Wednesday, 16 October 2024

ہنی مون ان جرمنی Part 3

 کسی کے سامنے ننگا ہونا بذات خود ایک مشکل عمل ہے لہٰذہ ننگے ہو کر بے تکلفی سے ایک دوسرے سے باتیں کرنا کسی ایسے شخص کے لئے جو ساری زندگی پاکستان جیسے ملک میں رہی ہو جہاں بازو ننگے کرنے پر بھی فساد کھڑا ہو سکتا ہے، کافی مشکل بلکہ تقریباً نا ممکن کام ہے. اس کے باوجود میں ننگی ہو گئی. سب کے سامنے ننگی ہونے کا حوصلہ نہ تھا مجھ میں. انجیلا کے ساتھ علیحدہ کمرے میں جا کر اپنے متوازن جسم کو کپڑوں کی قید سے آزاد کروایا. دل ہی دل میں یہ بھی شکر ادا کیا کہ میرے پیریڈز نہیں چل رہے تھے. میرا جسم اگرچہ انجیلا کے گورے چٹے جسم جیسا نہ سہی لیکن خدو خال کے لحاظ سے اس کے جسم سے کہیں بہتر تھا. میں نے ہمیشہ اپنی خوراک پر توجہ دی تھی تاکہ وزن زیادہ نہ بڑھے. یونیورسٹی لائف میں بھی میں روزانہ ورزش کیا کرتی تھی. انجیلا کے منہ سے اپنے جسم کی تعریف سن کر میرا حوصلہ بڑھا تھا. کپڑوں میں جب میں گھر سے بھر نکلا کرتی تھی تو ہمیشہ مردوں کی نظروں کا مرکز ہوا کرتی تھی. شائد اسکی وجہ میرا چست لباس بھی ہوا کرتا تھا. کوئی مانے یا نہ مانے یہ سچ ہے کہ ایک لڑکی یا خاتون کو اگر کوئی مرد گھورے تو اسے پتا چل جاتا ہے. آپکو میری یہ بات شائد سچ نہ لگے لیکن میں نے خود بار ہا محسوس کیا تھا کہ مردوں کے ٹکٹکی باندھ کر گھورنے پر میرے جسم میں ایک ایسا احساس ہوتا تھا جس کو میں الفاظ میں بیان نہیں کر سکتی. یہاں موجود خواتین میری بات سے اتفاق کریں گی. کہنے کا مطلب صرف یہ ہے کہ اگر کوئی مجھے ہوس ناک نظروں سے گھورے یا ویسے ہی نگاہ ڈالے، مجھے معلوم ہو جاتا تھا. کپڑوں میں ملبوس ہونے کے باوجود نوے فیصد لوگوں کی نظروں میں ہوس ہی ہوتی تھی. کپڑے اتار کر جب شہریار اور مارٹن کے سامنے آئی تو قدرتی طور پر ان دونوں کی نظریں میرے ننگے بدن پر پڑیں. اپنے شوہر کا تو مجھے اندازہ تھا اور اسکی نظریں مجھے ہمیشہ اچھی معلوم ہوتی تھیں لیکن مارٹن کا میرے جسم کو دیکھنا ایک نیا ہی احساس تھا. اس کی نظروں میں ہوس نہیں تھی یا کم از کم مجھے تو بلکل بھی محسوس نہ ہوئی. اگر ہوس ہوتی تو کچھ اس کا اثر اس کے لنڈ پر بھی تو پڑتا نا. لنڈ تو اسکا ویسے ہی لٹکا رہا تھا. پہلی بار کسی اجنبی مرد کی نظریں میرے مکمل ننگے بدن پر پڑی تھیں اور میں یہی توقع کر رہی تھی کہ مارٹن بھی انسان ہی ہے اور انسان ہونے کے ناطے میرے سیکسی بدن کو دیکھ کر اس میں جنسی جذبات مشتعل تو ہوں گے ہی. سچی بات ہے کہ مجھے اپنے جسم کے پرفیکٹ ہونے پر اتنا یقین تھا کہ مارٹن کا لٹکا لنڈ اور اس کی ہوس سے خالی نظریں دیکھ کر مجھے کسی قدر مایوسی بھی ہوئی تھی. مارٹن کی نظریں بس ایسی تھیں کہ جیسے وہ میرے جسم کی خوبصورتی پر حیران تو ہے لیکن اس حیرانی کا تعلق میرے جنسی اعضاء سے نہیں بلکے اوور آل جسم سے ہے. میں شہریار کے پہلو میں صوفے پر بیٹھ گئی. صوفے پر اکٹھے بیٹھنے سے ہمارے بازو اور ٹانگیں بھی ایک دوسرے سے مس ہو رہی تھیں. مارٹن نے میرے صوفے پر بیٹھتے ہی انجیلا والے کلمات دہراۓ یعنی تعریف کی. مجھے اس کے منہ سے اپنے جسم کی تعریف سن کر خوشی ہوئی. کمرے سے نکلتے وقت میں کسی حد تک کنفیوز تھی لیکن جب مارٹن کا رویہ دیکھا تو کنفیوزن کافی کم ہو گئی تھی.

یہ حقیقت تھی کہ اگر مارٹن اور انجیلا کا رویہ اتنا دوستانہ نہ ہوتا تو شائد میں کبھی بھی ننگی ہونے پر راضی نہ ہوتی کجا یہ کہ خود ننگی ہونے کی پیشکش کی. یہ ان کی مہمان نوازی ہی تو تھی جس کی وجہ سے کچھ ہی دیر میں میں یہ بھول ہی گئی کہ یہاں سب ننگے بیٹھے ہیں. دراصل ان کے بات کرنے کا طریقہ ہی ایسا تھا کہ مخاطب کو مسحور کر کے رکھ دیتے تھے. حتی کہ حساس موضوعات پر بات چیت بھی ایسے انداز میں کی جاتی تھی کہ باتوں میں جنسی عنصر ناپید تھا. میں چونکہ بہت متجسس تھی اور یہاں کھل کے سب باتیں ہو رہی تھیں تو مجھ سے بھی رہا نہ گیا اور میں نے اپنے ذہن میں آنے والے سوالات ان کے سامنے رکھ دیے. اگرچہ شہریار سے میں پہلے ہی ان سوالات کے جوابات لے چکی تھی اور کسی حد تک ان سے مطمئن بھی تھی لیکن پھر بھی میں خود کو روک نہ سکی.
سب سے بڑا سوال تو یہ تھا کہ ننگے پن کو سیکس سے علیحدہ کیسے کیا جائے کیوں کہ ہمارے جنسی اعضاء کے مقصد میں سیکس بھی شامل ہے اور یہ قدرتی بات ہے کہ مخالف جنس کے ننگے بدن کو دیکھ کر انسان کے جنسی جذبات بیدار ہوتے ہیں لہٰذہ ان جذبات کو کیسے کنٹرول کیا جا سکتا ہے.
میرے سوال پر انجیلا اور مارٹن دونوں ہی مسکرا اٹھے. دراصل میری توجہ سامنے بیٹھے میزبانوں کی طرف تھی اور مجھے اس بات کا احساس ہی نہ ہوا تھا کہ شہریار کا بدن میرے بدن سے مس ہو رہا ہے اور اس وجہ سے شائد اس کے جذبات بھڑک اٹھے تھے. اسکا تنا ہوا لنڈ اس بات کا سب سے بڑا گواہ تھا. شہریار تب ہی اپنے ہاتھ لنڈ کے سامنے رکھ کر بیٹھا ہوا تھا تاکہ لنڈ کی سختی کو چھپا سکے. مارٹن اور انجیلا چونکہ بلکل سامنے بیٹھے تھے اسلئے چھپانے کے باوجود شہریار کا لنڈ ان کی نظروں سے مکمل پوشیدہ نہیں تھا. مارٹن نے مزاقاً کہا کہ شائد میں نے یہ سوال پوچھا ہی اس لئے ہے کہ میرے اپنے شوہر کے لئے ہی خود پر قابو پانا مشکل ہو رہا ہے. شہریار بیچارہ اس مذاق پر ہنسا تو تھا لیکن دل ہی دل میں شرمندہ بھی تھا. میں اس کے جذبات اچھی طرح سے بھانپ سکتی تھی. بیشک شادی کو کچھ ہی دن ہوئے تھے لیکن واقفیت اس سے پہلے کی تھی. میں یہ بھی سوچ رہی تھی کہ شہریار نے تو مجھے بتایا تھا کہ وہ لمبے عرصے سے ننگے پن کو اپنائے ہوئے ہے لیکن اگر یہ سچ ہوتا تو کیا وہ اتنی سی دیر میں اپنے لنڈ پر قابو کھو بیٹھتا؟ یا پھر شائد میری موجودگی سے نروس ہو رہا ہے. دوسری وجہ زیادہ قرین قیاس معلوم ہوتی تھی. اس لئے کہ مجھے ننگی دیکھ کر شہریار کا لنڈ بہت جلدی تن جاتا تھا. یہ بات میں علیحدگی میں کئی مرتبہ محسوس کر چکی تھی.
بہرحال، مارٹن نے میرے سوال کا جواب دینے سے پہلے مجھے سمجھایا کہ میں نے سوال میں ایک غلطی کر دی ہے. غلطی یہ تھی کہ میں نے کہا تھا کہ مخالف جنس کے ننگے بدن کو دیکھنے سے جنسی جذبات مشتعل ہوتے ہیں جبکہ حقیقت یہ نہیں تھی. حقیقت تو یہ تھی کہ کئی افراد مخالف جنس کی بجائے اپنی ہی جنس کو دیکھ کر زیادہ جوش محسوس کرتے ہیں. مجھے یہ بات معلوم تو تھی لیکن میں نے ہمیشہ یہی سمجھا تھا کہ یہ کام نیچرل نہیں ہے بلکہ خود ساختہ ہے. اب جب مارٹن نے وضاحت کی تو مجھے معلوم ہوا کہ کئی افراد قدرتی طور پر ایسے ہوتے ہیں کہ انہیں مخالف جنس میں کوئی کشش محسوس ہی نہیں ہوتی خواہ مخالف جنس ننگی ہی کیوں نہ ہو. اس نے مجھے اپنے دوستوں کی مثالیں دیں جو کہ ہم جنس پرست تھے اور کئی مرتبہ شراب خانوں میں خوبصورت خواتین نے انہیں لائن مارنے کی کوشش کی لیکن ان پر اسکا اثر بالکل نہیں ہوتا تھا. اس کے برعکس کسی خوبصورت مرد کو دیکھ کر ان کے لنڈ بےچین ہو جاتے تھے. اسی طرح خواتین کے ساتھ بھی ہوتا ہے.
میرے لئے یہ معلومات نئی تھیں اس لئے میں کافی دلچسپی سے سن رہی تھی. شہریار بھی خوش تھا کہ توجہ میری طرف تھی سب کی کیوں کہ ننگا طرز زندگی اپنانے والوں میں لنڈ کا تناؤ اچھی نظروں سے نہیں دیکھا جاتا. مارٹن نے اپنی بات جاری رکھتے ہوے یہ بھی بتایا کہ بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو دونوں جنسوں سے کشش محسوس کرتے ہیں، انہیں بائی سیکچول کہا جاتا ہے. مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے بات کاٹ کر پوچھ لیا: میں آپ کی باتیں سمجھ گئی ہوں لیکن اس بات کی اب تک سمجھ نہیں آ رہی کہ آپ لوگوں کو اپنے جسم پر اتنا کنٹرول کیسے ہے؟ کیا آپ کے جذبات خواتین کو ننگی دیکھ کر جوش میں نہیں آتے؟ اگر آتے ہیں تو لنڈ کیوں کھڑا نہیں ہوتا؟ اور اگر نہیں آتے تو کیوں نہیں آتے؟ کیا آپ بس اپنی بیوی کی جانب ہی کشش محسوس کرتے ہیں؟ ایسا کیوں ہے؟
میں نے تو سوالات کی بوچھاڑ ہی کر دی تھی لیکن ان دونوں کہ چہروں پر اب بھی سوائے مسکراہٹ کے اور کچھ نہ تھا. ایسی مسکراہٹ جو کسی طالب علم کے بے وقوفانہ سوالات پر استاد کے چہرے پر آ جاتی ہے. شہرہے بیچارے کے ساتھ اچھی نہیں ہوئی. اس سے پہلے کی گفتگو کے دوران اسکا لنڈ سو گیا تھا لیکن جب میں نے اتنے بولڈ سوالات پوچھے تو شائد وہ اپنی بیوی کے منہ سے ایسی گفتگو سن کر پھر سے گرم ہو گیا. لیکن کسی کی بھی توجہ اس پر یا اس کے لنڈ پر نہیں تھی. انجیلا نے بتایا کہ کھانا تیار ہے باقی باتیں کھانے کی میز پر کر لیتے ہیں. بچوں کو اس نے پہلے ہی کھانا کھلا کر اور دودھ پلا کر سلا دیا تھا. ہم سب کھانے کی میز پر جا بیٹھے.

No comments:

Post a Comment

ہنی مون ان جرمنی Part 4

  پتہ نہیں یہ مارٹن کی عادت تھی کہ ہر سوال کے جواب میں تقریر جھاڑ دیتا تھا یا پھر میری وجہ سے ایسا کر رہا تھا لیکن میں نے چپ چاپ اسکی باتیں ...