Saturday, 12 October 2024

ہنی مون ان جرمنی Part 2

 شہریار نے مجھے بتایا کہ وہ ایک طویل عرصے سے اس عادت میں مبتلا ہے کہ اسے کپڑے پہننا اچھا نہیں لگتا. میں نے کہا کہ گھر میں نہ پہنا کریں. شہریار کہنے لگا کہ یہ بات نہیں ہے بلکہ اب اسے کپڑوں سے چڑ ہو گیی ہے اور کپڑے پہننے پر اسے اپنے بدن پر خارش اور عجیب سا احساس ہوتا ہے. اس نے مجھے مزید بتایا کہ وہ اب تنہائی میں ہمیشہ ننگا ہی رہنا پسند کرتا ہے اور میرے سامنے بھی ایسے ہی رہا کرے گا. مجھے شہریار کے ننگا رہنے پر کوئی اعتراض نہیں تھا بلکہ جب انہوں نے مجھے بھی ننگی رہنے کا کہا تو میں اس پر بھی مان گیی. ظاہر ہے کہ میاں بیوی میں تو کوئی پردہ نہیں ہوتا نہ. بہرحال، باتوں باتوں میں مجھے معلوم ہوا کہ شہریار صرف تنہائی میں ہی ننگا نہیں رہتا بلکہ اس نے اپنے حلقہ احباب میں ایسے لوگ شامل کر رکھے ہیں جو اس کے ہم مزاج ہیں یعنی ننگا رہنا پسند کرتے ہیں. مجھے یہ بات بہت عجیب لگی. میں نے پوچھا کہ آپکو شرم نہیں آتی کیا؟ سب کے سامنے ننگا ہونے میں. شہریار نے جواب میں مجھے پورا لیکچر دے ڈالا. مختصراً یہ کہ اس کے نزدیک شرم ورم صرف انسانوں کی تخلیق کردہ چیزیں ہیں اور جسم کو چھپانا اس بات کی نشانی ہے کہ ہم اپنے جسم یا اس کے کچھ حصّوں پر شرمندہ ہیں حالانکہ اس میں شرمندہ ہونے والی کوئی بات نہیں. یہ اعضاء ہر انسان کے ساتھ لگے ہوتے ہیں اور ان کا بھی ایک مخصوص مقصد ہے بلکل اسی طرح جیسے باقی اعضاء کا مقصد ہوتا ہے. ناک سے سانس لیتے ہیں، منہ سے ہم کھانے پینے کے ساتھ ساتھ باتیں بھی کرتے ہیں اور دیگر کام بھی کرتے ہیں، ہاتھ پاؤں، کان، گردن، دماغ وغیرہ سب کے مقصد طے شدہ ہیں. اگر ہم ان اعضاء کے فنکشنز پر شرمندہ نہیں ہیں تو پھر چند اعضاء مخصوصہ کے فنکشنز پر کیوں شرمندہ ہیں. کیوں ہم ان اعضاء کے متعلق بات کرنے سے بھی گھبراتے ہیں. لنڈ کو لنڈ نہیں کہتے، پھدی کو پھدی نہیں کہتے. آخر کیوں؟

میرے پاس اسکی باتوں کا کوئی جواب نہیں تھا. ہم اپنے کمرے میں چلے گئے اور مجھے پتہ بھی نہ چلا کہ شہریار کب سو گیا. میں اس کے پہلو میں لیٹی اسکی باتوں پر غور کرتی رہی. کچھ ایسا غلط بھی نہیں کہا تھا شہریار نے. شائد بہ حیثیت معاشرہ ہمارے یہاں سب کی تربیت ہی ایسی ہوتی تھی کہ بچپن سے یہ ہماری گھٹی میں بیٹھا دیا جاتا ہے کہ ننگا پن ایک بری چیز ہے. بچپن میں کسی کے جسم کا ذرا سا حصّہ دیکھنے پر شیم شیم کے نعرے میرے ذہن میں گونجنے لگے۔
مجھے وہ وقت بھی یاد تھا جب پہلی بار مجھے ماہواری آنی شروع ہوئی تھی. تب بھی میں نے اپنی امی سے یہ کہا تھا کہ امی میری اس جگہ سے خون نکل رہا ہے. امی کے پوچھنے پر بھی کہ کس جگہ سے میں بس یہ ہی کہہ پائی تھی کہ جہاں سے سوسو نکلتا ہے. شہریار کے پہلو میں لیٹے ہوے اب میں یہ سوچ رہی تھی کہ آخر ان چیزوں کے نام لینے میں کیا برائی ہے. یہ سب تو قدرتی چیزیں ہیں. میرے پاس اپنے ذہن میں آنے والے سوالوں کا کوئی جواب نہیں تھا. انہی سوچوں میں گم نہ جانے کب میری آنکھ لگ گیی.
اگلے دن شہریار کے کسی دوست کے ہاں ہماری دعوت تھی. سارا دن ہم نے تفریح کی اور رات کو ان کے گھر پہنچ گئے. مجھے شہریار نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ اس کے دوست کی فیملی عملی طور پر نیو ڈسٹ ہیں اور کافی عرصے سے یہ طرز زندگی اختیار کئے ہوے ہیں. انہوں نے اپنے بچوں کی تربیت بھی اسی طرز پر کی ہے. ساری رات کی سوچ بچار اور شہریار سے کھل کر اس موضوع پر بات چیت سے اب میرا ذہن اس طرز زندگی کی لاجک سے آشنا ہو چکا تھا. اگرچہ میں اب بھی اس بات کے لئے ہر گز تیار نہیں تھی کہ کوئی بھی مجھے مکمل برہنگی کی حالت میں دیکھے لیکن دوسرے لوگوں کو برہنگی کی حالت میں دیکھنا اب اتنا ناگوار محسوس نہیں ہو رہا تھا. دراصل میرے ذہن میں برہنگی کا ایک ہی مقصد تھا یعنی سیکس. آج تک جب بھی برہنہ لوگوں کو دیکھا تھا، انہیں پورن فلموں میں مباشرت کرتے ہی دیکھا تھا. لہٰذہ قدرتی طور پر میرے ذہن کا ننگے پن کو مباشرت سے منسوب کرنا لازمی امر تھا. شہریار نے میری باتوں کو تحمل سے سنا تھا اور سچ تو یہ ہے کہ جب اس نے پہلی بار مجھے یہ بات بتائی کہ ننگے ہونے کا مقصد صرف سیکس ہی نہیں ہوتا تو میں خوب ہنسی تھی اور اسکا مذاق بنایا تھا. شہریار کا تحمل ہی تھا کہ اس نے میری مضحکہ خیز باتوں کو برداشت کیا.
بہرحال، رات کو جب ہم شہریار کے دوست مارٹن کے گھر پہنچے تو ڈور بیل دینے پر انجیلا نے دروازہ کھولا. انجیلا مارٹن کی بیوی تھی. انجیلا مکمل ننگی تھی اور اس نے گود میں اپنی بیٹی کو اٹھا رکھا تھا جس کی عمر تقریباً ڈیڑھ سال کے قریب لگتی تھی. وہ بھی مکمل ننگی تھی. اس نے نہایت گرم جوشی سے ہمارا استقبال کیا. جرمن لوگوں کا ملنے کا طریقہ ہمارے یہاں سے مختلف ہے. پاکستان میں تو خواتین صرف خواتین سے ہی ہاتھ ملاتی ہیں لیکن جرمنی میں خواتین اور مردوں کی تمیز کے بغیر سب ایک دوسرے سے ہاتھ ملاتے ہیں. اگر ملنے والے لوگوں کا درمیان بےتکلفی ہو تو ایک دوسرے کے گال پر بوسہ بھی دیتے ہیں. انجیلا نے البتہ صرف ہینڈ شیک پر ہی اکتفا کیا. ہاتھ ملانے کے بعد اس نے مارٹن کو آواز دی. مارٹن بھی ایسے ہی ننگ دھڑنگ ڈرائنگ روم سے باہر آ کر ہم سے ملا. میری نظریں خود بہ خود نیچے کی طرف تھیں. ہاتھ ملاتے وقت تو میں نے انجیلا اور مارٹن کی آنکھوں میں دیکھا تھا لیکن اس کے بعد سے میری نظریں مسلسل زمین میں گڑی تھیں. انہوں نے ہمیں ڈرائنگ روم میں بٹھایا جہاں انکا بڑا بیٹا جوزف ٹیلی ویژن پر کارٹون دیکھ رہا تھا. جوزف کی عمر چار سال تھی. جوزف اور انجیلا ایک صوفے پر بیٹھ گئے جبکہ میں اور شہریار دوسرے صوفے پر. شہریار کو تو وہ لوگ پہلے سے جانتے تھے اسلئے کافی حد تک بے تکلفی سے باتیں ہونے لگیں. میری جھکی نظروں کو البتہ زیادہ دیر تک وہ لوگ نظر انداز نہ کر سکے. شہریار نے میرا طرف کرواتے ہوئے انہیں بتا دیا تھا کہ میں ساری عمر پاکستان میں ہی رہتی آئی ہوں اس لئے میرے روئیے سے اگر انہیں نا گوری کا احساس ہو تو برا نہ مانیں. ننگے تو وہ دونوں تھے لیکن شرم مجھے آ رہی تھی. پہل انجیلا نے کی. اس نے مجھے مخاطب کر کے کہا کہ روبینہ شائد آپ ہمیں دیکھتے ہوے شرما رہی ہیں. میرے پاس جواب میں کہنے کو کچھ نہیں تھا کیوں کہ سچ تو یہی تھا کہ میں شرما رہی تھی لیکن کب تک. ایسے کسی کے گھر جا کر نظریں جھکا کر بیٹھنا ویسے بھی مروجہ آداب کے خلاف ہے. مجھے بلا آخر اپنی نظریں اٹھا کر ان کی طرف دیکھنا ہی پڑا. میں نے انہیں بتایا کہ میرا تعلق جس جگہ سے ہے وہاں پر لوگ برہنہ پن کو غلط کاموں سے منسوب کرتے ہیں اسلئے میری شرم فطری ہے اور اس پر برا نہ منایا جائے. میں نے اگرچہ انجیلا کی آنکھوں میں دیکھ کر بات کی تھی لیکن نظریں ایک ہی جگہ مرکوز رکھنا مشکل تھا اور نہ چاہتے ہوے بھی میری نظریں ہر اس جگہ پر گئیں جہاں دیکھنے سے میں احتراز برت رہی تھی. جی ہاں، آپ درست سمجھے. انجیلا اور مارٹن دونوں ہی بہت ملنسار لوگ تھے. بجائے برا ماننے کے وہ لوگ تو اس وجہ سے فکر مند تھے کہ کہیں ان کے مہمان کو کسی وجہ سے تکلیف نہ پہنچے. میں متاثر ہوے بغیر نا رہ سکی. مارٹن نے بات کو آگے بڑھتے ہوے کہا کہ میری بات درست ہے اور واقعی آغاز میں ننگے پن سے مانوس ہونا ذرا مشکل معلوم ہوتا ہے. مارٹن کی بات کو سپورٹ کرتے ہوے انجیلا نے تجویز پیش کی کہ اگر میں چاہوں تو وہ دونوں کپڑے پہننے کے لئے تیار ہیں. اب میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا تھا. یہ لوگ تو مہمان نوازی کی ہر حد کراس کرتے جا رہے تھے. انجیلا نے یہ تجویز اس لئے پیش کی تھی کہ وہ سمجھ رہی تھی کہ میزبانوں اور مہمانوں کے درمیان یہ تناؤ اسلئے بھی ہے کہ میزبانوں نے کچھ بھی نہیں پہنا جبکہ مہمان مکمل لباس میں ملبوس بیٹھے ہیں اور اس تناؤ کو دور کرنے کے لئے یا تو میزبانوں کو کپڑے پہن لینے چاہئیں یا پھر مہمان بھی کپڑے اتار کر ننگے ہو جایئں. اس سے چونکہ دونوں پارٹیاں ایک ہی حالت میں آ جایئں گی تو تناؤ اور شرم قدرتی طور پر ہی اپنے آپ ختم ہو جائے گا. اب ظاہر ہے کہ مہمانوں کو کپڑے اتارنے کی تجویز دینا تو غیر مناسب تھا، خاص طور پر ایسی صورتحال میں کہ مہمان پہلے ہی ننگے پن سے شرم محسوس کر رہی ہو. بہرحال، اسکی تجویز پر میں دل میں بہت شرمندہ ہوئی. یہ سوچ بھی میرے ذہن میں بار بار آ رہی تھی کہ شہریار کو بھی میری وجہ سے شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے. ان سب سوچوں کے جنجھٹ سے چھٹکارا پانے کے لئے میں نے وہ فیصلہ کیا کہ جسکی توقع مجھے اپنے آپ سے بھی کبھی نہیں تھی. میں نے انجیلا کی بات کے جواب میں اسے کہا کہ انہیں کپڑے پہننے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیوں کہ کسی مہمان کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی کے گھر جا کر ان کا رہن سہن کا طریقہ تبدیل کرے بلکہ مناسب یہ ہے کہ مہمانوں کو میزبانوں کے رنگ میں ڈھل جانا چاہئے کم از کم جب تک وہ مہمان ہیں تب تک لہٰذہ شہریار اور میں بھی اپنے کپڑے اتار دیتے ہیں تاکہ ہم ایک دوسرے سے کھل کر بات چیت کر سکیں کسی رکاوٹ کے بغیر. میری تجویز پر نہ صرف مارٹن اور انجیلا خوش ہوے بلکہ شہریار کے چہرے کے تاثرات بھی دیدنی تھے. اس نے میری طرف پیار سے دیکھا اور میں نے اس کی نظروں سے بھانپ لیا کہ وہ کیا کہنا چاہتا ہے. ایسا لگتا تھا جیسے وہ آنکھوں سے کہ رہا ہو کہ روبینہ! مجھے تم پر فخر ہے.

No comments:

Post a Comment

ہنی مون ان جرمنی Part 4

  پتہ نہیں یہ مارٹن کی عادت تھی کہ ہر سوال کے جواب میں تقریر جھاڑ دیتا تھا یا پھر میری وجہ سے ایسا کر رہا تھا لیکن میں نے چپ چاپ اسکی باتیں ...