ کیا کرتی تھی کہ ہر مرد کی نظر مجھ پر پڑے تو دوسری نگاہ ڈالنے پر مجبور ہو جائے. ایسا کرنے کا مجھے تو بہت مزہ آتا تھا. یہاں بھی اپنی طرف سے تو میں نے کافی بولڈ ڈریسنگ کی تھی لیکن مجھے کیا خبر تھی کہ جہاں شہریار لے کے جا رہا ہے وہاں ڈریسنگ کا نام و نشان بھی نہیں ہو گا. ہم نے اپنا سامان کیبن میں رکھا اور ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر باہر آ گئے. شہریار نے اپنی شرٹ اتار دی اور سمندر کی لہروں میں نہانے لگا. وہ تو اپنے شارٹس بھی اتارنا چاہتا تھا لیکن میں نے اس بات کی اجازت نہیں دی کیوں کہ ماڈرن ہونے کے باوجود مجھ میں کچھ شرم باقی تھی اور میں نہیں چاہتی تھی کہ مرے شوہر کے پرائویٹ حصّوں کو اجنبی لوگ دیکھیں. میں ساحل پر کھڑی دیکھتی رہی اور شہریار نہاتے رہے. اس دن اس کے علاوہ ہم نے کچھ نہیں کیا. شہریار کے نہانے کے بعد ہم لوگ وہاں سے روانہ ہوے اور ایک اچھے سے ریسٹورنٹ میں ڈنر کر کے اپنے ہوٹل میں آ گئے.

No comments:

Post a Comment

ہنی مون ان جرمنی Part 4

  پتہ نہیں یہ مارٹن کی عادت تھی کہ ہر سوال کے جواب میں تقریر جھاڑ دیتا تھا یا پھر میری وجہ سے ایسا کر رہا تھا لیکن میں نے چپ چاپ اسکی باتیں ...