Wednesday, 23 October 2024

ہنی مون ان جرمنی Part 4

 پتہ نہیں یہ مارٹن کی عادت تھی کہ ہر سوال کے جواب میں تقریر جھاڑ دیتا تھا یا پھر میری وجہ سے ایسا کر رہا تھا لیکن میں نے چپ چاپ اسکی باتیں سننے کو ہی ترجیح دی کیوں کہ میرے لئے ان میں سے نوے فیصد باتیں نئی تھیں. خاص طور پر ہم جنس پرست لوگوں کے بارے میں جو معلومات مارٹن کی زبانی معلوم ہوئیں انکی وجہ سے مجھے اپنی گزشتہ زندگی کے کئی واقعات یاد آ گئے. ہو سکتا ہے یہ میرا شبہ ہی ہو لیکن میں نے یونیورسٹی میں یہ بات محسوس کی تھی کہ کئی لڑکیاں اپنی سہیلیوں سے حد سے زیادہ بے تکلف ہیں. سہیلیاں تو میری بھی تھیں اور ہمارے درمیان بھی ہر قسم کے مذاق کا سلسلہ چلتا رہتا تھا لیکن ایک دوسرے کو چھونا بس اس حد تک ہی تھا کہ سلام کے لئے ہاتھ ملانا یا پھر کبھی کبھار گلے ملنا. اب میرے ذہن میں یہ سارے واقعات گھومنے لگے کہ کچھ لڑکیاں واقعی ایسی تھیں جو ایک دوسرے میں اتنی گم تھیں کہ واشروم بھی ایک ساتھ جاتی تھیں. ایک لڑکی نادیہ خاص طور پر مجھے یاد تھی جس کی سہیلی کی شادی ہو گئی تھی تو نادیہ نے رو رو کر اپنا برا حال کر لیا تھا. تب تو میں یہی سمجھی تھی کہ پکی دوستی کی وجہ سے اپنی سہیلی کی جدائی برداشت نہیں کر پا رہی لیکن اب میں اچھی طرح سے سمجھ گئی تھی کہ وہ معاملہ کیا تھا. یقیناً آپ لوگ بھی سمجھ گئے ہوں گے.

کھانے میں انجیلا نے جرمنی کی ایک خاص ڈش بنائی تھی جسے سپٹزل کہتے ہیں. اس میں پاستا سویاں اور انڈے استعمال کئے گئے تھے. کافی لذیذ تھی. اس کے علاوہ ہمارے پاکستانی ہونے کی وجہ سے اس نے بریانی بھی بنا رکھی تھی. اس کے ہاتھ میں کافی ذائقہ تھا. سچی بات ہے میں یہ توقع نہیں ر رہی تھی کہ انجیلا کی بریانی اتنی لذیذ بھی ہو سکتی ہے لیکن میری توقعات غلط ثابت ہوئیں لیکن صرف ایک یہی توقع غلط ثابت نہیں ہوئی تھی. میں نے تو ننگی ہوتے وقت بھی یہ ہی سوچا تھا کہ آج کی رات کافی مشکل ہو گی اور سارا وقت انتہائی اکورڈ انداز میں گزرے گا لیکن مارٹن اور انجیلا کی مہمان نوازی اور دوستانہ روئے نے سب کچھ تبدیل کر کے رکھ دیا تھا اور میری کنفیوزن اب کانفیڈنس میں تبدیل ہو گئی تھی. میری سوچوں کا تانتا مارٹن کی آواز سے ہی ٹوٹا. اسکی مخاطب میں ہی تھی. بچپن سے اب تک میں ایسے اسکول، کالج اور یونیورسٹی میں پڑھتی آئی تھی جہاں لڑکیاں اور لڑکے اکٹھے پڑھتے تھے اور ایک دوسرے سے باتیں اور دوستی عام تھی. یہ ہی وجہ تھی کہ میں کبھی کسی مرد سے بات کرتے ہوے نہیں گھبراتی تھی بلکہ مرد مجھ سے بات کرتے ہوے گھبراہٹ کا شکار ہو جاتے تھے. میں چونکہ جرنلزم کی طالبہ تھی اس لئے معلومات کی بھی میرے پاس کوئی کمی نہیں تھی. آج پہلا موقع تھا کہ میں خاموشی سے سن رہی تھی اور ایک مرد اپنی معلومات سے مجھے متاثر کئے جا رہا تھا. میں یہ ماننے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتی کہ مجھے اس موقع پر شدت سے احساس کمتری ہو رہا تھا. اچھی یا بری، میری یہ خواہش تھی کہ ہمیشہ گفتگو میں میرا پلا بھاری رہے. بہرحال اب کیا کیا جا سکتا تھا. ظاہر ہے کسی موضوع پر معلومات نہ ہوں تو ایسا ہی ہوتا ہے.
مارٹن نے مجھے سمجھانا شروع کیا تو انجیلا نے میری طرف دیکھ کر ایسے مسکراہٹ دی جیسے وہ اس ساری صورتحال کو انجوائے کر رہی ہو. شہریار بھی کھانا کھاتے ہوے مسکرائے جا رہا تھا. اس وقت تو مجھے ان کی مسکراہٹ کی وجہ سمجھ نہ آئی لیکن بعد میں مجھے شہریار نے بتایا کہ مارٹن کی عادت ہے کہ ہمیشہ بلا ضرورت بولتا چلا جاتا ہے اور دوسروں کو بور کرتا ہے. ہو سکتا ہے شہریار اور انجیلا بور ہو رہے ہوں کیوں کہ ان کے لئے یہ باتیں نئی نہیں تھیں لیکن میں مارٹن کی باتوں سے لطف اندوز ہو رہی تھی. مارٹن نے جو باتیں کیں میں انہیں لفظ بہ لفظ تو یہاں بیان نہیں کر سکتی مختصر طور پر ہی بتا سکتی ہوں. اس نے مجھے بتایا کہ انسان اپنی تاریخ کے آغاز میں ننگے ہی رہتے تھے اور ایسے رہنے سے ہر گز شرمندہ نہیں ہوتے تھے. جیسے جیسے انسان ترقی کرتا گیا اس کے رہن سہن کے طریقوں میں تبدیلیاں رونما ہونی ہونی شروع ہو گئیں. ان ہی تبدیلیوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ انسان نے اپنا جسم ڈھانپنا شروع کر دیا اور اپنے جسم دیکھنے پر شرمندگی محسوس کرنے لگا. صدیوں سے جسم ڈھانپنے کی وجہ سے اب انسان ننگے پن کو ایک غیر قدرتی چیز تصور کرنے لگا ہے اور اس جسم ڈھانپنے کا دوسرا اثر یہ بھی ہوا کہ ننگے پن کو سیکس سے منسوب کر دیا گیا جو کہ سراسر غلط ہے. اب اگر انسان ننگے پن کو اپناتے ہیں تو انہیں ایسے مسائل درپیش ہوتے ہیں جو بلکل قدرتی ہیں مثلا مردوں کے لئے سب سے بڑا مسلہ یہ ہے کہ ان کا لنڈ کھڑا ہو جاتا ہے اور وہ اپنے لنڈ کو قابو نہیں کر پاتے. لنڈ کھڑا ہونے کی وجہ سے اگر کوئی یہ کہے کہ ننگا پن ہی ترک کر دینا چاہیے تو میں تو اسکو بے وقوف ہی کہوں گا کیوں کہ کسی بھی کام میں اگر کوئی مسلہ درپیش ہو تو مسلے کو حل کیا جاتا ہے نہ کہ کام کو ہی ترک کر دیا جائے.
میں مارٹن کے لیکچر سے کسی حد تک بور ہونے لگی تھی. کھانا بھی کھا چکی تھی لیکن وہ مسلسل بولے چلے جا رہا تھا. انجیلا میرے جذبات بھانپ گئی اسی لئے اس نے مارٹن کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا: ڈارلنگ، کیوں نہ اب اپنے مہمانوں کو گھر کا ٹور کروایں.
اب تو واقعی میں بھی تنگ آ گئی تھی مارٹن کی باتوں سے. وہ واقعی ہر بات کے جواب میں اتنی غیر ضروری تفصیل بتاتا تھا کہ سننے والا تنگ ہی آ جائے.
پھر ہم نے ان کے ساتھ گھر کا ٹور کیا. انہوں نے ہمیں گھر کے کمرے دکھائے. بیڈروم تو میں پہلے ہی دیکھ چکی تھی. بچوں کے سونے کا کمرہ بھی دیکھا جہاں دونوں ننھے بچے خواب خرگوش کے مزے لے رہے تھے. ننگے سوتے ہوے اتنے پیارے لگ رہے تھے کہ دل کیا ایک ایک بوسہ دونوں کو دوں. ویسے بچے تو ہر حال میں ہی پیارے لگتے ہیں خواہ ننگے ہوں یا نہ ہوں. ہم نے ان کا لان بھی دیکھا جہاں ایک بیڈمنٹن نیٹ لگا ہوا تھا. انجیلا نے کھیلنے کی دعوت دی لیکن میں نے معذرت کر لی. پتہ نہیں کیوں میرا دل اب واپس جانے کا کر رہا تھا. شہریار میری بیزاری سمجھ گیا اور ان سے اجازت لے کر ہم اپنے ہوٹل واپس آ گئے. واپسی سے پہلے مارٹن اور انجیلا نے ہمیں اپنے ساتھ ساحل سمندر پر جانے کی دعوت دے ڈالی جس پر میں نے انکار تو نہیں کیا لیکن حامی بھی نہیں بھری. کپڑے پہن کر ہم واپس ہوٹل آ گئے. کھانا کھایا اور اپنے کمرے میں آ گئے جہاں شہریار مجھے چودنے کی تیاری کئے بیٹھا تھا.
شہریار نے مجھے کمرے میں داخل ہوتے ہی پکڑ لیا تھا اور وحشیوں کی طرح چمیاں کرنے لگا تھا. اب جا کر اس کا جھاکا کھلا تھا. اپنی پسند کی شادی ہو یا والدین کی پسند کی شادی ہو، شادی سے پہلے لڑکا لڑکی ایک دوسرے کو جانتے ہوں یا نہ جانتے ہوں، اگر شادی کی پہلی رات دونوں کا سیکس کا پہلا تجربہ ہے تو یہ بات یقینی ہے کہ شرم حیا ضرور آڑے آتی ہے. اگر لڑکا اور لڑکی دونوں پہلے ہی ایک دوسرے کے ساتھ سیکس کر چکے ہیں تو پھر تو یقیناً سہاگ رات میں بھی کھل کر سیکس کریں گے لیکن میرا اور شہریار کا معاملہ یہ نہیں تھا. میں حد سے زیادہ بولڈ ہونے کے باوجود شادی کی رات تک کنواری تھی اور شہریار نے بھی اپنی ورجنٹی یعنی کنوار پنے کو میرے لئے سنبھال کر رکھا تھا. ویسے مجھے شہریار پر اب فخر محسوس ہو رہا تھا کیوں کہ اب یہ جو معلوم ہو گیا تھا کہ وہ ننگا طرز زندگی اپنا چکا ہے. ظاہر ہے، لوگوں کی موجودگی میں ننگا ہونے پر کسی بھی لڑکی کو دیکھ کر دل تو للچا ہی سکتا ہے. اور ویسے بھی انگریزوں کا کیا اعتبار. یہ لوگ تو شادی سے پہلے بھی سیکس کے قائل ہیں. ایسے میں شہریار کا سیکس سے بچے رہنا واقعی ہمت کا کام تھا. اگرچہ میری اپنی زندگی میں کئی مواقع ایسے آے تھے جب میں تقریباً بہک ہی گئی تھی لیکن پتہ نہیں کیسے سیکس سے خود کو محفوظ رکھ پائی.
یہ بتانے کا مقصد صرف یہ ہے کہ سہاگ رات پر شہریار اور میں جتنے شرمیلے تھے اور جھجھک جھجھکک کر سیکس کر رہے تھے، اب ہم دونوں اس کے بلکل متضاد تھے اور اپنی پیاس کو بجھانے کے لئے ہر حد تک جانے کو تیار تھے. دراصل سہاگ رات ہر لڑکی کے لئے یادگار ہوتی ہے. لڑکوں کے لئے بھی ہوتی ہو گی لیکن لڑکی ہونے کے ناطے یہ میں یہ وثوق سے کہ سکتی ہوں کہ کنواری لڑکیوں کے لئے یہ رات ساری زندگی بھولنا نہ ممکن ہوتا ہے. میری سہاگ رات کچھ اسلئے ہی زیادہ رومانٹک تھی کہ شہریار اور میں نے ساری رات باتیں کیں اور مارے شرم کے شہریار کچھ کر ہی نہیں پا رہا تھا. میں تو دل ہی دل میں یہ سوچ چکی تھی کہ کچھ نہیں ہونے والا لیکن نہ جانے شہریار میں اتنی ہمّت کہاں سے آ گئی کہ اس نے میرا بوسہ لے لیا ہونٹوں پر. میں نے شرم سے آنکھیں بند کر لی تھیں. اس کے بعد ہم نے سیکس کیا جو اپنی جگہ خود ایک مزاحیہ قصّہ ہے. مختصر یہ کہ شہریار نے میری شلوار اتاری لیکن پوری نہیں. گھٹنوں تک اتاری اور جب اپنا لنڈ ڈالنے لگا تو لنڈ کھڑا ہی نہ ہو. بیچارہ اتنا پریشان ہوا تھا. کمرے میں ہلکی روشنی والا بلب جل رہا تھا جس سے مجھے اس کے چہرے کے تاثرات صاف نظر آ رہے تھے. بڑی مشکل سے اس نے لنڈ کھڑا کیا اور اندر ڈالا. مجھے اتنی تکلیف ہوئی کہ برداشت کرنے کے باوجود منہ سے آہ نکل گئی. آہ نکلنی تھی کہ وہ بیچارہ بھی ڈسچارج ہو گیا. اور ہم دونوں پھر سے لیٹ گئے. یہ رات کے آخری پہر ہوا تھا. نا تو میں سہاگ رات میں اس کا لنڈ دیکھ پائی نہ ہی وہ میرے ممے یا چوت دیکھ پایا. میں شادی سے پہلے یہ ہی سوچتی تھی کہ سہاگ رات پر نہ جانے کیسا سیکس ہو گا. پورن فلموں میں جو کچھ دیکھا تھا، میرا خیال تھا کہ وہی سب کچھ ہو گا کیوں کہ شہریار یورپ کا تعلیم یافتہ لڑکا اور میں بھی اچھی خاصی ماڈرن لڑکی، بھلا ہم دونوں میں کیا چیز آڑے آ سکتی ہے.

Wednesday, 16 October 2024

ہنی مون ان جرمنی Part 3

 کسی کے سامنے ننگا ہونا بذات خود ایک مشکل عمل ہے لہٰذہ ننگے ہو کر بے تکلفی سے ایک دوسرے سے باتیں کرنا کسی ایسے شخص کے لئے جو ساری زندگی پاکستان جیسے ملک میں رہی ہو جہاں بازو ننگے کرنے پر بھی فساد کھڑا ہو سکتا ہے، کافی مشکل بلکہ تقریباً نا ممکن کام ہے. اس کے باوجود میں ننگی ہو گئی. سب کے سامنے ننگی ہونے کا حوصلہ نہ تھا مجھ میں. انجیلا کے ساتھ علیحدہ کمرے میں جا کر اپنے متوازن جسم کو کپڑوں کی قید سے آزاد کروایا. دل ہی دل میں یہ بھی شکر ادا کیا کہ میرے پیریڈز نہیں چل رہے تھے. میرا جسم اگرچہ انجیلا کے گورے چٹے جسم جیسا نہ سہی لیکن خدو خال کے لحاظ سے اس کے جسم سے کہیں بہتر تھا. میں نے ہمیشہ اپنی خوراک پر توجہ دی تھی تاکہ وزن زیادہ نہ بڑھے. یونیورسٹی لائف میں بھی میں روزانہ ورزش کیا کرتی تھی. انجیلا کے منہ سے اپنے جسم کی تعریف سن کر میرا حوصلہ بڑھا تھا. کپڑوں میں جب میں گھر سے بھر نکلا کرتی تھی تو ہمیشہ مردوں کی نظروں کا مرکز ہوا کرتی تھی. شائد اسکی وجہ میرا چست لباس بھی ہوا کرتا تھا. کوئی مانے یا نہ مانے یہ سچ ہے کہ ایک لڑکی یا خاتون کو اگر کوئی مرد گھورے تو اسے پتا چل جاتا ہے. آپکو میری یہ بات شائد سچ نہ لگے لیکن میں نے خود بار ہا محسوس کیا تھا کہ مردوں کے ٹکٹکی باندھ کر گھورنے پر میرے جسم میں ایک ایسا احساس ہوتا تھا جس کو میں الفاظ میں بیان نہیں کر سکتی. یہاں موجود خواتین میری بات سے اتفاق کریں گی. کہنے کا مطلب صرف یہ ہے کہ اگر کوئی مجھے ہوس ناک نظروں سے گھورے یا ویسے ہی نگاہ ڈالے، مجھے معلوم ہو جاتا تھا. کپڑوں میں ملبوس ہونے کے باوجود نوے فیصد لوگوں کی نظروں میں ہوس ہی ہوتی تھی. کپڑے اتار کر جب شہریار اور مارٹن کے سامنے آئی تو قدرتی طور پر ان دونوں کی نظریں میرے ننگے بدن پر پڑیں. اپنے شوہر کا تو مجھے اندازہ تھا اور اسکی نظریں مجھے ہمیشہ اچھی معلوم ہوتی تھیں لیکن مارٹن کا میرے جسم کو دیکھنا ایک نیا ہی احساس تھا. اس کی نظروں میں ہوس نہیں تھی یا کم از کم مجھے تو بلکل بھی محسوس نہ ہوئی. اگر ہوس ہوتی تو کچھ اس کا اثر اس کے لنڈ پر بھی تو پڑتا نا. لنڈ تو اسکا ویسے ہی لٹکا رہا تھا. پہلی بار کسی اجنبی مرد کی نظریں میرے مکمل ننگے بدن پر پڑی تھیں اور میں یہی توقع کر رہی تھی کہ مارٹن بھی انسان ہی ہے اور انسان ہونے کے ناطے میرے سیکسی بدن کو دیکھ کر اس میں جنسی جذبات مشتعل تو ہوں گے ہی. سچی بات ہے کہ مجھے اپنے جسم کے پرفیکٹ ہونے پر اتنا یقین تھا کہ مارٹن کا لٹکا لنڈ اور اس کی ہوس سے خالی نظریں دیکھ کر مجھے کسی قدر مایوسی بھی ہوئی تھی. مارٹن کی نظریں بس ایسی تھیں کہ جیسے وہ میرے جسم کی خوبصورتی پر حیران تو ہے لیکن اس حیرانی کا تعلق میرے جنسی اعضاء سے نہیں بلکے اوور آل جسم سے ہے. میں شہریار کے پہلو میں صوفے پر بیٹھ گئی. صوفے پر اکٹھے بیٹھنے سے ہمارے بازو اور ٹانگیں بھی ایک دوسرے سے مس ہو رہی تھیں. مارٹن نے میرے صوفے پر بیٹھتے ہی انجیلا والے کلمات دہراۓ یعنی تعریف کی. مجھے اس کے منہ سے اپنے جسم کی تعریف سن کر خوشی ہوئی. کمرے سے نکلتے وقت میں کسی حد تک کنفیوز تھی لیکن جب مارٹن کا رویہ دیکھا تو کنفیوزن کافی کم ہو گئی تھی.

یہ حقیقت تھی کہ اگر مارٹن اور انجیلا کا رویہ اتنا دوستانہ نہ ہوتا تو شائد میں کبھی بھی ننگی ہونے پر راضی نہ ہوتی کجا یہ کہ خود ننگی ہونے کی پیشکش کی. یہ ان کی مہمان نوازی ہی تو تھی جس کی وجہ سے کچھ ہی دیر میں میں یہ بھول ہی گئی کہ یہاں سب ننگے بیٹھے ہیں. دراصل ان کے بات کرنے کا طریقہ ہی ایسا تھا کہ مخاطب کو مسحور کر کے رکھ دیتے تھے. حتی کہ حساس موضوعات پر بات چیت بھی ایسے انداز میں کی جاتی تھی کہ باتوں میں جنسی عنصر ناپید تھا. میں چونکہ بہت متجسس تھی اور یہاں کھل کے سب باتیں ہو رہی تھیں تو مجھ سے بھی رہا نہ گیا اور میں نے اپنے ذہن میں آنے والے سوالات ان کے سامنے رکھ دیے. اگرچہ شہریار سے میں پہلے ہی ان سوالات کے جوابات لے چکی تھی اور کسی حد تک ان سے مطمئن بھی تھی لیکن پھر بھی میں خود کو روک نہ سکی.
سب سے بڑا سوال تو یہ تھا کہ ننگے پن کو سیکس سے علیحدہ کیسے کیا جائے کیوں کہ ہمارے جنسی اعضاء کے مقصد میں سیکس بھی شامل ہے اور یہ قدرتی بات ہے کہ مخالف جنس کے ننگے بدن کو دیکھ کر انسان کے جنسی جذبات بیدار ہوتے ہیں لہٰذہ ان جذبات کو کیسے کنٹرول کیا جا سکتا ہے.
میرے سوال پر انجیلا اور مارٹن دونوں ہی مسکرا اٹھے. دراصل میری توجہ سامنے بیٹھے میزبانوں کی طرف تھی اور مجھے اس بات کا احساس ہی نہ ہوا تھا کہ شہریار کا بدن میرے بدن سے مس ہو رہا ہے اور اس وجہ سے شائد اس کے جذبات بھڑک اٹھے تھے. اسکا تنا ہوا لنڈ اس بات کا سب سے بڑا گواہ تھا. شہریار تب ہی اپنے ہاتھ لنڈ کے سامنے رکھ کر بیٹھا ہوا تھا تاکہ لنڈ کی سختی کو چھپا سکے. مارٹن اور انجیلا چونکہ بلکل سامنے بیٹھے تھے اسلئے چھپانے کے باوجود شہریار کا لنڈ ان کی نظروں سے مکمل پوشیدہ نہیں تھا. مارٹن نے مزاقاً کہا کہ شائد میں نے یہ سوال پوچھا ہی اس لئے ہے کہ میرے اپنے شوہر کے لئے ہی خود پر قابو پانا مشکل ہو رہا ہے. شہریار بیچارہ اس مذاق پر ہنسا تو تھا لیکن دل ہی دل میں شرمندہ بھی تھا. میں اس کے جذبات اچھی طرح سے بھانپ سکتی تھی. بیشک شادی کو کچھ ہی دن ہوئے تھے لیکن واقفیت اس سے پہلے کی تھی. میں یہ بھی سوچ رہی تھی کہ شہریار نے تو مجھے بتایا تھا کہ وہ لمبے عرصے سے ننگے پن کو اپنائے ہوئے ہے لیکن اگر یہ سچ ہوتا تو کیا وہ اتنی سی دیر میں اپنے لنڈ پر قابو کھو بیٹھتا؟ یا پھر شائد میری موجودگی سے نروس ہو رہا ہے. دوسری وجہ زیادہ قرین قیاس معلوم ہوتی تھی. اس لئے کہ مجھے ننگی دیکھ کر شہریار کا لنڈ بہت جلدی تن جاتا تھا. یہ بات میں علیحدگی میں کئی مرتبہ محسوس کر چکی تھی.
بہرحال، مارٹن نے میرے سوال کا جواب دینے سے پہلے مجھے سمجھایا کہ میں نے سوال میں ایک غلطی کر دی ہے. غلطی یہ تھی کہ میں نے کہا تھا کہ مخالف جنس کے ننگے بدن کو دیکھنے سے جنسی جذبات مشتعل ہوتے ہیں جبکہ حقیقت یہ نہیں تھی. حقیقت تو یہ تھی کہ کئی افراد مخالف جنس کی بجائے اپنی ہی جنس کو دیکھ کر زیادہ جوش محسوس کرتے ہیں. مجھے یہ بات معلوم تو تھی لیکن میں نے ہمیشہ یہی سمجھا تھا کہ یہ کام نیچرل نہیں ہے بلکہ خود ساختہ ہے. اب جب مارٹن نے وضاحت کی تو مجھے معلوم ہوا کہ کئی افراد قدرتی طور پر ایسے ہوتے ہیں کہ انہیں مخالف جنس میں کوئی کشش محسوس ہی نہیں ہوتی خواہ مخالف جنس ننگی ہی کیوں نہ ہو. اس نے مجھے اپنے دوستوں کی مثالیں دیں جو کہ ہم جنس پرست تھے اور کئی مرتبہ شراب خانوں میں خوبصورت خواتین نے انہیں لائن مارنے کی کوشش کی لیکن ان پر اسکا اثر بالکل نہیں ہوتا تھا. اس کے برعکس کسی خوبصورت مرد کو دیکھ کر ان کے لنڈ بےچین ہو جاتے تھے. اسی طرح خواتین کے ساتھ بھی ہوتا ہے.
میرے لئے یہ معلومات نئی تھیں اس لئے میں کافی دلچسپی سے سن رہی تھی. شہریار بھی خوش تھا کہ توجہ میری طرف تھی سب کی کیوں کہ ننگا طرز زندگی اپنانے والوں میں لنڈ کا تناؤ اچھی نظروں سے نہیں دیکھا جاتا. مارٹن نے اپنی بات جاری رکھتے ہوے یہ بھی بتایا کہ بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو دونوں جنسوں سے کشش محسوس کرتے ہیں، انہیں بائی سیکچول کہا جاتا ہے. مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے بات کاٹ کر پوچھ لیا: میں آپ کی باتیں سمجھ گئی ہوں لیکن اس بات کی اب تک سمجھ نہیں آ رہی کہ آپ لوگوں کو اپنے جسم پر اتنا کنٹرول کیسے ہے؟ کیا آپ کے جذبات خواتین کو ننگی دیکھ کر جوش میں نہیں آتے؟ اگر آتے ہیں تو لنڈ کیوں کھڑا نہیں ہوتا؟ اور اگر نہیں آتے تو کیوں نہیں آتے؟ کیا آپ بس اپنی بیوی کی جانب ہی کشش محسوس کرتے ہیں؟ ایسا کیوں ہے؟
میں نے تو سوالات کی بوچھاڑ ہی کر دی تھی لیکن ان دونوں کہ چہروں پر اب بھی سوائے مسکراہٹ کے اور کچھ نہ تھا. ایسی مسکراہٹ جو کسی طالب علم کے بے وقوفانہ سوالات پر استاد کے چہرے پر آ جاتی ہے. شہرہے بیچارے کے ساتھ اچھی نہیں ہوئی. اس سے پہلے کی گفتگو کے دوران اسکا لنڈ سو گیا تھا لیکن جب میں نے اتنے بولڈ سوالات پوچھے تو شائد وہ اپنی بیوی کے منہ سے ایسی گفتگو سن کر پھر سے گرم ہو گیا. لیکن کسی کی بھی توجہ اس پر یا اس کے لنڈ پر نہیں تھی. انجیلا نے بتایا کہ کھانا تیار ہے باقی باتیں کھانے کی میز پر کر لیتے ہیں. بچوں کو اس نے پہلے ہی کھانا کھلا کر اور دودھ پلا کر سلا دیا تھا. ہم سب کھانے کی میز پر جا بیٹھے.

Saturday, 12 October 2024

ہنی مون ان جرمنی Part 2

 شہریار نے مجھے بتایا کہ وہ ایک طویل عرصے سے اس عادت میں مبتلا ہے کہ اسے کپڑے پہننا اچھا نہیں لگتا. میں نے کہا کہ گھر میں نہ پہنا کریں. شہریار کہنے لگا کہ یہ بات نہیں ہے بلکہ اب اسے کپڑوں سے چڑ ہو گیی ہے اور کپڑے پہننے پر اسے اپنے بدن پر خارش اور عجیب سا احساس ہوتا ہے. اس نے مجھے مزید بتایا کہ وہ اب تنہائی میں ہمیشہ ننگا ہی رہنا پسند کرتا ہے اور میرے سامنے بھی ایسے ہی رہا کرے گا. مجھے شہریار کے ننگا رہنے پر کوئی اعتراض نہیں تھا بلکہ جب انہوں نے مجھے بھی ننگی رہنے کا کہا تو میں اس پر بھی مان گیی. ظاہر ہے کہ میاں بیوی میں تو کوئی پردہ نہیں ہوتا نہ. بہرحال، باتوں باتوں میں مجھے معلوم ہوا کہ شہریار صرف تنہائی میں ہی ننگا نہیں رہتا بلکہ اس نے اپنے حلقہ احباب میں ایسے لوگ شامل کر رکھے ہیں جو اس کے ہم مزاج ہیں یعنی ننگا رہنا پسند کرتے ہیں. مجھے یہ بات بہت عجیب لگی. میں نے پوچھا کہ آپکو شرم نہیں آتی کیا؟ سب کے سامنے ننگا ہونے میں. شہریار نے جواب میں مجھے پورا لیکچر دے ڈالا. مختصراً یہ کہ اس کے نزدیک شرم ورم صرف انسانوں کی تخلیق کردہ چیزیں ہیں اور جسم کو چھپانا اس بات کی نشانی ہے کہ ہم اپنے جسم یا اس کے کچھ حصّوں پر شرمندہ ہیں حالانکہ اس میں شرمندہ ہونے والی کوئی بات نہیں. یہ اعضاء ہر انسان کے ساتھ لگے ہوتے ہیں اور ان کا بھی ایک مخصوص مقصد ہے بلکل اسی طرح جیسے باقی اعضاء کا مقصد ہوتا ہے. ناک سے سانس لیتے ہیں، منہ سے ہم کھانے پینے کے ساتھ ساتھ باتیں بھی کرتے ہیں اور دیگر کام بھی کرتے ہیں، ہاتھ پاؤں، کان، گردن، دماغ وغیرہ سب کے مقصد طے شدہ ہیں. اگر ہم ان اعضاء کے فنکشنز پر شرمندہ نہیں ہیں تو پھر چند اعضاء مخصوصہ کے فنکشنز پر کیوں شرمندہ ہیں. کیوں ہم ان اعضاء کے متعلق بات کرنے سے بھی گھبراتے ہیں. لنڈ کو لنڈ نہیں کہتے، پھدی کو پھدی نہیں کہتے. آخر کیوں؟

میرے پاس اسکی باتوں کا کوئی جواب نہیں تھا. ہم اپنے کمرے میں چلے گئے اور مجھے پتہ بھی نہ چلا کہ شہریار کب سو گیا. میں اس کے پہلو میں لیٹی اسکی باتوں پر غور کرتی رہی. کچھ ایسا غلط بھی نہیں کہا تھا شہریار نے. شائد بہ حیثیت معاشرہ ہمارے یہاں سب کی تربیت ہی ایسی ہوتی تھی کہ بچپن سے یہ ہماری گھٹی میں بیٹھا دیا جاتا ہے کہ ننگا پن ایک بری چیز ہے. بچپن میں کسی کے جسم کا ذرا سا حصّہ دیکھنے پر شیم شیم کے نعرے میرے ذہن میں گونجنے لگے۔
مجھے وہ وقت بھی یاد تھا جب پہلی بار مجھے ماہواری آنی شروع ہوئی تھی. تب بھی میں نے اپنی امی سے یہ کہا تھا کہ امی میری اس جگہ سے خون نکل رہا ہے. امی کے پوچھنے پر بھی کہ کس جگہ سے میں بس یہ ہی کہہ پائی تھی کہ جہاں سے سوسو نکلتا ہے. شہریار کے پہلو میں لیٹے ہوے اب میں یہ سوچ رہی تھی کہ آخر ان چیزوں کے نام لینے میں کیا برائی ہے. یہ سب تو قدرتی چیزیں ہیں. میرے پاس اپنے ذہن میں آنے والے سوالوں کا کوئی جواب نہیں تھا. انہی سوچوں میں گم نہ جانے کب میری آنکھ لگ گیی.
اگلے دن شہریار کے کسی دوست کے ہاں ہماری دعوت تھی. سارا دن ہم نے تفریح کی اور رات کو ان کے گھر پہنچ گئے. مجھے شہریار نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ اس کے دوست کی فیملی عملی طور پر نیو ڈسٹ ہیں اور کافی عرصے سے یہ طرز زندگی اختیار کئے ہوے ہیں. انہوں نے اپنے بچوں کی تربیت بھی اسی طرز پر کی ہے. ساری رات کی سوچ بچار اور شہریار سے کھل کر اس موضوع پر بات چیت سے اب میرا ذہن اس طرز زندگی کی لاجک سے آشنا ہو چکا تھا. اگرچہ میں اب بھی اس بات کے لئے ہر گز تیار نہیں تھی کہ کوئی بھی مجھے مکمل برہنگی کی حالت میں دیکھے لیکن دوسرے لوگوں کو برہنگی کی حالت میں دیکھنا اب اتنا ناگوار محسوس نہیں ہو رہا تھا. دراصل میرے ذہن میں برہنگی کا ایک ہی مقصد تھا یعنی سیکس. آج تک جب بھی برہنہ لوگوں کو دیکھا تھا، انہیں پورن فلموں میں مباشرت کرتے ہی دیکھا تھا. لہٰذہ قدرتی طور پر میرے ذہن کا ننگے پن کو مباشرت سے منسوب کرنا لازمی امر تھا. شہریار نے میری باتوں کو تحمل سے سنا تھا اور سچ تو یہ ہے کہ جب اس نے پہلی بار مجھے یہ بات بتائی کہ ننگے ہونے کا مقصد صرف سیکس ہی نہیں ہوتا تو میں خوب ہنسی تھی اور اسکا مذاق بنایا تھا. شہریار کا تحمل ہی تھا کہ اس نے میری مضحکہ خیز باتوں کو برداشت کیا.
بہرحال، رات کو جب ہم شہریار کے دوست مارٹن کے گھر پہنچے تو ڈور بیل دینے پر انجیلا نے دروازہ کھولا. انجیلا مارٹن کی بیوی تھی. انجیلا مکمل ننگی تھی اور اس نے گود میں اپنی بیٹی کو اٹھا رکھا تھا جس کی عمر تقریباً ڈیڑھ سال کے قریب لگتی تھی. وہ بھی مکمل ننگی تھی. اس نے نہایت گرم جوشی سے ہمارا استقبال کیا. جرمن لوگوں کا ملنے کا طریقہ ہمارے یہاں سے مختلف ہے. پاکستان میں تو خواتین صرف خواتین سے ہی ہاتھ ملاتی ہیں لیکن جرمنی میں خواتین اور مردوں کی تمیز کے بغیر سب ایک دوسرے سے ہاتھ ملاتے ہیں. اگر ملنے والے لوگوں کا درمیان بےتکلفی ہو تو ایک دوسرے کے گال پر بوسہ بھی دیتے ہیں. انجیلا نے البتہ صرف ہینڈ شیک پر ہی اکتفا کیا. ہاتھ ملانے کے بعد اس نے مارٹن کو آواز دی. مارٹن بھی ایسے ہی ننگ دھڑنگ ڈرائنگ روم سے باہر آ کر ہم سے ملا. میری نظریں خود بہ خود نیچے کی طرف تھیں. ہاتھ ملاتے وقت تو میں نے انجیلا اور مارٹن کی آنکھوں میں دیکھا تھا لیکن اس کے بعد سے میری نظریں مسلسل زمین میں گڑی تھیں. انہوں نے ہمیں ڈرائنگ روم میں بٹھایا جہاں انکا بڑا بیٹا جوزف ٹیلی ویژن پر کارٹون دیکھ رہا تھا. جوزف کی عمر چار سال تھی. جوزف اور انجیلا ایک صوفے پر بیٹھ گئے جبکہ میں اور شہریار دوسرے صوفے پر. شہریار کو تو وہ لوگ پہلے سے جانتے تھے اسلئے کافی حد تک بے تکلفی سے باتیں ہونے لگیں. میری جھکی نظروں کو البتہ زیادہ دیر تک وہ لوگ نظر انداز نہ کر سکے. شہریار نے میرا طرف کرواتے ہوئے انہیں بتا دیا تھا کہ میں ساری عمر پاکستان میں ہی رہتی آئی ہوں اس لئے میرے روئیے سے اگر انہیں نا گوری کا احساس ہو تو برا نہ مانیں. ننگے تو وہ دونوں تھے لیکن شرم مجھے آ رہی تھی. پہل انجیلا نے کی. اس نے مجھے مخاطب کر کے کہا کہ روبینہ شائد آپ ہمیں دیکھتے ہوے شرما رہی ہیں. میرے پاس جواب میں کہنے کو کچھ نہیں تھا کیوں کہ سچ تو یہی تھا کہ میں شرما رہی تھی لیکن کب تک. ایسے کسی کے گھر جا کر نظریں جھکا کر بیٹھنا ویسے بھی مروجہ آداب کے خلاف ہے. مجھے بلا آخر اپنی نظریں اٹھا کر ان کی طرف دیکھنا ہی پڑا. میں نے انہیں بتایا کہ میرا تعلق جس جگہ سے ہے وہاں پر لوگ برہنہ پن کو غلط کاموں سے منسوب کرتے ہیں اسلئے میری شرم فطری ہے اور اس پر برا نہ منایا جائے. میں نے اگرچہ انجیلا کی آنکھوں میں دیکھ کر بات کی تھی لیکن نظریں ایک ہی جگہ مرکوز رکھنا مشکل تھا اور نہ چاہتے ہوے بھی میری نظریں ہر اس جگہ پر گئیں جہاں دیکھنے سے میں احتراز برت رہی تھی. جی ہاں، آپ درست سمجھے. انجیلا اور مارٹن دونوں ہی بہت ملنسار لوگ تھے. بجائے برا ماننے کے وہ لوگ تو اس وجہ سے فکر مند تھے کہ کہیں ان کے مہمان کو کسی وجہ سے تکلیف نہ پہنچے. میں متاثر ہوے بغیر نا رہ سکی. مارٹن نے بات کو آگے بڑھتے ہوے کہا کہ میری بات درست ہے اور واقعی آغاز میں ننگے پن سے مانوس ہونا ذرا مشکل معلوم ہوتا ہے. مارٹن کی بات کو سپورٹ کرتے ہوے انجیلا نے تجویز پیش کی کہ اگر میں چاہوں تو وہ دونوں کپڑے پہننے کے لئے تیار ہیں. اب میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا تھا. یہ لوگ تو مہمان نوازی کی ہر حد کراس کرتے جا رہے تھے. انجیلا نے یہ تجویز اس لئے پیش کی تھی کہ وہ سمجھ رہی تھی کہ میزبانوں اور مہمانوں کے درمیان یہ تناؤ اسلئے بھی ہے کہ میزبانوں نے کچھ بھی نہیں پہنا جبکہ مہمان مکمل لباس میں ملبوس بیٹھے ہیں اور اس تناؤ کو دور کرنے کے لئے یا تو میزبانوں کو کپڑے پہن لینے چاہئیں یا پھر مہمان بھی کپڑے اتار کر ننگے ہو جایئں. اس سے چونکہ دونوں پارٹیاں ایک ہی حالت میں آ جایئں گی تو تناؤ اور شرم قدرتی طور پر ہی اپنے آپ ختم ہو جائے گا. اب ظاہر ہے کہ مہمانوں کو کپڑے اتارنے کی تجویز دینا تو غیر مناسب تھا، خاص طور پر ایسی صورتحال میں کہ مہمان پہلے ہی ننگے پن سے شرم محسوس کر رہی ہو. بہرحال، اسکی تجویز پر میں دل میں بہت شرمندہ ہوئی. یہ سوچ بھی میرے ذہن میں بار بار آ رہی تھی کہ شہریار کو بھی میری وجہ سے شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے. ان سب سوچوں کے جنجھٹ سے چھٹکارا پانے کے لئے میں نے وہ فیصلہ کیا کہ جسکی توقع مجھے اپنے آپ سے بھی کبھی نہیں تھی. میں نے انجیلا کی بات کے جواب میں اسے کہا کہ انہیں کپڑے پہننے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیوں کہ کسی مہمان کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی کے گھر جا کر ان کا رہن سہن کا طریقہ تبدیل کرے بلکہ مناسب یہ ہے کہ مہمانوں کو میزبانوں کے رنگ میں ڈھل جانا چاہئے کم از کم جب تک وہ مہمان ہیں تب تک لہٰذہ شہریار اور میں بھی اپنے کپڑے اتار دیتے ہیں تاکہ ہم ایک دوسرے سے کھل کر بات چیت کر سکیں کسی رکاوٹ کے بغیر. میری تجویز پر نہ صرف مارٹن اور انجیلا خوش ہوے بلکہ شہریار کے چہرے کے تاثرات بھی دیدنی تھے. اس نے میری طرف پیار سے دیکھا اور میں نے اس کی نظروں سے بھانپ لیا کہ وہ کیا کہنا چاہتا ہے. ایسا لگتا تھا جیسے وہ آنکھوں سے کہ رہا ہو کہ روبینہ! مجھے تم پر فخر ہے.

Thursday, 10 October 2024

ہنی مون ان جرمنی Part 1

 میرا نام روبینہ ہے. میری عمر پچیس سال ہے. حال ہی میں شادی ہوئی ہے اور میں اپنے خاوند کے ہمراہ ہنی مون پر ہوں. میرا تعلق نسبتاً امیر گھرانے سے ہے اور جہاں میری شادی ہوئی ہے وہ ہم سے بھی زیادہ امیر ہیں. میں بچپن سے اچھے تعلیمی اداروں سے پڑھی ہوں. ہمارے گھر کا ماحول بھی کافی آزادانہ ہے. اس سے میری مراد یہ ہے کہ خیالات اور رہن سہن ایسا ہے جیسا ایلیٹ کلاس کے گھرانوں کا ہوا کرتا ہے. اتنے ماڈرن ہونے کے باوجود شادی کے بعد مجھے اپنی زندگی کا سب سے بڑا سرپرائز ملا. میں لباس میں ہمیشہ جینس اور شرٹ پسند کرتی تھی. کالج اور یونیورسٹی میں بھی میرا لباس یہ ہی تھا. لڑکوں سے دوستی بھی تھی لیکن ایک حد تک. میں نے کبھی کسی کو حد کراس نہیں کرنے دی. ایسا اس لئے کے مجھے معلوم تھا کہ اگر میں نے کوئی ایسا قدم اٹھا لیا تو پھر واپسی ممکن نہیں ہو گی. پارٹیوں میں جانا میرا معمول تھا. ویکینڈز پر ایسی پارٹیاں بھی ہوتی تھیں جہاں شراب نوشی اور دیگر نشہ اور چیزیں عام چلتی تھیں. میں نے بھی کی مرتبہ شراب پی تھی لیکن ہمیشہ اس بات کا خیال رکھا تھا کہ نشے میں آوٹ نا ہو جاؤں. سگریٹ نوشی بھی دوستوں کے ہمراہ چلتی رہتی تھی. یہ تمہید باندھنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ آپ سب کو اچھی طرح سے اندازہ ہو جائے کہ میرا لائف سٹائل کیسا تھا. ایسے بیک گراؤنڈ کی وجہ سے میں یہ سمجھتی تھی کہ مجھ سے زیادہ ماڈرن شاید ہی کوئی ہو اس ملک میں.

میری شادی بھی انتہائی ماڈرن سیٹنگ میں ہوئی تھی اور میں نے اپنے شوہر کے ہمراہ اسٹیج پر ڈانس بھی کیا تھا. مجھے اس بات کی بے حد خوشی تھی کہ میرا شوہر بھی میری طرح آزادانہ خیالات کا ملک ہے اور وہ مجھ پر کسی قسم کی پابندیاں لگانے سے گریز کرے گا. ویسے تو میں رتی برابر پریشان نہیں تھی کیوں کہ مجھے اپنی طبیعت کا بھی پتہ تھا. اگر شوہر مجھ پر پابندیاں لگاتا تو میں نے برداشت ہی نہیں کرنی تھیں. میں ان عورتوں میں سے تو تھی نہیں کہ اپنا گھر بچانے کی خاطر میں ساری زندگی شوہر کی فرمانبردار بن کر رہتی. خیر، شادی خوب دھوم دھڑکے سے ہوئی. سب رسمیں ہوئیں. سہاگ رات بھی منا لی. اگلے دن معلوم ہوا کہ میرے شوہر شہریار نے ہنی مون کے لئے جرمنی کی ٹکٹس پہلے ہی خرید رکھی ہیں. میں پاکستان سے باہر کئی مرتبہ سفر کر چکی تھی لیکن جرمنی کبھی نہیں گئی تھی. شائد شہریار کو بھی اس بات کا پتہ تھا تب ہی اس نے جرمنی کا انتخاب کیا تھا. میرا ویزہ لگنے میں ایک ہفتہ لگا اور ہم ویزہ لگتے ہی جرمنی روانہ ہو گئے. کراچی سے برلن کا سفر سات گھنٹے سے زیادہ وقت میں طے ہوا. وقت کے فرق کی وجہ سے جب ہم وہاں پہنچے تو صبح صادق کا وقت تھا. برلن کے مغربی حصّے میں ہمارا ہوٹل تھا. شائد میں ان تفصیلی باتوں سے آپ سب کو بور کر رہی ہوں لیکن معذرت چاہتی ہوں کہ میرے لکھنے کا انداز ہی کچھ ایسا ہے. جب تک باریک سے باریک باتیں بیان نہ کر دن مجھے لگتا ہے کہ میری تحریر معیاری نہیں ہے. امید ہے آپ لوگ غصہ نہیں کریں گے۔
ائیرپورٹ سے ٹیکسی لے کر ہم ہوٹل پہنچے اور کمرے میں پہنچ کر بیڈ پر گر گئے. تھکاوٹ کے باوجود ایک دوسرے سے لپٹنے پر شہوت بھڑک اٹھی اور ہم نے سیکس کیا. ویسے یہ بتاتی چلوں کہ میرا تجربہ ہے کہ سیکس کا اصل مزہ صبح کے وقت آتا ہے جب آپ سو کر اٹھیں. یہ بات نہیں کہ رات کو مزہ نہیں آتا، آتا ہے لیکن اگر صبح ہو تو دس گنا زیادہ مزہ آتا ہے. پتہ نہیں وجہ کیا ہے. ہم دونوں سیکس کر کے ایک دوسرے سے لپٹ کر سو گئے. آنکھ کھلی تو لنچ کا وقت تھا. ہم نے اکٹھے غسل کیا اور اور ہوٹل کی لابی میں لنچ کر کے روانہ ہو گئے. اس وقت مجھے بھی معلوم نہیں تھا کہ ہماری اگلی منزل کہاں ہے. شہریار سے پوچھا کہ ہم کہاں جا رہے ہیں لیکن اس نے بھی بس یہ ہی کہا کہ تھوڑا صبر کرو. مجھے بے چینی تو تھی لیکن یہ بے چینی جلد ہی شدید حیرانی میں بدل گی جب ہم اپنی منزل پر پہنچے. ہماری منزل سٹرانڈ بینڈ وانسی جھیل تھی. ابھی ہم جھیل کے ساحل تک پہنچے نہیں تھے کیوں کہ ٹیکسی نے ہمیں سرک پر اتارا تھا اور یہاں سے آدھ کلومیٹر پیدل واک تھی. جھیل کے ساحل پر لوگ دھندلے سے نظر آ رہے تھے. یہ گرمیوں کا موسم تھا. شہر یار نے پنٹس کی بجائے شارٹس پہنے تھے اور ٹی شرٹ پہنی تھی. میں نے بھی بغیر بازوں والی ٹی شرٹ پہنی تھی لیکن جینز پہنی تھیں جو کے ٹخنوں سے کچھ اپر تک تھی. جیسے جیسے ہم ساحل کے قریب ہوتے گئے ویسے ویسے ہر چیز واضح ہوتی گی. یہ گروبر جھیل کا مشرقی کنارہ تھا. شائد اپ سوچ رہے ہوں کہ جھیل میں ایسی کیا خاص بات ہو سکتی ہے لیکن خاص بات تو تھی اس جھیل میں. میں کراچی کا سمندر ہزاروں بار گھوم چکی تھی اور منوڑا، ہاکس بے، کلفٹن، سی ویو سب جگہیں میری دیکھی بھالی تھیں. وانسی جھیل ان سب جگہوں سے مختلف اور بہتر تھی. جھیل کے کنارے کیبن بنے ہوے تھے. اسی ترتیب میں آگے شاور لگے تھے. ایک سائیڈ پر واشرومز بنے ہوے تھے. کیبن اور واشروم تو ٹھیک لیکن میں کھلے میں شاور دیکھ کر حیران ہوئی لیکن میری اس حیرانگی کی جگہ ایک اور حیرانگی نے لے لی کہ جو نظارہ میری آنکھیں دیکھ رہی تھیں مجھے اس پر یقین ہی نہیں آ رہا تھا. جھیل کے کنارے بے شمار لوگ تھے. تا حد نگاہ لوگ ہی لوگ تھے. ننگے لوگ. بچے، بوڑھے، جوان، مرد، خواتین. سب کے سب ننگے. میں جو اپنے آپ کو اتنی ماڈرن سمجھتی تھی، شرم کے مارے نظریں جھکا کر شہریار سے کہنے لگی کہ واپس چلیں یہ آپ مجھے کہاں لے آے ہیں.
کوئی مانے یا نہ مانے، مشرقی لڑکی جتنی بھی ماڈرن ہو جائے، مغربی لڑکی سے مقابلہ نہیں کر سکتی. مشرقی سے میری مراد پاکستانی، بھارتی، بنگلادیشی لڑکیاں ہیں. میں اپنے آپ کو اتنی ماڈرن سمجھتی تھی. سکن ٹائٹ جینز پہن کر مالز میں گھومنا، اور لڑکوں سے کھلم کھلا ہر قسم کی بات چیت کر کے میں سمجھتی تھی کہ میں نے موڈرنزم کی ہر حد پار کر دی ہے اور لڑکے مجھے دیکھ کر آہیں بھرتے ہیں لیکن شہریار کے ساتھ اس جھیل کے کنارے پہنچ کر میں یہ سوچ رہی تھی کہ جہاں میرا موڈرنزم ختم ہوتا ہیں، ان مغربی خواتین کا موڈرنزم تو اس کے بھی بعد کہیں شروع ہوتا ہے.
شہریار میرے اسرار کے باوجود واپس جانے کی بجاے مجھے سمجھانے لگا کہ وہ پہلے سے ہی یہاں ایک کیبن بک کروا چکا ہے. میری نئی نئی شادی ہوئی تھی اور میں شادی کے شروع کے دنوں میں ہی اپنے شوہر سے لڑائی تو مول نہیں لینا چاہتی تھی. شہریار نے مجھے بتایا کہ یہ لوگ اپنی مرضی سے کپڑے اتار کر نہاتے ہیں اور حکومت کی طرف سے انہیں ایسا کرنے کی اجازت ہے. میں حیرانی سے ان لوگوں کو دیکھ رہی تھی تو شہریار نے مجھے ٹوکا کہ ایسے نہ دیکھوں کیوں کہ ایسے گھورنے سے ہو سکتا ہے کوئی برا مان جائے. پاکستان میں تو مجھے ذاتی تجربہ تھا مردوں کی نگاہوں کا مرکز بننے کا اور سچی بات ہے کہ بہت برا لگتا تھا. شہریار کی زبانی مجھے معلوم ہوا کہ یہ ضروری نہیں کہ یہاں ہر ایک کو ننگا ہونا پڑے. یہ ہر ایک کی اپنی مرضی پر منحصر ہے. میں تو سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ ایسا کرنے کا. شہریار اور میں کیبن میں آ گئے. میں کسی حد تک اپنے آپ کو سنبھال چکی تھی اور اب حیرت کم ہو گئی تھی کیوں کہ حیرت کی جگہ تجسس نے لے لی تھی. میں شہریار سے سوال کیے جا رہی تھی اور وہ میرے سوالات کا جواب دئے جا رہا تھا. ایک بات میں نے محسوس کی تھی کہ وہاں کپڑوں میں صرف میں ہی تھی. باقی سب کے سب یا تو ننگے تھے یا پھر چند مردوں اور خواتین نے انڈر ویر پہن رکھے تھے. شہریار نے مجھ سے کہا کہ اگر ہم یہاں آئیں اور بغیر نہائے واپس جایئں تو اس سے بڑی بدقسمتی نہیں ہو سکتی. میں نے پہلے تو صاف انکار کر دیا کہ میں ان ننگے لوگوں کے ساتھ کیسے نہا سکتی ہوں. بیشک میں نے کپڑے پہنے ہیں لیکن وہ سب تو ننگے ہیں نہ. میں خود تو نہانے پر تیار نہ ہوئی لیکن شہریار کو نہانے سے روکنا بھی غلط محسوس ہو رہا تھا.
میں کسی حد تک پریشان تو تھی لیکن شہریار کے حوصلہ دینے اور پھر اپنے آپ کو لوگوں کی نگاہوں کا مرکز نہ پا کر پریشانی کافی حد تک کم ہو گئی تھی. ایسا نہیں کہ کسی نے میری طرف دیکھا ہی نہیں. بہت سے لوگوں نے مجھے دیکھا بلکہ اکثر نے حیرانی سے دیکھا تھا. کراچی میں تو میں جان بوجھ کر ایسی ڈریسنگ کیا کرتی تھی کہ ہر مرد کی نظر مجھ پر پڑے تو دوسری نگاہ ڈالنے پر مجبور ہو جائے. ایسا کرنے کا مجھے تو بہت مزہ آتا تھا. یہاں بھی اپنی طرف سے تو میں نے کافی بولڈ ڈریسنگ کی تھی لیکن مجھے کیا خبر تھی کہ جہاں شہریار لے کے جا رہا ہے وہاں ڈریسنگ کا نام و نشان بھی نہیں ہو گا. ہم نے اپنا سامان کیبن میں رکھا اور ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر باہر آ گئے. شہریار نے اپنی شرٹ اتار دی اور سمندر کی لہروں میں نہانے لگا. وہ تو اپنے شارٹس بھی اتارنا چاہتا تھا لیکن میں نے اس بات کی اجازت نہیں دی کیوں کہ ماڈرن ہونے کے باوجود مجھ میں کچھ شرم باقی تھی اور میں نہیں چاہتی تھی کہ مرے شوہر کے پرائویٹ حصّوں کو اجنبی لوگ دیکھیں. میں ساحل پر کھڑی دیکھتی رہی اور شہریار نہاتے رہے. اس دن اس کے علاوہ ہم نے کچھ نہیں کیا. شہریار کے نہانے کے بعد ہم لوگ وہاں سے روانہ ہوے اور ایک اچھے سے ریسٹورنٹ میں ڈنر کر کے اپنے ہوٹل میں آ گئے.

کالج (شارلٹ اور بلال) قسط نمبر 4

 غیر ارادی طور پر شارلٹ نے اپنے دونوں ہاتھ سینے پر باندھ لئے لیکن شاہ میر فورا بول پڑا:

"یہ تو شائد پروگرام کے مطابق غلط ہے."

شارلٹ کی مسکراہٹ میں اکتاہٹ تھی. پہلے ہی تجربے میں وہ کوئی شرمیلی لڑکی کے طور پر سامنے آ رہی تھی. اب تو وہ یہ سوچ رہی تھی کہ ہو نہ ہو شاہ میر ضرور پہلے سے اسکا یہاں انتظار کر رہا ہو گا کہ کب وہ اپنا ننگا بدن لے کر یہاں آتی ہے. عام حالت میں تو وہ کبھی بھی شاہ میر کو اپنے ممے کسی قیمت پر نہ دکھاتی لیکن اب اسے بغیر کسی قیمت کے یہ کام کرنا پڑ رہا تھا. اس نے ہاتھ بندھے رکھے لیکن مموں سے ذرا نیچے تاکہ اس کے گول مٹول سڈول ممے کسی کی نظروں سے پوشیدہ نہ رہیں. شارلٹ کی اس ادا میں یہ بات واضح تھی کہ شاہ میر کی فرمائش پوری کرنے میں اسکی رضا مندی شامل نہیں تھی. 

"جس طرح تم نے میرے لئے انہیں اٹھا کر رکھا ہے، اس سے تو ان کی خوبصورتی اور بڑھ گئی ہے." شاہ میر کے الفاظ میں شارلٹ کے مموں کے لئے تعریف تھی لیکن شارلٹ نے تو محض بازو باندھے تھے اور وہ بھی شاہ میر کی فرمائش پر نہیں. ارادتا نہ سہی لیکن ایسے بازو باندھنے پر اس کے دودھیا رنگ کے نرم ملائم ممے ذرا اوپر اٹھ سے گئے تھے جس سے مموں کی کشش مزید بڑھ گئی تھی.

کافی ہمت کر کے شارلٹ نے اپنے بازو علیحدہ کئے اور سائیڈوں پر گرا دئے. دیکھا جاۓ تو یہ ایک طرح سے اعلان شکست تھا. اگر صرف ایک دن پہلے شاہ میر نے شارلٹ کے مموں کی تعریف کی ہوتی تو جوابا اسے تھپڑ رسید ہوتا لیکن یہاں تھپڑ تو دور کی بات ہے، شارلٹ اونچی آواز میں بات تک نہیں کر سکتی تھی. پروگرام کے اصولوں میں سے ایک یہ بھی تھا کہ کسی فرمائش پر ممبر کو غصہ نہیں کرنا بلکہ شائستگی سے بات کرنا ہو گی. شارلٹ کو پتہ تو تھا کہ یہ آسان نہیں ہو گا لیکن عملا تجربہ کر کے اسے اصل مشکل کا احساس ہو رہا تھا.

"شکریہ شاہ میر! مجھے خوشی ہے کے تمھیں پسند آے" شارلٹ نے کہا.

شاہ میر کے لئے اس کا جواب غیر متوقع تھا. وہ تھوڑا سا گڑبڑا سا گیا. شارلٹ نے بھی یہ نوٹس کیا اور فورا موقع سے فائدہ اٹھاتے ہے بولی:

"شاہ میر، میں پروگرام کی دوسری ممبر ہوں اور مجھے اس پر فخر ہے."

"ہاں ہاں. فخر تو تمھارے تنے ہوے نپلز سے صاف نظر آ رہا ہے" شاہ میر کے جواب نے شارلٹ کا چہرہ شرم سے لال کر دیا اور اس نے سر جھکا لیا. مموں پر نظر پڑی تو اسے اندازہ ہوا کے نپلز بہرحال تنے ہوے ہی تھے لیکن مسلہ یہ تھا کہ بلال کے لن کی طرح ٹھنڈے پانی کے رومال سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑنے والا تھا. بلکہ یہ صبح صبح ٹھنڈی فضا ہی تھی جس کی وجہ سے یہ تنے تھے. بے اختیار شارلٹ کا خیال اس بات پر گیا ٹھنڈ سے لڑکوں کا لن سکڑتا ہے جبکہ لڑکیوں کے نپلز تن جاتے ہیں. شارلٹ نے سوچا اپنے ریسرچ پیپر میں اس بات پر بھی تحقیق کرے گی.

شاہ میر کے تبصرے نے سیکورٹی گارڈ کو ایک قدم آگے آنے پر مجبور کر دیا کیونکہ پرگرام ممبرز کے جسمانی اعضاء کا مذاق بنانے کی اجازت بہرحال کسی کو نہیں تھی اور شاہ میر کے لہجے میں کسی حد تک مذاق بھی تھا. پھر بھی سیکورٹی گارڈ کو یقین نہیں تھا کہ خلاف ورزی ہوئی ہے اسلئے اس نے شاہ میر کو روکا نہیں.

"نپلز ہی نہیں، تمہاری ٹانگوں کا درمیانی حصّہ بھی بہت اچھا لگ رہا ہے" شاہ میر نے لفظ پھدی استعمال نہ کرنا ہی مناسب سمجھا. 

شاہ میر کے یکے بعد دیگرے تبصروں پر شارلٹ کا دل چاہا کے اپنا جسم اسکی نظروں سے چھپا لے لیکن یہ پروگرام کے اصولوں کی خلاف ورزی ہوتی. لہٰذہ اس نے کچھ نہیں کیا اور ایسے ہی کھڑی رہی. اسے معلوم تھا کہ شاہ میر جان بوجھ کر اسے تنگ کر رہا ہے. اب شارلٹ کو اس بات پر بھی غصہ آ رہا تھا کہ اس نے صبح صبح اپنی پھدی کے بال کیوں صاف کئے. کچھ بال ہوتے تو شائد حالات بہتر ہوتے. لیکن پھر اچانک اس کے ذہن میں پرنسپل آفس والا سین گھوم گیا.

"پرنسپل کو بھی اچھی لگی تھی" شارلٹ نے کہا.

"ہاں ظاہر ہے. لگی ہو گی." شاہ میر نے جواب دیا.

شارلٹ نے بات تو کر دی لیکن پھر خود ہی جھینپ گئی. دراصل پرنسپل کا حوالہ دینا وہ بھی پھدی پسند کرنے کے متعلق، یہ کچھ غیر مناسب بات تھی. اگرچہ پرنسپل کی تو یقیناً کوئی غلط نیت نہیں تھی. وہ تو شارلٹ کے بارے ایسا سوچ نہیں سکتے تھے. اتنے معزز استاد تھے. شائد شاہ میر کے سامنے ننگی کھڑی ہونے کا اثر اس کے دماغ پر ہونے لگا تھا. شارلٹ نے سوچا اسے اپنی ہمت مجتمع کرنی چاہئے. اپنے پہلے ہی امتحان میں یوں شرمندہ ہونا اسے زیب نہیں دیتا. اس نے ہونٹوں پر مسکراہٹ لا کر شاہ میر کو جواب دیا:

"مجھے امید ہے شاہ میر کہ تمھیں بھی میری پسند آئ ہو گی. بالوں کے بغیر زیادہ اچھی لگتی ہے نا"

شارلٹ کی بات سے شاہ میر کو چپ لگ گئی. جوزف اور پیٹر دونوں ہنس رہے تھے لیکن پتا نہیں کس بات پر کیونکہ شارلٹ کی چکنی بنا بالوں والی پھدی کے نظارے میں تو ہنسنے والی کوئی بات نہیں تھی. شائد نروس تھے بیچارے. شارلٹ کی تو یہی سمجھ میں آیا.

"شارلٹ کیا تم میرے لئے ایک پوز بناؤ گی؟" شاہ میر کی بات شارلٹ کے لئے متوقع تھی. ظاہر ہے وہ یہ موقع کیوں ہاتھ سے جانے دے گا. 

"ہاں ہاں شاہ میر. کیوں نہیں. بتاؤ کیسا پوز پسند کرو گے؟" شارلٹ نے پوچھا. زبان سے تو الفاظ ادا کر دئے لیکن اسے یقین نہیں تھا کہ وہ کیا کہے جا رہی ہے. لگتا ہے کپڑے اتارنے سے اس کی سوچ میں کافی تبدیلیاں آ رہی تھیں اور آنے والا دن کافی رنگین گزارنے والا تھا.

"اگر تمھیں برا نہ لگے تو." شاہ میر نے احتیاط برتنا ہی مناسب سمجھا. "کیا تم میرے لئے ایسے پوز بنا سکتی ہو جیسے کوئی شہزادی اپنا لباس اٹھا کر اپنا جسم بادشاہ کو پیش کر رہی ہو"

"لیکن میں نے تو کوئی لباس پہنا ہی نہیں" شارلٹ نے کہا.

"ہاں مجھے پتہ ہے لیکن فرض کر لو" شاہ میر نے کہا.

شارلٹ نے گہری سانس لی جس سے اس کے تنے ہوے ممے کچھ اور ابھر گئے. ہونٹوں پر میٹھی سی مسکراہٹ سجا کر اپنے اندرونی جذبات چھپاتے ہوے اس نے شاہ میر کے لئے پوز بنایا جیسے وہ اپنی قمیض اٹھاۓ اپنا جسم بادشاہ سلامت کو پیش کر رہی ہو.

جوزف نے نظریں ہٹا لیں کیونکہ اسے اندیشہ تھا کہ اسکا لن کھڑا ہو جاۓ گا.

شارلٹ نے یہ بات نوٹس کی اور اسے اچھا لگا کہ کم از کم کسی کو تو احساس تھا. لیکن دوسری طرف اسے یہ بات بھی یاد تھی کہ پروگرام کے مطابق سب کو اپنے خوف کا سامنا کرنا چاہئے. 

"ایسے ہی رہنا کچھ دیر. تم ایسے بہت پیاری لگ رہی ہو." شاہ میر نے کہا.

شارلٹ کی بھنویں چڑھ گیں اور ہونٹوں پر سے مسکراہٹ غائب ہو گئی. ایک تو پوز ہی عجیب تھا. ہوا میں ہاتھ بلند کئے ایک ٹانگ اٹھانے سے اس کی پھدی تھوڑی سی کھل گئی تھی، اوپر سے اس پوز میں وہ خود کو شہزادی سے زیادہ بندی محسوس کر رہی تھی. جیسے کوئی غلام.

ان تین لڑکوں نے تو اسے نچا کر رکھ دیا تھا. پیٹر کی پتلون میں اسے لن کا ابھار صاف نظر آ رہا تھا. 

پتہ نہیں کتنی دیر تک یوں پوز بنا کر رکھنا تھا اسے. 

"بہت خوب شارلٹ. اتنا زبردست نظارہ کروانے کا شکریہ. اب ذرا رخ دوسری طرف کرو اور اپنے چوتر کھول کر دکھاؤ. میں ہمیشہ سے تمھارے چوتروں کے درمیان دیکھنا چاہتا تھا." شاہ میر نے کہا.

شارلٹ بے اختیار مسکرا اٹھی کہ کم از کم پوز سے تو جان چھوٹی.

اس سے پہلے کہ شارلٹ نیا پوز بناتی، سیکورٹی گارڈ بول اٹھا:

"بس بچو. ایک ہی پوز کی اجازت ہے. دوسرے پوز کی فرمائش کی اجازت نہیں ہے."

"اچھا چلیں جوزف تو کر سکتا ہے نہ فرمائش دوسرے پوز کی؟" شاہ میر نے پوچھا.

"نہیں" سیکورٹی گارڈ نے کور جواب دے دیا: "ایک وقت میں ایک ہی پوز. اب چلو اپنی کلاس میں جو. ہم خود بھی لیٹ ہو رہے ہیں"

شارلٹ کے چہرے پر تو مسکراہٹ چھا سی گئی. وہ  آج تک کبھی کسی کلاس میں لیٹ نہیں ہوئی تھی اور آج بھی لیٹ ہونے کا اس کا کوئی ارادہ نہیں تھا.شارلٹ نے تیز تیز قدم بڑھاۓ اور بلال اس کا ساتھ دینے لگا. شاہ میر اور اس کے دوست پیچھے سے شارلٹ کے ہلتے مٹکتے چوتڑ دیکھ  کر رہ گئے. شاہ میر نے پتلون میں ہاتھ ڈال کر لن کو ہاتھ لگایا. شارلٹ کی چکنی پھدی کا نظارہ وہ کبھی نہیں بھول پاۓ گا. اس نے سوچا.


Tuesday, 8 October 2024

کالج (شارلٹ اور بلال) قسط نمبر 3



 شارلٹ نے گہری سانس لی اور اپنی پیٹھ دونوں مردوں کی طرف کر کے بلاؤز اتار دیا۔ اسے احتیاط سے تہہ کر کے 

صوفے کے 

ہینڈل پر رکھ دیا اور پھر سکرٹ کی زپ کھول کر اسے فرش پر گرنے دیا۔ اب وہ صرف سفید رنگ کی میچنگ برا

 اور پینٹی میں 

ملبوس تھی اور اسے دونوں مردوں کی آنکھیں اپنے جسم میں گڑی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں۔


اس کی پینٹی کوئی بہت سیکسی تو نہیں تھیں لیکن مکمل سفید رنگ معصومیت کا تاثر دیتا تھا جو اپنی جگہ خود ایک پرکشش چیز تھی۔ 
جب وہ سکرٹ اٹھانے کیلئے جھکی تو اس کے چوتڑوں کی بناوٹ مزید عیاں ہو گئی۔

شارلٹ نے سکرٹ اٹھا کر بلاؤز کے ساتھ رکھا اور ذرا سا جھک کر مڑ کر دونوں مردوں پر ایک اچٹتی نظر ڈالی جو اس کے یوں مڑنے پر گڑبڑا کر رہ گئے تھے۔ انہیں شارلٹ کا مڑ کر دیکھنے کا مقصد تو سمجھ نہیں آیا تھا لیکن ایسے مڑنے سے اس کے جسم کے اتار چڑھاؤ بہرحال دونوں کے سامنے آ گئے تھے۔ شارلٹ کو تو پہلے ہی پتہ تھا کہ وہ دونوں اس کے جسم کو ہی گھور رہے ہوں گے۔ کوئی بھی مرد ایسی صورتحال میں اپنے آپ کو کنٹرول نہیں کر سکتا۔ لیکن اس کے باوجود اس کے ذہن میں کہیں نہ کہیں کوئی خوف ضرور تھا کہ کیا وہ واقعی اس سب کیلئے تیار تھی۔ کہیں وہ ضرورت سے زیادہ کانفیڈنس کا شکار تو نہیں ہے۔ یہ آخری موقع تھا اس کے پاس واپسی کا لیکن اگر واپس ہی جانا ہوتا تو یہاں تک آتی ہی کیوں۔ شارلٹ نے گہری سانس لے کر برا کا ہک کھول دیا اور تھوڑا سا جھک گئی تاکہ برا کو بازؤوں کے رستے اتار سکے۔ برا اتار کر سیدھی کھڑی ہوئی اور ایک نظر اپنے چھوٹے چھوٹے مموں پر ڈالی۔ پتہ نہیں اسے اپنے ممے چھوٹے کیوں لگتے تھے۔ خدیجہ سے تو بہرحال چھوٹے تھے لیکن اتنے بھی نہیں۔ شارلٹ بس یہ چاہتی تھی کہ مموں کے سائز کی وجہ سے پڑھائی یا تجربے میں کوئی فرق نہ پڑے۔ وہ ایک کانفیڈنٹ سٹوڈنٹ تھی اور بڑی ہو کر ایک کامیاب سائنسدان بننا چاہتی تھی۔ ایسے اپنے مموں کے سائز پر پریشانی محسوس کر کے اسے اپنے اوپر ہنسی آ گئی لیکن اس نے اپنے آپ پر کنٹرول رکھا۔
دونوں انگوٹھے اپنی پینٹی کی سائیڈز میں گھسا کر پینٹی اتارنے کیلئے جھک گئی۔ پینٹی اترنے پر پہلی بار اس کی پھدی دونوں مردوں کے سامنے عیاں ہوئی اور دونوں کے لن سخت ہو گئے۔ پینٹی اتار کر وہ کھڑی ہو گئی اور منہ ان دونوں کی طرف کر لیا۔
"شارلٹ آپ بہت خوبصورت ہیں۔ بہت خوبصورت۔ " پرنسپل نے شارلٹ کے بدن کی تعریف کی۔
شارلٹ شرما کر رہ گئی۔ کبھی اپنے ننگے بدن کی تعریف نہیں سنی تھی۔ اب شرمانا تو بنتا تھا۔
"تھینک یو سر" شرمائے شرمائے سے انداز میں شارلٹ نے پرنسپل کا شکریہ ادا کیا۔
"بلال آپ کا کیا خیال ہے؟" پرنسپل نے بلال سے شارلٹ کے جسم بارے رائے طلب کی۔
بلال جو اس کوشش میں تھا کہ نظریں شارلٹ کے بدن سے ہٹائے رکھے لیکن مجبوراً بار بار چوری چھپے دیکھ بھی رہا تھا، اس سے جب پرنسپل نے ڈائریکٹ سوال پوچھا تو بے ربط سے انداز میں جی سر جی سر ہی کہہ سکا۔
شارلٹ کو اس کے جواب سے لگا شاید اسے شارلٹ کا جسم پسند نہیں آیا۔ اس نے اپنے ہاتھ پھدی کے سامنے باندھ رکھے تھے جو شاید پرنسپل کو پسند نہیں آیا۔
"ہاتھوں سے نہ چھپائیں پلیز شارلٹ۔"
"اوہ سوری سر۔ میں بھول گئی تھی" شارلٹ نے دل ہی دل میں خود کو برا بھلا کہا۔ ابھی پانچ منٹ بھی نہیں ہوئے تھے اور اسے پرنسپل کی طرف سے تنبیہہ مل گئی تھی۔
"شارلٹ کیا آپ نے نیچے شیو کی ہوئی ہے؟" پرنسپل نے ایک اور سوال پوچھا جس کا جواب دینے سے پہلے شارلٹ کی نظریں سیدھی اپنی پھدی کی طرف گئیں اگرچہ اسے پہلے سے پتہ تھا کہ وہاں کیا دکھے گا۔
نظریں اوپر اٹھا کر پرنسپل کی طرف دیکھتے ہوئے اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا: "جی سر۔ میں نے شیو کی تھی۔ اچھی لگ رہی ہے نا؟"
نظارہ تو واقعی قابل دید تھا۔ شیو کرنے سے اس کی پھدی جہاں چکنی چکنی لگ رہی تھی وہیں اس سے ایک معصومیت کا خوشگوار تاثر بھی ابھرتا تھا اور سچی بات یہ ہے کہ یہ معصومیت والی بات پرنسپل کو ذیادہ گرم کئے دے رہی تھی۔ ان کا لن اب مزید اکڑنے لگا تھا اور وہ نہیں چاہتے تھے کہ بچوں کو ان کی پتلون کے اوپر سے کوئی ابھار نظر آئے۔ اس لئے انہوں نے میز پر سے ایک فائل اٹھا کر اپنے دونوں ہاتھوں میں یوں تھام لی جس سے ان کی پتلون کا وہ حصہ بچوں کی نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ ایسا کر کے انہوں نے خود ہی پروگرام کا اصول توڑ دیا تھا۔
"ہاں لگ تو بہت اچھی رہی ہے لیکن شیو کی کیوں آپ نے؟" پرنسپل نے پوچھا۔
"بس سر میں نے سوچا کہ پروگرام کا مقصد جب سب کچھ دکھانا ہے تو پھر بالوں سے بھی کیوں کچھ چھپایا جائے۔" شارلٹ نے جواب دیا۔
بلال کا لن بھی شارلٹ کی پھدی کے نظارے سے تیزی سے کھڑا ہو رہا تھا۔ ایسی صاف شفاف چکنی پھدی جس پر ایک بھی بال نہیں تھا، اس نے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ شارلٹ کے برعکس وہ کنوارا نہیں تھا لیکن جن لڑکیوں کے ساتھ اس نے سیکس کیا تھا ان کی پھدی پر بھی تھوڑے بہت بال تو ہوتے ہی تھے۔ ایسی چکنی بالوں سے پاک پھدی پہلی بار ہی اس نے دیکھی تھی اور اس قدر بھائی تھی کہ اب اسے خود پر قابو رکھنا مشکل محسوس ہو رہا تھا۔
"بہت اچھا آئیڈیا ہے آپ کا شارلٹ۔ میں آپ کی سوچ سے بہت متاثر ہوا ہوں۔ آپ پروگرام کو اس کی روح کے مطابق سمجھی ہیں" پرنسپل واقعی شدید متاثر تھے لیکن ان سے ذیادہ ان کا لن متاثر تھا۔
"بلال اب آپ کی باری ہے" پرنسپل نے بلال کی جانب متوجہ ہوتے ہوئے کہا۔
شارلٹ نے ہاتھ پیچھے باندھ لئے اور فخریہ انداز میں مسکرانے لگی۔ اس کی کنفیوژن اب دور ہو گئی تھی اور پہلے جیسا کانفیڈنس لوٹ رہا تھا۔ اب اسے بے چینی تھی کہ اپنے پارٹنر کو بھی ننگا دیکھ سکے۔ اس نے زندگی میں کبھی کسی لڑکے کو ایسے ننگا نہیں دیکھا تھا۔ انٹرنیٹ پر تو دیکھا تھا لیکن اصل زندگی میں نہیں۔ جیسے بچوں کو کسی نئی چیز کیلئے خوشی ہوتی ہے، کچھ ایسے ہی جذبات شارلٹ کے بھی تھے۔ اس کے نپل آنے والے لمحات کا سوچ کر سخت ہونے لگے۔
بلال کوئی لمبا چوڑا لڑکا نہیں تھا بلکہ اس کا تو قد بھی اوسط سے کم تھا۔ محض پانچ فٹ اور تین انچ۔ لیکن اس کا جسم خوب مضبوط تھا۔ اسے اپنے طاقتور جسم پر فخر تو تھا لیکن پرنسپل اور شارلٹ کے سامنے ننگا ہونے پر وہ بھی جھجک محسوس کئے بغیر نہ رہ سکا۔
شارلٹ کی آنکھیں اس کے سینے پر جم گئیں جب بلال نے شرٹ اتاری۔ قد چھوٹا تھا لیکن بلال کا جسم کئی لڑکوں سے توانا تھا۔
"سر؟" جب انڈر وئیر اتارنے کی باری آئی تو بلال جھجکنے لگا۔
"جی بیٹا" پرنسپل نے شفقت سے پوچھا۔
"سر میں چند منٹ انتظار کر لوں" بلال نے پوچھا۔
پرنسپل سمجھ گئے کہ بلال کیوں چند منٹ انتظار کرنا چاہتا ہے۔ تاہم اگر بلال یہاں پرنسپل آفس میں اتنا شرما رہا ہے تو پھر کلاس میں جہاں کافی سارے طلبا ہوں گے وہاں بلال کی کیا حالت ہو گی۔
"بلال بیٹا میں سمجھتا ہوں لیکن گھبراؤ نہیں ۔ یہ بھی پروگرام کا ایک حصہ ہے۔ تمہیں پتہ ہے مائیکل تو سٹاف لنچ کے دوران کھڑا ہو گیا تھا اور سب کو اس نے اپنا سخت لن دکھایا تھا اور وہ بالکل بھی نہیں شرمایا تھا۔"
پرنسپل کی بات پر شارلٹ اور بلال کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ بات ہی عجیب تھی۔ بھلا لنچ کے دوران کوئی ایسا کیوں کرے گا۔
شارلٹ کو معلوم تھا کہ بلال کا لن کھڑا ہے اور وہ اسی لئے انڈر وئیر اتارنے سے ہچکچا رہا ہے۔ اس موقع پر اس نے بہتر سمجھا کہ بلال کا حوصلہ بڑھایا جائے۔
"بلال۔ تمہیں میری فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں پروگرام کے اصولوں کو اچھی طرح جانتی ہوں۔ میرے لئے تو یہ فخر کی بات ہے کہ میری وجہ سے تمہارا کھڑا ہو گیا ہے۔ یہ سب میرے لئے نیا ہے لیکن ہمیں اسے انجوائے کرنا چاہئے۔" شارلٹ نے کہا۔
پرنسپل شارلٹ کی بات پر خوش ہوئے۔ ایسا لگتا تھا جیسے شارلٹ کیلئے یہ سب کوئی نئی بات ہی نہیں۔ وہ کافی میچور لگتی تھی اپنی سوچ کے لحاظ سے۔
بلال نے چند لمحات سوچ کر رخ پھیر کر انڈر وئیر اتار دیا۔ پھر ایک لمبی سانس لے کر رخ واپس پھیر لیا لیکن ہاتھ لن پر ہی رکھے۔ اس کا لن تو واقعی کس کھمبے کی طرح کھڑا ہوا تھا۔ اتنے توانا باڈی بلڈنگ والے جسم کے ساتھ لن کھڑا کر کے وہ کوئی ماڈل ہی لگ رہا تھا۔
پرنسپل بھی اس کے لن سے متاثر تھے۔
"سب ٹھیک ہے بلال۔ ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں۔ شارلٹ کیا آپ کو اس سے کوئی مسلہ ہے؟"
شارلٹ کی نظریں تو بلال کے ہاتھوں پر ہی جم کر رہ گئی تھیں جن سے وہ لن چھپانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔
"نہیں سر۔ بالکل بھی نہیں ۔ یہ تو نیچرل بات ہے لڑکوں کیلئے۔"
"درست کہا شارلٹ۔ دیکھا بلال جب شارلٹ کو کوئی مسلہ نہیں تو کیسی پریشانی۔ چلو شاباش ہاتھ ہٹاؤ۔"
بلال کو شارلٹ کے الفاظ سے تسلی تو ہوئی تھی لیکن شرم ابھی باقی تھی۔ ڈرتے ڈرتے اس نے ہاتھ ہٹا دئیے۔
"اوہ مائی گاڈ " شارلٹ کے منہ سے بے اختیار نکل گیا۔ بلال کا لن بڑا تھا بلکہ کافی بڑا تھا۔ نہیں بلکہ بہت ہی لمبا تھا۔ پرنسپل کی اپنی آنکھیں حیرت سے پھیل گئی تھیں۔ وہ خود بھی یہ توقع نہیں کر رہے تھے کہ بلال کا لن اتنا لمبا ہو گا۔ بلال کا قد چھوٹا تھا لیکن قد کے لحاظ سے لن کافی لمبا تھا۔ کچھ دیر انہوں نے بھی بلال کے لن کا بغور معائنہ کیا۔
"سر؟" شارلٹ کے تجسس نے اسے سوال پوچھنے پر مجبور کر دیا: "کیا سب لڑکوں کا اتنا بڑا ہی ہوتا ہے؟"
یہ تو اسے پتہ تھا کہ لن کھڑا ہو تو بڑا ہو جاتا ہے لیکن بلال کا لن جتنا بڑا تھا اس کا تو اس نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔
پرنسپل نے پہلے تو اپنے آپ پر قابو پایا۔ پھر شارلٹ کو جواب دیا: "نہیں نہیں شارلٹ ۔ اکثر لڑکوں کا تو اس سے آدھا ہوتا ہے۔ بھئی بلال تم تو چھپے رستم نکلے۔ زبردست یار۔ کیا بات ہے"
بلال پرنسپل کی تعریف پر کچھ ذیادہ خوش نہیں ہوا۔ اسے پتہ تھا کہ اس کا لن عام لڑکوں کے لن سے کافی لمبا ہے۔ جن لڑکیوں سے اس نے سیکس کیا تھا سب نے ہی اس بات کا اظہار کیا تھا کہ بلال کا لن ان کی زندگی کا سب سے بڑا لن تھا۔ تاہم بلال کو اپنے لن پر کچھ ایسا فخر بھی نہیں تھا۔ ایک تو یہ کہ اتنا بڑا ہونے پر اسے لگتا تھا کہ کہیں لڑکیاں دیکھ کر ہی نہ ڈر جائیں۔ ایسا ہو چکا تھا۔ ایک لڑکی جو اس سے سیکس پر راضی تھی ، جب اس نے بلال کا لن دیکھا تو سیکس سے مکر گئی۔ ایک اور لڑکی سے جب بلال نے سیکس کی کوشش کی تو اسے اتنا درد ہوا کہ بعد ازاں اس نے بلال کا فون تک نہیں ریسیو کیا۔ مسلہ شاید یہ بھی تھا کہ بلال سیکس میں کوئی ایکسپرٹ نہیں تھا اور وہ ڈالنے سے پہلے لڑکیوں کو ذیادہ گرم نہیں کر پاتا تھا۔
"سر اتنا بھی زبردست نہیں ۔ کچھ زیادہ ہی بڑا ہے۔" بلال نے پرنسپل کو جواب دیا۔
"چلو پھر اپنا مجھے دے دو اور میرا لے لو" پرنسپل نے ازراہ مذاق کہا۔ اگرچہ پرنسپل سے ایسی بات کی توقع کسی کو نہیں تھی لیکن مذاق نے سچویشن بہرحال بہتر کر دی۔ بلال ان کی بات پر مسکرا اٹھا۔ یہ سوچ کر کہ پرنسپل کو اس کا لن اپنے لن سے بہتر لگا ہے۔
"جی سر اگر ممکن ہوتا تو میں ضرور ایسا کر لیتا۔" بلال نے مسکراتے ہوئے کہا۔
پرنسپل کو خوشی ہوئی کہ ان کے مذاق نے بلال کا حوصلہ بڑھا دیا تھا۔
"میرا خیال ہے آپ دونوں دن کے آغاز کیلئے تیار ہیں۔ کیا خیال ہے؟" پرنسپل نے کہا۔
شارلٹ کے بدن میں جیسے کرنٹ سا دوڑ گیا۔ اصل مرحلہ تو اب شروع ہونا تھا جب سب کے سامنے اسے ننگی گھومنا تھا۔ جب اس نے پروگرام میں شمولیت کیلئے اپلائی کیا تھا تو اس کی سہیلیوں نے اسے منع کیا تھا کہ ایسا کرنے پر اسے شرمندہ ہونا پڑے گا اور طلبا اس کے ننگے بدن کا مذاق بنائیں گے۔ شارلٹ کو توقع تھی کہ ایسا ہو بھی سکتا ہے لیکن پھر بھی وہ یہ سب کرنا چاہتی تھی کیونکہ ایسا کرنے کے بعد اس کا تجربہ اتنا ہو گا کہ وہ یہ سب ایک شاندار مضمون کی صورت میں لکھ سکے گی اور ایسا مضمون کسی سائنسی رسالے میں شائع ہو گیا تو ترقی کی مزید راہیں کھلنے کا امکان بھی تھا۔ شارلٹ نے یہی سوچتے ہوئے دروازے کی طرف قدم بڑھا دئیے۔
بلال اس کے پیچھے تھا۔ اس کی نظریں شارلٹ کے چوتڑوں پر تھیں جنہیں دیکھ کر اس کا لمبا اور موٹا لن پہلے سے بھی ذیادہ سخت ہو کر ہوا میں لہرانے لگا تھا۔
پرنسپل نے دروازہ کھولا اور باری باری دونوں سے ہاتھ ملا کر انہیں رخصت کیا۔


Monday, 7 October 2024

مریم شاہ (Part 12)

 اگلے ہفتے مریم نے مجھے اپنے فلیٹ کا کارڈ اور ایک چابی دے دی۔ میں نے ریسٹورنٹ کو نوکری چھوڑنے کا نوٹس دے دیا۔ ہاسٹل کا کمرہ البتہ میں نے بدستور اپنے نام پر بک رکھا۔ شاید اب بھی میرے دل میں یہ شبہ تھا کہ کہیں مریم کے ساتھ تعلقات میں خرابی نہ ہو جائے اور اگر ایسا ہوا تو ہاسٹل کی شکل میں کم از کم رہنے کہ جگہ تو میسر ہو گی نا۔ لیکن میرا یہ فیصلہ غلط ثابت ہوا۔ میں مریم کا فلیٹ استعمال کرنے لگا۔ اس فلیٹ میں علیحدہ سٹڈی روم بھی تھا جہاں بیٹھ کر میں اب دوپہر کو پڑھا کرتا تھا۔

مریم ایک مرتبہ مجھے ساتھ لے کر اسی پرانے ریسٹورنٹ گئیں۔ فاخرہ کو دیکھ کر میں جھینپ سا گیا لیکن فاخرہ مجھے مریم کے ساتھ دیکھ کر خوش ہوئی۔ اس نے واپسی پر مجھے گڈ لک بھی کہا تھا۔ میں اس کے رویے میں تبدیلی پر حیران تھا لیکن خوش بھی تھا۔
مریم مجھے اپنی فیملی سے ملوانے بھی لے گئیں۔ ان کی والدہ کافی بزرگ تھیں اور وہ سمجھ بھی نہیں سکی تھیں کہ مریم اور میرے درمیان کیسے تعلقات ہیں۔
میں نے بھی اپنے والدین کو بتایا کہ مجھے ایک لڑکی پسند آ گئی ہے اور وہ عمر میں مجھ سے بڑی ہے۔ والدین نے گھر بلایا تو میں مریم کو ساتھ لے گیا لیکن وہاں جاتے ہوئے میں بری طرح نروس تھا کیونکہ مریم کوئی لڑکی نہیں بلکہ اچھی خاصی میچور خاتون تھیں۔ بہرحال مریم جس طرح تیار ہوئی تھی اور جس طرح کا انہوں نے رویہ رکھا، میرے والدین نے کوئی بڑا اعتراض نہیں کیا۔ وہ اپنے بیٹے کی خوشی میں خوش تھے۔
میں نے اپنی ڈگری بھی مکمل کر لی اور مریم نے مجھے حبیبہ کی جگہ آپریشنز کے شعبے میں ڈائریکٹر لگنے کی پیش کش کر دی کیونکہ حبیبہ اب ریٹائرمنٹ لے رہی تھی۔ میں نروس تھا کہ کہیں بنا بنایا بزنس نہ بگاڑ کر رکھ دوں لیکن مریم نے میری خوب حوصلہ افزائی کی۔
میں اپنے اور مریم کے بارے میں تو بتانا ہی بھول گیا۔ جب پہلی بار میں نے ان کی گانڈ ماری تھی، اس کے کچھ ہی دیر بعد میں نے ان سے اپنے دلی جذبات کا کھل کر اظہار کر دیا تھا۔ میں نے انہیں بتایا تھا کہ میں ان پر مر مٹا ہوں اور ان سے بے پناہ محبت کرنے لگا ہوں۔ مریم نے کہا کہ یہ احساسات دو طرفہ ہیں اور وہ بھی میرے بارے میں ایسا ہی محسوس کرتی ہیں۔ انتہائی رومینٹک سین تھا وہ۔
اب دو سال گزر چکے ہیں اور ہم دونوں کے درمیان محبت انتہاؤں کو چھو رہی ہے۔ ہر بار ہمارا سیکس ایسے ہوتا ہے جیسے دوبارہ ہمیں موقع ہی نہیں ملے گا۔ میرا دل ان کے سیکسی جسم سے کبھی بھرتا ہی نہیں ہے۔
مریم کو البتہ ذرا رف سیکس پسند ہے اس لئے اب ہم اکثر نئی نئی چیزیں ٹرائی کرتے ہیں مثلاً ان کے چوتڑوں پر تھپڑ یا پھر ان کے ہاتھ پاؤں باندھ کر سیکس کرنا۔ ہم نے سیکس ٹوائز بھی خرید لئے ہیں جنہیں ہم اکثر دوران سیکس استعمال کرتے ہیں۔ ہفتے میں ایک یا دو بار مریم مجھ سے گانڈ ضرور مرواتی ہیں خاص طور پر تب جب وہ خود اپنی پھدی میں ڈلڈو گھسائے خود لذتی کر رہی ہوتی ہیں۔
ختم شد
_______________________________________


ہنی مون ان جرمنی Part 4

  پتہ نہیں یہ مارٹن کی عادت تھی کہ ہر سوال کے جواب میں تقریر جھاڑ دیتا تھا یا پھر میری وجہ سے ایسا کر رہا تھا لیکن میں نے چپ چاپ اسکی باتیں ...