جنید البتہ مزے میں تھا۔ کچھ دیر پہلے جو سائرہ نے ساری کلاس میں اس کے چھوٹے لن کا مذاق بنوایا تھا اب اس کے بدلے کا وقت آن پہنچا تھا۔ اور یہ حقیقت اس کا مزہ دوبالا کر رہی تھی کہ یہ سائرہ کی مرضی کے خلاف ہو رہا ہے۔ اس کی سفید رنگ کی بڑا دیکھ کر جنید اور تیزی سے لن پر ہاتھ چلانے لگا۔ جب سائرہ نے کہا کہ گھورنے کی کیا ضرورت ہے تو جنید نے جواباً کہا:
"گھورنا ضروری ہے سائرہ۔ سر نے کہا ہے بھئی۔ ایسے ہی تو میں نے لن فل کھڑا کرنا ہے اب"
"ویسے مجھے لگتا نہیں کہ تمہارا اب بھی کھڑا ہو گا۔" سائرہ نے برا اتارتے ہوئے جنید سے کہا۔
ظاہر ہے مقصد تو ٹھٹھا لگانا ہی تھا لیکن جنید نے غصہ نہیں کیا۔ اسے مزے سے غرض تھی۔ جب سائرہ ہاتھ پیچھے لے جا کر ہک کھولنے لگی تو تھوڑی آگے کو جھکی جس سے اس کے ممے جنید کے لن سے قریب ہو گئے۔ جنید کا دل کیا کہ مٹھ مار کر ساری منی اس کے مموں پر ہی نکال دے اور کہہ دے کہ اس سے کنٹرول نہیں ہوا۔ بھئی ایکسیڈنٹ بھی تو ہوتے ہی ہیں نا۔ یہ والا ذرا مزے دار ایکسیڈنٹ رہے گا۔
برا اترنے پر تو واقعی اس کے ٹٹے ٹائٹ ہو گئے۔ سائرہ کے دودھیا سفید نرم نرم ممے ایسے زبردست تھے دکھنے میں اور ان کی ہئیت ایسی جیسے کسی پورن سٹار کے ممے ہوں۔ نپلز بھی گلابی رنگ کے۔ جنید نے تصور کیا جیسے سائرہ بھی مزے لے رہی ہو اور لن ہلاتا رہا۔
سائرہ البتہ مزے تو دور کی بات، غصے میں تھی۔ اس کے نپلز سخت تھے اور وہ سوچ رہی تھی کہ یقیناً ایسا ائیر کنڈیشن کی وجہ سے ہوا ہے۔ اب وہ دل ہی دل میں پچھتا رہی تھی کہ کاش وہ عباس صاحب کو نا ہی کہتی کہ جنید کا کھڑا نہیں ہو رہا۔ اس کی چرب زبانی نے اسے مشکل میں پھنسا دیا تھا۔
"اب خوش ہو؟ جلدی کرو اب۔" سائرہ نے جنید سے کہا۔
جنید تو بہت خوش تھا۔ اس نے بخوشی انچ ٹیپ اٹھائی اور اسے سائرہ کے گرد لپیٹنے لگا اور اس دوران "حادثاتی" طور پر اس کا لن سائرہ کے مموں سے ٹکرایا۔ ایسا لگتا تھا جیسے اسے پیچھے سے ٹیپ لپیٹنے میں قدرے مشکل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہو لیکن اس نے مسلسل کوشش جاری رکھی۔ اس دوران اس کا لن سائرہ کے مموں سے چپکا رہا۔ بار بار ہلنے کی وجہ سے رگڑ بھی کھا رہا تھا۔ ایک آدھ بار لن اس کے نپلز سے بھی مس ہوا۔ سائرہ کو جان بوجھ کر غصہ دلانے کی غرض سے جنید ایڑھیوں کے بل اونچا ہوا جس سے اس کا لن سائرہ کی ٹھوڑی سے ٹکرایا۔ اسے امید تھی کہ سائرہ غصے کا اظہار کرے گی لیکن سائرہ بے وقوف نہیں تھی۔ اس نے آنکھیں بند کر لیں کہ اسے جنید کا لن نظر ہی نا آئے۔ اسے پتہ تھا کہ جلد ہی یہ سب ختم ہو جانا ہے اس لئے کسی قسم کے غصے کا اظہار اپنے لئے ہی مشکلات پیدا کرے گا۔
"لاؤ میں خود کر لوں" سائرہ نے کہا۔ جنید جان بوجھ کر دیر لگا رہا تھا۔
"نہیں بھئی نہیں۔ سر نے کہا ہے کہ لڑکے ناپ لیں گے۔" جنید نے کہا اور ٹیپ کو موڑ کر آگے کی جانب لے آیا اور مموں پر رکھ کر ناپ لینے لگا لیکن ممے تھے کہ بار بار ہل رہے تھے اور جنید بالکل صحیح ناپ لینا چاہتا تھا۔ وہ جھک کر قریب آ گیا اور انچ ٹیپ پر موجود نمبر دیکھنے لگا تاکہ درست ریڈنگ لے سکے۔ سائرہ کو اس کی سانسیں اپنے مموں پر محسوس ہو رہی تھیں۔ اس کا چہرہ محض ایک انچ ہی تو دور رہ گیا تھا۔
"میرا خیال ہے ناپ کیلئے دبانا ضروری نہیں۔" سائرہ نے جنید سے کہا جس نے فوراً اپنی غلطی بھانپ لی اور مزید دبانے سے احتراز برتا۔
"واہ۔ چونتیس سائز ۔۔ بھئی کافی بڑے ہیں تمہارے تو۔" جنید نے ناپ لینے کے بعد کہا۔
"پینتیس ہیں۔ تمہیں ناپ نہیں لینا آتا۔" سائرہ کو اگرچہ جنید کی حرکتیں اچھی نہیں لگ رہی تھیں لیکن پھر بھی وہ ایک انچ سائز کم نہیں ہونے دینا چاہتی تھی۔
"اوہ آئی ایم سوری۔ پھر سے لیتا ہوں ناپ"
سائرہ کو اب احساس ہوا کہ وہ غلطی کر بیٹھی ہے۔ جنید نے اس کی کمر سے ہی ناپ لینا شروع کیا اور انچ ٹیپ کا سرا کمر پر لے جانے کیلئے جب آگے ہوا تو اس بار تو اس نے اپنا لن سائرہ کے مموں میں جیسے دھنسا ہی دیا۔ جنید کو محسوس ہو رہا تھا کہ وہ ڈسچارج ہونے کے قریب ہے۔ وہ جان بوجھ کر سائرہ کے نرم نرم مموں کے درمیان اپنا لن رگڑنے لگا۔
"نکالو اسے جنید!!!" سائرہ کا صبر کا پیمانہ اب لبریز ہونے لگا تھا۔
جنید نے فوراً لن پیچھے کر لیا۔ اس کے چہرے سے ہی اس کے جذبات کا پتہ چل رہا تھا۔
سائرہ نے ہاتھ بڑھا کر اس کے لن کو پکڑ کر پیچھے کیا تاکہ وہ اس کے مموں سے نہ چھوئے۔ جنید کو بھلا کیا اعتراض ہونا تھا۔ اسے تو اچھا لگا کہ سائرہ نے اس کے لن کو چھوا تو سہی۔ اس کا دل کیا کاش سائرہ صرف پکڑے نہیں بلکہ ہاتھ مسل دے۔ بس ایک بار مسل دے۔ وہ پاگل ہوئے جا رہا تھا لیکن سائرہ نے لن پیچھے کر کے ہاتھ ہٹا لیا۔
"واقعی یہ تو پینتیس سائز کے ہیں۔ مجھ سے ہی کوئی غلطی ہوئی ہو گی۔" جنید نے ناپ دوبارہ لے لیا تھا۔
"ہاں اب ٹھیک ہے۔ اچھا اب لاؤ مجھے دو۔" سائرہ نے کہا۔
جنید نے بجائے ٹیپ کے اپنا لن اس کے آگے کر دیا۔ وہ شاید سائرہ کی بات کا غلط مطلب سمجھا تھا۔
"لن نہیں پاگل۔ ٹیپ مانگ رہی ہوں۔ " سائرہ نے اس کے ہاتھ سے ٹیپ جھپٹ لی اور ناپنے کیلیے ایک سرا لن کی جڑ میں رکھا اور ٹیپ اس کے لن پر پھیلانے لگی۔
"چار انچ"
"ارے۔ ساڑھے چار ہے کم از کم بھی"
سائرہ نے ناک بھوں چڑھا کر جنید کی طرف دیکھا۔ اس کا لن سائرہ کے منہ سے چند انچ کے فاصلے پر تھا۔
"اچھا میں کوشش کرتا ہوں شاید کچھ بڑا ہو جائے" جنید کو پتہ تھا کہ سائز چار انچ ہی ہے۔ وہ تو بس لن پکڑ کر ہلانے کا بہانہ چاہتا تھا۔ سائرہ سمجھ گئی تھی۔
"ہاتھ ہٹاؤ میں ایک بار اور ناپ لوں گی۔" سائرہ نے کہا لیکن جیسے ہی اس نے جنید کے لن پر ہاتھ رکھا، وہ ڈسچارج ہو گیا۔
"جنید!!!" سائرہ نے ہلکی سی چیخ ماری اور دونوں ہاتھوں سے اس کے لن سے نکلنے والی منی کو روکنے کی کوشش کرنے لگی لیکن اس کے ہاتھ رکھنے سے پہلے جو منی کے جھٹکے لگے تھے اس سے ایک بڑا سا قطرہ سائرہ کی ٹھوڑی پر جا کر چپک گیا تھا اور آہستہ آہستہ کسی گاڑھے دودھ کی ملائی کی طرح نیچے ٹپکنے لگا۔ ٹپک کر سیدھا اس کے مموں پر گرا اور بھورے نپل پر جا کر ٹک گیا۔ سائرہ نے دونوں ہاتھوں سے جنید کا لن پکڑ رکھا تھا اور جنید تھا کہ اس کے نرم و نازک ہاتھوں میں اپنی منی نکالے جا رہا تھا۔ یہ اس کی پہلی ہینڈ جاب تھی۔ خلاف توقع لیکن مزہ پورا آیا اسے۔ اس نے آنکھیں بند کر لیں اور ڈسچارج ہوتا رہا۔
"توبہ" سائرہ کا دل تو کر رہا تھا کہ عباس صاحب کو بتا دے لیکن اس طرح ساری کلاس اس کے مموں اور ٹھوڑی پر جنید کی منی لگی ہوئی دیکھ لیتی اور اس کی شرمندگی میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا۔ اس نے آنکھیں بند کر لیں اور انتظار کرنے لگی کہ جنید کے جھٹکے ختم ہوں۔ اس کے ہاتھ اور ساری انگلیاں منی میں لتھڑ گئی تھیں۔
یہ سائرہ کی خوش قسمتی تھی کہ عباس صاحب کی نظر ابھی اس پر نہیں پڑی تھی۔ وہ اپنی کرسی پر بیٹھے کمپیوٹر میں کلاس اسائنمنٹ کے بارے کچھ مواد دیکھ رہے تھے۔ یہ آدھا سچ تھا۔ پورا سچ یہ تھا کہ ان کا ایک ہاتھ اپنی گود میں تھا اور وہ لڑکیوں پر چوری چوری چپکے سے نظریں ڈال کر لن مسل رہے تھے۔ ان کا قصور نہیں تھا۔ لڑکیاں تھیں ہی اتنی پرکشش۔ کپڑوں میں بھی یہ لڑکیاں اتنی سیکسی لگتی تھیں کہ عباس صاحب کیلئے انہیں نظر انداز کرنا ممکن نہیں تھا۔ بھئی آخر اتنے سیکسی کپڑے یہ لڑکیاں پہنتی ہی کیوں تھیں اگر انہیں دوسروں کی نظریں بری لگتی تھیں۔ عباس صاحب نے خود کو مطمئن کر لیا کہ وہ کوئی غلط کام نہیں کر رہے۔ یہ قدرتی بات ہے کہ مرد ایسی لڑکیوں کو گھورتے ہی ہیں۔ خیر کلاس میں اس وقت اتنے سارے بڑے چھوٹے ڈھیلے ٹائٹ ممے تھے کہ عباس صاحب کی ساری توجہ لڑکیوں کے سینوں پر تھی۔ لڑکوں اور ان کے لن کو عباس صاحب نے نظر انداز ہی کر دیا تھا جیسے۔
سائرہ اور جنید کے ساتھ جو مسلہ ہوا بعینہ وہی مسلہ عارفہ اور شاہ رخ کے ساتھ بھی ہو گیا۔ کون لڑکا اتنا برداشت کر سکتا ہے جبکہ اس کی گرل فرینڈ کے ہاتھ اس کے لن پر ہوں اور وہ خود اس کے مموں کو چھو رہا ہو۔ اوپر سے عارفہ نے بھی اچھی خاصی دیر لگائی لن ناپنے میں۔ وہ بس ہی نہیں کر رہی تھی۔ جب وہ ناپ لے رہی تھی تو شاہ رخ کا لن اتنا شدید سخت تھا کہ ٹوپا نیلا ہو چلا تھا۔ یا جامنی۔ بہرحال خون کی زیادتی سے رنگ بدل گیا تھا۔ عارفہ متجسس تھی کہ شاہ رخ کو کیسا محسوس ہو رہا ہے۔
"اتنا سخت ہونے پر تمہیں درد نہیں ہوتا؟" عارفہ نے پوچھا۔
"نہیں تو۔ مزہ آتا ہے" شاہ رخ نے جواب دیا۔
"سہی۔ میں سمجھی شاید ہوتا ہو جیسے جسم کو کوئی پٹھا کھنچ جائے تو ہوتا ہے نا درد"
"میرا نہیں خیال کہ یہ پٹھا ہے۔"
"ہاں شاید لیکن جو بھی ہو ایسے تم بہت طاقتور لگتے ہو۔ جب تم اپنے بازوؤں کی مچھلیاں اکڑاتے ہو تو مجھے اچھا لگتا ہے لیکن لن اکڑانے پر ذیادہ اچھا لگ رہا ہے۔ ہے بھی تو اتنا بڑا نا" اس نے آخری بار سرگوشی کے انداز میں کہی۔
شاہ رخ کچھ نہ بولا۔ گرل فرینڈ کے منہ سے اپنے لئے تعریف سن کر وہ خوش ہوا تھا۔
"تھوڑا سا دبا کر دیکھ لوں." عارفہ نے شاہ رخ سے پوچھا۔
"ہاں کیوں نہیں " شاہ رخ منع تو کر نہیں سکتا تھا کیونکہ خود بھی تو وہ عارفہ کے مموں کو دبا رہا تھا۔ عارفہ کی سانسیں تیز ہو رہی تھیں۔
"کتنی مزاحیہ بات ہے نا کہ ہم دونوں کو ہی دبانا اچھا لگ رہا ہے لیکن تمہیں نرم چیز کو دبانا پسند ہے جبکہ مجھے سخت کو دبانے میں مزہ آ رہا ہے۔" عارفہ نے کہا۔ وہ ہلکا سا ہنس پڑی تھی اپنی بات پر ہی۔
"تم چاہو تو اسے مسل بھی سکتی ہو ہاتھ آگے پیچھے پھیر کر۔" شاہ رخ نے احتیاط سے عارفہ کو تجویز دی۔
عارفہ نے ادھر ادھر دیکھا لیکن سب اپنے اپنے کام میں مشغول تھے اور ان کی طرف کسی کی توجہ نہیں تھی۔ عارفہ نے انگلی اور انگوٹھے سے دائرہ سا بنا کر شاہ رخ کے ٹوپے کو اس میں سے گزارہ۔
"اچھا لگا؟" اس نے پوچھا۔
"ہاں" شاہ رخ نے دبے دبے لہجے میں جواب دیا۔
"عارفہ" شاہ رخ نے اسے مخاطب کیا۔
"ہاں میری جان بولو" عارفہ نے کہا۔
"عارفہ اگر تم ایسے ہی ہاتھ پھیرتی رہی نا تو ۔۔۔ " شاہ رخ اپنی بات مکمل نہ کر سکا۔ اپنی گرل فرینڈ کو یہ بتانا کہ وہ ڈسچارج ہو جائے گا اسے معیوب لگ رہا تھا۔ اسے لگا کہیں عارفہ کو یہ بات بری نا لگ جائے۔
لیکن عارفہ سمجھ گئی تھی۔
"کیا واقعی؟ سچ بتاؤ" اس نے کہا۔
"ہاں ہاں ہاتھ ہٹا کو پلیز" جنید نے کہا۔ اسے عارفہ کے ہاتھوں کا لمس بہت اچھا لگ رہا تھا لیکن وہ یہ بھی جانتا تھا کہ اگر عارفہ کے اوپر منی نکال دی تو وہ برا مان جائے گی۔ اور جس رخ میں لن عارفہ نے پکڑ رکھا تھا اس سے تو منی کا فوارہ سیدھا اس کے منہ پر پی پڑنا تھا۔ پورا چہرہ لتھڑ جاتا۔
"واؤ۔" عارفہ نے بس اتنا ہی کہا آر صورتحال کا دل ہی دل میں تجزیہ کرنے لگی۔ اس کی نظریں شاہ رخ کے ٹوپے پر جمی ہوئی تھیں۔
"میں دیکھنا چاہتی ہوں کہ کیا ہوتا ہے اگر میں مسلتی رہوں تو۔" عارفہ نے کہا اور ہاتھ دوبارہ لن پر رکھ دیا۔
"رکو پلیز " شاہ رخ نے عارفہ کا ہاتھ تھام لیا اور اسے مسلنے سے روکنے لگا۔
"عارفہ کوئی دیکھ لے گا اور پھر کتنا گند بھی تو مچے گا۔ ایسا نہیں کرو پلیز" جنید نے کہا۔
"ہاں تم ٹھیک کہہ رہے ہو" عارفہ کو اس کی بات کی سمجھ آ گئی تھی۔
"میں کلاس کے بعد کر کے دکھا دوں گا تمہیں۔" جنید نے کہا۔
"لیکن لن کی حالت سے تو لگتا ہے کہ ضرورت ابھی ہے۔"
"ہاں ضرورت تو ہے لیکن لیا کریں"
"اف یہ دیکھو کیسے یہ بھی ٹائٹ ہو گئی ہیں۔" عارفہ نے ٹٹوں کہ طرف اشارہ کر کے کہا اور ساتھ ہی انگلی سے انہیں چھیڑ بھی دیا۔
جنید کیلئے خود پر قابو رکھنا مشکل ہو رہا تھا۔
"مجھے اتنا کیوٹ لگ رہا ہے پتہ نہیں کیوں۔ ادھر آؤ میں اس بے چارے کو ایک بوسہ تو دے دوں۔" عارفہ نے کہا اور شاہ رخ کی جانگوں پر ہاتھ رکھ کر چہرہ آگے کیا اور ایک چھوٹا سا بوسہ اس کے لن پر ثبت کر دیا۔ کہنے کو تو یہ بوسہ چھوٹا سا تھا لیکن تھا عین ٹوپے کے اوپر۔ جنید کیلئے محض یہ نظارہ کہ عارفہ کا معصوم چہرہ اس کے ہونٹ جنید کے لن کو چومنے کیلئے آگے بڑھ رہے ہیں، تابوت میں آخری کیل ثابت ہوا۔ اس نے کئی بار مٹھ مارتے ہوئے یہ تصور کیا تھا لیکن اب یہ حقیقت تھا۔
"عارفہ" اس نے ایک لمحہ پہلے عارفہ کو پکارا کہ کسی طرح وہ بچ جائے لیکن اب دیر ہو چکی تھی۔ اس کا لن عارفہ کے سرخ ہونٹوں کی تاب نہ لا سکا تھا۔ عارفہ کو اس کے لن میں ایک حرکت محسوس ہوئی جیسے یہ پھڑک گیا ہو اور پھر ایک لمحے سے بھی کم عرصے میں اسے اپنے ہونٹوں پر ایک گرم گرم گاڑھا مادہ محسوس ہوا۔ عارفہ سمجھ گئی۔ وہ فوراً سمجھ گئی کہ شاہ رخ ڈسچارج ہو گیا تھا بلکہ ہو رہا تھا۔ ایسے میں اگر کسی نے دیکھ لیا تو مصیبت آ جاتی۔ عارفہ کے پاس سوچنے کا وقت نہیں تھا۔ جو کرنا تھا ابھی کرنا تھا۔ نہ جانے یہ ردعمل ٹھیک تھا یا نہیں، عارفہ نے اپنا منہ کھول دیا اور شاہ رخ کے ٹوپے کو اپنے منہ میں لے لیا۔ شاہ رخ نے اپنی پوزیشن ایسے کر لی کہ عباس صاحب کو اس کی پیٹھ نظر آئے۔ اب عارفہ عباس صاحب اور ذیادہ تر طلبا کی نظروں سے اوجھل تھی۔ ڈسچارج ہونے کے باوجود وہ ایسے آگے کو جھکا کہ سب یہی سمجھیں کہ پیچھے سے عارفہ کی کمر پر سے ناپ لے رہا ہے۔ لیکن اس طرح جھکنے سے لن مزید عارفہ لے منہ میں چلا گیا۔ اس طرح منی کے اس کے منہ سے باہر چھلکنے کا خطرہ تو کم ہو گیا لیکن عارفہ نروس ہو گئی کیونکہ اب شاہ رخ کا لن اس کے حلق تک پہنچنے والا تھا۔
عارفہ جانتی تھی کہ ایک نہ ایک دن یہ کام اسے کسی نہ کسی لڑکے کیلئے کرنا تو تھا ہی اور غالب امکان یہی تھا کہ وہ لڑکا شاہ رخ ہی ہوتا۔ وہ شاہ رخ کو پسند کرتی تھی لیکن پھر بھی وہ یہی سمجھتی آئی تھی کہ جو لڑکیاں ایسے کام کرتی ہیں وہ گندی ہوتی ہیں۔ وہ یہی سوچا کرتی تھی کہ ایسے منہ میں لے کر کسی مرد کو منہ میں ڈسچارج کروانا تو رنڈیوں کا کام تھا اور لوگ پیسے دے کر رنڈیوں سے یہ کرواتے تھے یا پھر کوئی لڑکی مری جا رہی ہو اپنے شوہر یا بوائے فرینڈ کیلئے تو وہ ایسا کرتی ہو گی۔ لیکن شومئی قسمت کہ اب اس کے منہ میں لن گھسا ہوا تھا اور منی کے قطرے اس کے منہ اور حلق میں گر رہے تھے۔ وہ سوچ رہی تھی کہ کاش ایسا کرتے کسی کی نظر ان پر نا پڑے۔ اگر کسی نے پوچھا تو اس سے تو جواب بھی نہیں بن پائے گا۔
ایک کے بعد ایک قطرہ اور جھٹکا لگتا رہا اور اس کا منہ منی سے بھرنے لگا۔ عارفہ کا دل بہت تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ شاہ رخ کو بہت مزہ آ رہا ہو گا۔ یہی سوچ کر اس نے اپنی زبان بھی اس کے لن پر پھیر دی تھی کہ جتنی منی ہے ساری منہ میں ہی نکل جائے۔ بعد میں قطرے فرش پر گرے تو کسی کو شک بھی ہو سکتا ہے۔
عارفہ یہ بات بھی تسلیم کر بیٹھی تھی کہ اس کی توقعات کے برعکس منی کا ذائقہ کچھ ایسا برا بھی نہیں تھا۔ یہ کوئی پیشاب تھوڑا ہی تھا۔ یہ تو منی تھی جس سے لڑکیاں حاملہ ہو جاتی ہیں اور پھر اسی منی سے بچے کا جنم ماں کی کوکھ میں ہوتا ہے۔ شاہ رخ کے لن کے آخری جھٹکوں سے نکلنے والی منی منہ میں لیتے ہوئے ہوئے وہ یہی سوچ رہی تھی کہ ایک دن اسی منی سے وہ بھی ماں بن جائے گی۔
شاہ رخ جب منی نکال چکا تو اس نے لن عارفہ کے منہ سے نکال لیا اور بے اختیار عارفہ سے معافی مانگنے لگا۔
"آئی ایم سو سوری عارفہ پتہ ہی نہیں چلا اچانک سے بس ہو گیا یہ سب کچھ۔"
عارفہ کو کوئی مسلہ نہیں تھا سوائے اس کے کہ اس کا منہ اب بھی منی سے بھرا ہوا تھا اس لئے اسے اپنے ہونٹ بند ہی رکھنے پڑ رہے تھے۔ وہ بولنا چاہتی تھی لیکن اس حالت میں بولتی تو منی باہر گر جاتی۔ یہ اتنی گاڑھی تھی کہ عارفہ کیلئے ساری ایک ساتھ نگلنی مشکل تھی۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا کہ کوئی چیز مل جائے جسے پی کر وہ منی حلق سے نیچے اتار سکے لیکن ایسا کچھ نہیں تھا۔ شاہ رخ سمجھ گیا تھا کہ عارفہ کے جواب نہ دینے کہ وجہ کیا ہے۔ عارفہ نے شاہ رخ کی طرف چہرہ اٹھا کر دیکھا۔ شاہ رخ کو اس لمحے اتنا پیار آیا کہ اس نے جھک کر عارفہ کے بند ہونٹوں پر ایک بوسہ لے لیا۔ لیکن بوسے کے فوراً بعد دونوں کی نگاہیں عباس صاحب پر ہی گئی تھیں کہ کہیں انہوں نے دیکھ تو نہیں لیا۔