Sunday, 29 September 2024

مریم شاہ (Part 5)


 "واؤ۔ زبردست اپارٹمنٹ ہے" میں نے ان کے فلیٹ کی تعریف کی۔

"تازہ تازہ کافی پینا پسند کرو گے یا پھر چھوڑو کافی۔ آؤ پیار کریں"
مریم کی بات غیر متوقع تو تھی لیکن میری تو جیسے آواز ہی بند ہو گئی۔ چاہنے کے باوجود ان کی بات کا جواب نہ دے پا رہا تھا اور سانس ایسے پھولی ہوئی تھی جیسے پانچ ہزار میٹر کی ریس لگا کر آیا ہوں۔ لیکن مجھے ان کا یوں بولڈ انداز اچھا لگا تھا۔ بغیر کسی تمہید کے وہ مطلب کی بات پر آ گئی تھیں۔
"یس" میں نے ہمت جمع کر کے بس اتنا ہی کہا۔
وہ میرے قریب آئیں اور اپنے ہاتھ میرے کندھوں پر رکھ دئے۔ میں نے ڈرتے ڈرتے اپنے ہاتھ ان کی کمر کے گرد رکھے۔ وہ میرے ڈر کو بھانپ گئیں اور مسکرا کر کہنے لگیں: "ڈرو نہیں عثمان میں کاٹتی نہیں ہوں۔ بغیر کہے تو بالکل نہیں۔" ان کی مسکراہٹ سے ان کے سفید دانت نظر آنے لگے تھے جو ان کے سرخ ہونٹوں کے ساتھ بہت پیارے لگ رہے تھے۔
ہیلز پہنے ہوئے ان کا قد میرے برابر ہو گیا تھا۔ ہمارے چہرے ایک دوسرے سے قریب ہوتے گئے اور مجھے ان کے ہونٹ اپنے ہونٹوں پر محسوس ہوئے۔ ان کے نرم و نازک ہونٹ میرے ہونٹوں پر ٹچ ہوئے اور ہم ایک دوسرے کو چومنے لگے۔ مریم کے ساتھ پہلے بوسے کی یادیں میں اپنے دل سے کبھی نہیں نکال سکتا۔ شاید مرتے دم تک نہ بھول سکوں اسے۔ میری زندگی کی سب سے بھرپور کس تھی یہ اور اس لمحے میں نے سوچا تھا شاید بڑی عمر کی سب ہی عورتیں ایسے جوش سے چومتی ہوں۔ مریم کی ہر ادا میں جوش تھا۔ اور پہلی بار ہونٹ چومنے کے انداز سے ہی مجھے یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ مریم سے بہتر سیکس پارٹنر مجھے کبھی نہیں مل سکتی۔
میں نے بھی ان کے چومنے کا بھرپور جواب دیا تھا۔ ان کے ہونٹ اپنے ہونٹوں کے اندر لے کر چوسے اور پھر میری زبان ان کی زبان سے ٹکرائی اور ہم دیوانہ وار ایک دوسرے کے ہونٹ اور زبان چوسنے اور چاٹنے لگے۔ میرے ہاتھ بدستور ان کی کمر پر تھے۔ میں ان کی کمر کے اتار چڑھاؤ اپنے ہاتھوں پر محسوس کر رہا تھا جبکہ وہ میری گردن پر ہاتھ پھیرے جا رہی تھیں۔
"زپ کھولو" مریم نے ہونٹ پیچھے کر کے میرے کان میں سرگوشی کی۔
میں نے ان کی قمیض کے پیچھے زپ کا ہک پکڑا اور اسے ان کی کمر کے نچلے حصے تک کھینچ دیا۔ ان کے چوتڑ باہر آنے کو بے تاب تھے۔ مریم میری گرفت سے نکل گئیں اور تھوڑا سا پیچھے ہٹ کر انہوں نے اپنے بازو قمیض سے باہر نکالے اور قمیض کو ٹانگوں پر سے نیچے کر کے پاؤں اٹھا کر قمیض سے باہر نکال لئے۔ نیچے انہوں نے سیاہ رنگ کی لیس والی برا پہنی تھی۔ پینٹی بھی اس کے ساتھ کی تھی۔ ٹانگوں پر سیاہ سٹاکنگ چڑھائی ہوئی تھی۔ ہیلز اب بھی ان کے پاؤں میں تھیں۔
فلیٹ میں روشنی کم تھی لیکن اتنی کم نہیں کہ میں ان کا سیکسی سراپا نہ دیکھ سکتا۔ ان کا فگر آئڈیل تھا۔ ان میں وہ سب کچھ تھا جس کی میں نے ہمیشہ تمنا کی تھی۔ وہ دبلی پتلی تھیں، پیٹ نہ ہونے کے برابر لیکن چھاتیاں بھرپور۔ نہ زیادہ بڑی نہ چھوٹی۔ جسم کے مطابق بالکل پرفیکٹ۔ چوتڑوں کے ابھار اور لمبی لمبی ٹانگوں پر سیاہ سٹاکنگ نے ان کی ٹانگوں کے ہر زاویے کو عیاں کر دیا تھا۔
"آپ بہت خوبصورت ہیں" میں نے مریم کی تعریف کی۔ وہ مسکرائیں، جھک کر اپنا لباس اٹھایا اور صوفے پر ترتیب سے رکھ کر میری طرف مڑیں اور میرے کپڑے اتارنے لگیں۔
پہلے آستینوں کے بٹن، پھر شرٹ کے بٹن کھولے، پھر شرٹ پتلون سے نکالی اور پھر میرے بازو شرٹ میں سے نکال کر میری شرٹ اپنے کپڑوں کی طرف صوفے پر اچھال دی۔
میں تو جیسے بے یقینی کی سی کیفیت میں تھا۔ چپ چاپ کھڑا رہا جبکہ مریم نے پہلے میری پتلون کی بیلٹ کھولی اور پھر دونوں طرف انگوٹھے پھنسا کر پتلون اور انڈر وئیر ایک ساتھ اتار دئیے۔ میرا لن ان کے یوں پتلون اتارنے سے ان کے چہرے کے بالکل قریب آ گیا تھا۔
"بیٹھ جاؤ عثمان" انہوں نے مجھ سے کہا۔ میں نے بغیر دیکھے قدم پیچھے کی طرف بڑھائے اور جب پاؤں صوفے سے ٹچ ہوئے تو دھڑام سے بیٹھ گیا۔ مریم میری ٹانگوں میں بیٹھ گئیں اور میرے جوتوں کے تسمے کھول کر جوتے اتار دئے۔ جرابیں بھی اتار دیں اور پتلون اور انڈر وئیر میں سے پاؤں نکال کر مجھے بالکل ننگا کر دیا۔
مجھے بے چینی محسوس ہو رہی تھی۔ کیا میں ایسی بے باک خاتون کو مطمئن بھی کر پاؤں گا؟ کالج میں لڑکیوں سے جسمانی تعلقات تو رہے تھے لیکن وہ لڑکیاں تو اتنی تجربہ کار نہیں تھیں۔ اپنی عمر سے دوگنا سے بھی زیادہ عمر کی خاتون کے ساتھ سیکس کیسا ہو گا؟ یقیناً اپنی زندگی میں مریم نے بہت سے مردوں کے ساتھ سیکس کیا ہو گا۔ کامیاب مردوں کے ساتھ جو ایک خاتون کو مطمئن کرنا جانتے ہوں گے۔ بستر میں بھی اور بستر سے باہر بھی۔
میں نے ان تمام سوچوں کو دماغ سے جھٹکنے کی کوشش کی۔ میرا لن فولاد کی مانند سخت تھا۔ سائز بھی مناسب تھا لہذا میں اس بارے میں تو اتنا پریشان نہیں تھا۔ ویسے بھی مریم کا رویہ ایسا تھا جیسے وہ اس ساری سچویشن میں انچارج ہو لہذا میں نے سوچا حالات کے دھارے پر خود کو چھوڑ دینا ہی مناسب ہے۔

Saturday, 28 September 2024

شارلٹ اور بلال قسط نمبر 19


 

سائرہ اور جنید کا جوڑ البتہ مسائل کا باعث تھا۔ سائرہ بہت ذیادہ شرما رہی تھی جب اسے اپنی قمیض اتارنی پڑی تھی اور جنید بھی تو مسلسل اس کے مموں کو گھورے جا رہا تھا ساتھ ہی لن بھی ہلا رہا تھا۔ تب ہی تنگ آ کر سائرہ نے اس سے کہا تھا کہ اتنا گھورنے کی کیا ضرورت ہے۔ وہ غصے میں تھی۔
جنید البتہ مزے میں تھا۔ کچھ دیر پہلے جو سائرہ نے ساری کلاس میں اس کے چھوٹے لن کا مذاق بنوایا تھا اب اس کے بدلے کا وقت آن پہنچا تھا۔ اور یہ حقیقت اس کا مزہ دوبالا کر رہی تھی کہ یہ سائرہ کی مرضی کے خلاف ہو رہا ہے۔ اس کی سفید رنگ کی بڑا دیکھ کر جنید اور تیزی سے لن پر ہاتھ چلانے لگا۔ جب سائرہ نے کہا کہ گھورنے کی کیا ضرورت ہے تو جنید نے جواباً کہا:
"گھورنا ضروری ہے سائرہ۔ سر نے کہا ہے بھئی۔ ایسے ہی تو میں نے لن فل کھڑا کرنا ہے اب"
"ویسے مجھے لگتا نہیں کہ تمہارا اب بھی کھڑا ہو گا۔" سائرہ نے برا اتارتے ہوئے جنید سے کہا۔
ظاہر ہے مقصد تو ٹھٹھا لگانا ہی تھا لیکن جنید نے غصہ نہیں کیا۔ اسے مزے سے غرض تھی۔ جب سائرہ ہاتھ پیچھے لے جا کر ہک کھولنے لگی تو تھوڑی آگے کو جھکی جس سے اس کے ممے جنید کے لن سے قریب ہو گئے۔ جنید کا دل کیا کہ مٹھ مار کر ساری منی اس کے مموں پر ہی نکال دے اور کہہ دے کہ اس سے کنٹرول نہیں ہوا۔ بھئی ایکسیڈنٹ بھی تو ہوتے ہی ہیں نا۔ یہ والا ذرا مزے دار ایکسیڈنٹ رہے گا۔
برا اترنے پر تو واقعی اس کے ٹٹے ٹائٹ ہو گئے۔ سائرہ کے دودھیا سفید نرم نرم ممے ایسے زبردست تھے دکھنے میں اور ان کی ہئیت ایسی جیسے کسی پورن سٹار کے ممے ہوں۔ نپلز بھی گلابی رنگ کے۔ جنید نے تصور کیا جیسے سائرہ بھی مزے لے رہی ہو اور لن ہلاتا رہا۔
سائرہ البتہ مزے تو دور کی بات، غصے میں تھی۔ اس کے نپلز سخت تھے اور وہ سوچ رہی تھی کہ یقیناً ایسا ائیر کنڈیشن کی وجہ سے ہوا ہے۔ اب وہ دل ہی دل میں پچھتا رہی تھی کہ کاش وہ عباس صاحب کو نا ہی کہتی کہ جنید کا کھڑا نہیں ہو رہا۔ اس کی چرب زبانی نے اسے مشکل میں پھنسا دیا تھا۔
"اب خوش ہو؟ جلدی کرو اب۔" سائرہ نے جنید سے کہا۔
جنید تو بہت خوش تھا۔ اس نے بخوشی انچ ٹیپ اٹھائی اور اسے سائرہ کے گرد لپیٹنے لگا اور اس دوران "حادثاتی" طور پر اس کا لن سائرہ کے مموں سے ٹکرایا۔ ایسا لگتا تھا جیسے اسے پیچھے سے ٹیپ لپیٹنے میں قدرے مشکل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہو لیکن اس نے مسلسل کوشش جاری رکھی۔ اس دوران اس کا لن سائرہ کے مموں سے چپکا رہا۔ بار بار ہلنے کی وجہ سے رگڑ بھی کھا رہا تھا۔ ایک آدھ بار لن اس کے نپلز سے بھی مس ہوا۔ سائرہ کو جان بوجھ کر غصہ دلانے کی غرض سے جنید ایڑھیوں کے بل اونچا ہوا جس سے اس کا لن سائرہ کی ٹھوڑی سے ٹکرایا۔ اسے امید تھی کہ سائرہ غصے کا اظہار کرے گی لیکن سائرہ بے وقوف نہیں تھی۔ اس نے آنکھیں بند کر لیں کہ اسے جنید کا لن نظر ہی نا آئے۔ اسے پتہ تھا کہ جلد ہی یہ سب ختم ہو جانا ہے اس لئے کسی قسم کے غصے کا اظہار اپنے لئے ہی مشکلات پیدا کرے گا۔
"لاؤ میں خود کر لوں" سائرہ نے کہا۔ جنید جان بوجھ کر دیر لگا رہا تھا۔
"نہیں بھئی نہیں۔ سر نے کہا ہے کہ لڑکے ناپ لیں گے۔" جنید نے کہا اور ٹیپ کو موڑ کر آگے کی جانب لے آیا اور مموں پر رکھ کر ناپ لینے لگا لیکن ممے تھے کہ بار بار ہل رہے تھے اور جنید بالکل صحیح ناپ لینا چاہتا تھا۔ وہ جھک کر قریب آ گیا اور انچ ٹیپ پر موجود نمبر دیکھنے لگا تاکہ درست ریڈنگ لے سکے۔ سائرہ کو اس کی سانسیں اپنے مموں پر محسوس ہو رہی تھیں۔ اس کا چہرہ محض ایک انچ ہی تو دور رہ گیا تھا۔
"میرا خیال ہے ناپ کیلئے دبانا ضروری نہیں۔" سائرہ نے جنید سے کہا جس نے فوراً اپنی غلطی بھانپ لی اور مزید دبانے سے احتراز برتا۔
"واہ۔ چونتیس سائز ۔۔ بھئی کافی بڑے ہیں تمہارے تو۔" جنید نے ناپ لینے کے بعد کہا۔
"پینتیس ہیں۔ تمہیں ناپ نہیں لینا آتا۔" سائرہ کو اگرچہ جنید کی حرکتیں اچھی نہیں لگ رہی تھیں لیکن پھر بھی وہ ایک انچ سائز کم نہیں ہونے دینا چاہتی تھی۔
"اوہ آئی ایم سوری۔ پھر سے لیتا ہوں ناپ"
سائرہ کو اب احساس ہوا کہ وہ غلطی کر بیٹھی ہے۔ جنید نے اس کی کمر سے ہی ناپ لینا شروع کیا اور انچ ٹیپ کا سرا کمر پر لے جانے کیلئے جب آگے ہوا تو اس بار تو اس نے اپنا لن سائرہ کے مموں میں جیسے دھنسا ہی دیا۔ جنید کو محسوس ہو رہا تھا کہ وہ ڈسچارج ہونے کے قریب ہے۔ وہ جان بوجھ کر سائرہ کے نرم نرم مموں کے درمیان اپنا لن رگڑنے لگا۔
"نکالو اسے جنید!!!" سائرہ کا صبر کا پیمانہ اب لبریز ہونے لگا تھا۔
جنید نے فوراً لن پیچھے کر لیا۔ اس کے چہرے سے ہی اس کے جذبات کا پتہ چل رہا تھا۔
سائرہ نے ہاتھ بڑھا کر اس کے لن کو پکڑ کر پیچھے کیا تاکہ وہ اس کے مموں سے نہ چھوئے۔ جنید کو بھلا کیا اعتراض ہونا تھا۔ اسے تو اچھا لگا کہ سائرہ نے اس کے لن کو چھوا تو سہی۔ اس کا دل کیا کاش سائرہ صرف پکڑے نہیں بلکہ ہاتھ مسل دے۔ بس ایک بار مسل دے۔ وہ پاگل ہوئے جا رہا تھا لیکن سائرہ نے لن پیچھے کر کے ہاتھ ہٹا لیا۔
"واقعی یہ تو پینتیس سائز کے ہیں۔ مجھ سے ہی کوئی غلطی ہوئی ہو گی۔" جنید نے ناپ دوبارہ لے لیا تھا۔
"ہاں اب ٹھیک ہے۔ اچھا اب لاؤ مجھے دو۔" سائرہ نے کہا۔
جنید نے بجائے ٹیپ کے اپنا لن اس کے آگے کر دیا۔ وہ شاید سائرہ کی بات کا غلط مطلب سمجھا تھا۔
"لن نہیں پاگل۔ ٹیپ مانگ رہی ہوں۔ " سائرہ نے اس کے ہاتھ سے ٹیپ جھپٹ لی اور ناپنے کیلیے ایک سرا لن کی جڑ میں رکھا اور ٹیپ اس کے لن پر پھیلانے لگی۔
"چار انچ"
"ارے۔ ساڑھے چار ہے کم از کم بھی"
سائرہ نے ناک بھوں چڑھا کر جنید کی طرف دیکھا۔ اس کا لن سائرہ کے منہ سے چند انچ کے فاصلے پر تھا۔
"اچھا میں کوشش کرتا ہوں شاید کچھ بڑا ہو جائے" جنید کو پتہ تھا کہ سائز چار انچ ہی ہے۔ وہ تو بس لن پکڑ کر ہلانے کا بہانہ چاہتا تھا۔ سائرہ سمجھ گئی تھی۔
"ہاتھ ہٹاؤ میں ایک بار اور ناپ لوں گی۔" سائرہ نے کہا لیکن جیسے ہی اس نے جنید کے لن پر ہاتھ رکھا، وہ ڈسچارج ہو گیا۔
"جنید!!!" سائرہ نے ہلکی سی چیخ ماری اور دونوں ہاتھوں سے اس کے لن سے نکلنے والی منی کو روکنے کی کوشش کرنے لگی لیکن اس کے ہاتھ رکھنے سے پہلے جو منی کے جھٹکے لگے تھے اس سے ایک بڑا سا قطرہ سائرہ کی ٹھوڑی پر جا کر چپک گیا تھا اور آہستہ آہستہ کسی گاڑھے دودھ کی ملائی کی طرح نیچے ٹپکنے لگا۔ ٹپک کر سیدھا اس کے مموں پر گرا اور بھورے نپل پر جا کر ٹک گیا۔ سائرہ نے دونوں ہاتھوں سے جنید کا لن پکڑ رکھا تھا اور جنید تھا کہ اس کے نرم و نازک ہاتھوں میں اپنی منی نکالے جا رہا تھا۔ یہ اس کی پہلی ہینڈ جاب تھی۔ خلاف توقع لیکن مزہ پورا آیا اسے۔ اس نے آنکھیں بند کر لیں اور ڈسچارج ہوتا رہا۔
"توبہ" سائرہ کا دل تو کر رہا تھا کہ عباس صاحب کو بتا دے لیکن اس طرح ساری کلاس اس کے مموں اور ٹھوڑی پر جنید کی منی لگی ہوئی دیکھ لیتی اور اس کی شرمندگی میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا۔ اس نے آنکھیں بند کر لیں اور انتظار کرنے لگی کہ جنید کے جھٹکے ختم ہوں۔ اس کے ہاتھ اور ساری انگلیاں منی میں لتھڑ گئی تھیں۔
یہ سائرہ کی خوش قسمتی تھی کہ عباس صاحب کی نظر ابھی اس پر نہیں پڑی تھی۔ وہ اپنی کرسی پر بیٹھے کمپیوٹر میں کلاس اسائنمنٹ کے بارے کچھ مواد دیکھ رہے تھے۔ یہ آدھا سچ تھا۔ پورا سچ یہ تھا کہ ان کا ایک ہاتھ اپنی گود میں تھا اور وہ لڑکیوں پر چوری چوری چپکے سے نظریں ڈال کر لن مسل رہے تھے۔ ان کا قصور نہیں تھا۔ لڑکیاں تھیں ہی اتنی پرکشش۔ کپڑوں میں بھی یہ لڑکیاں اتنی سیکسی لگتی تھیں کہ عباس صاحب کیلئے انہیں نظر انداز کرنا ممکن نہیں تھا۔ بھئی آخر اتنے سیکسی کپڑے یہ لڑکیاں پہنتی ہی کیوں تھیں اگر انہیں دوسروں کی نظریں بری لگتی تھیں۔ عباس صاحب نے خود کو مطمئن کر لیا کہ وہ کوئی غلط کام نہیں کر رہے۔ یہ قدرتی بات ہے کہ مرد ایسی لڑکیوں کو گھورتے ہی ہیں۔ خیر کلاس میں اس وقت اتنے سارے بڑے چھوٹے ڈھیلے ٹائٹ ممے تھے کہ عباس صاحب کی ساری توجہ لڑکیوں کے سینوں پر تھی۔ لڑکوں اور ان کے لن کو عباس صاحب نے نظر انداز ہی کر دیا تھا جیسے۔
سائرہ اور جنید کے ساتھ جو مسلہ ہوا بعینہ وہی مسلہ عارفہ اور شاہ رخ کے ساتھ بھی ہو گیا۔ کون لڑکا اتنا برداشت کر سکتا ہے جبکہ اس کی گرل فرینڈ کے ہاتھ اس کے لن پر ہوں اور وہ خود اس کے مموں کو چھو رہا ہو۔ اوپر سے عارفہ نے بھی اچھی خاصی دیر لگائی لن ناپنے میں۔ وہ بس ہی نہیں کر رہی تھی۔ جب وہ ناپ لے رہی تھی تو شاہ رخ کا لن اتنا شدید سخت تھا کہ ٹوپا نیلا ہو چلا تھا۔ یا جامنی۔ بہرحال خون کی زیادتی سے رنگ بدل گیا تھا۔ عارفہ متجسس تھی کہ شاہ رخ کو کیسا محسوس ہو رہا ہے۔
"اتنا سخت ہونے پر تمہیں درد نہیں ہوتا؟" عارفہ نے پوچھا۔
"نہیں تو۔ مزہ آتا ہے" شاہ رخ نے جواب دیا۔
"سہی۔ میں سمجھی شاید ہوتا ہو جیسے جسم کو کوئی پٹھا کھنچ جائے تو ہوتا ہے نا درد"
"میرا نہیں خیال کہ یہ پٹھا ہے۔"
"ہاں شاید لیکن جو بھی ہو ایسے تم بہت طاقتور لگتے ہو۔ جب تم اپنے بازوؤں کی مچھلیاں اکڑاتے ہو تو مجھے اچھا لگتا ہے لیکن لن اکڑانے پر ذیادہ اچھا لگ رہا ہے۔ ہے بھی تو اتنا بڑا نا" اس نے آخری بار سرگوشی کے انداز میں کہی۔
شاہ رخ کچھ نہ بولا۔ گرل فرینڈ کے منہ سے اپنے لئے تعریف سن کر وہ خوش ہوا تھا۔
"تھوڑا سا دبا کر دیکھ لوں." عارفہ نے شاہ رخ سے پوچھا۔
"ہاں کیوں نہیں " شاہ رخ منع تو کر نہیں سکتا تھا کیونکہ خود بھی تو وہ عارفہ کے مموں کو دبا رہا تھا۔ عارفہ کی سانسیں تیز ہو رہی تھیں۔
"کتنی مزاحیہ بات ہے نا کہ ہم دونوں کو ہی دبانا اچھا لگ رہا ہے لیکن تمہیں نرم چیز کو دبانا پسند ہے جبکہ مجھے سخت کو دبانے میں مزہ آ رہا ہے۔" عارفہ نے کہا۔ وہ ہلکا سا ہنس پڑی تھی اپنی بات پر ہی۔
"تم چاہو تو اسے مسل بھی سکتی ہو ہاتھ آگے پیچھے پھیر کر۔" شاہ رخ نے احتیاط سے عارفہ کو تجویز دی۔
عارفہ نے ادھر ادھر دیکھا لیکن سب اپنے اپنے کام میں مشغول تھے اور ان کی طرف کسی کی توجہ نہیں تھی۔ عارفہ نے انگلی اور انگوٹھے سے دائرہ سا بنا کر شاہ رخ کے ٹوپے کو اس میں سے گزارہ۔
"اچھا لگا؟" اس نے پوچھا۔
"ہاں" شاہ رخ نے دبے دبے لہجے میں جواب دیا۔
"عارفہ" شاہ رخ نے اسے مخاطب کیا۔
"ہاں میری جان بولو" عارفہ نے کہا۔
"عارفہ اگر تم ایسے ہی ہاتھ پھیرتی رہی نا تو ۔۔۔ " شاہ رخ اپنی بات مکمل نہ کر سکا۔ اپنی گرل فرینڈ کو یہ بتانا کہ وہ ڈسچارج ہو جائے گا اسے معیوب لگ رہا تھا۔ اسے لگا کہیں عارفہ کو یہ بات بری نا لگ جائے۔
لیکن عارفہ سمجھ گئی تھی۔
"کیا واقعی؟ سچ بتاؤ" اس نے کہا۔
"ہاں ہاں ہاتھ ہٹا کو پلیز" جنید نے کہا۔ اسے عارفہ کے ہاتھوں کا لمس بہت اچھا لگ رہا تھا لیکن وہ یہ بھی جانتا تھا کہ اگر عارفہ کے اوپر منی نکال دی تو وہ برا مان جائے گی۔ اور جس رخ میں لن عارفہ نے پکڑ رکھا تھا اس سے تو منی کا فوارہ سیدھا اس کے منہ پر پی پڑنا تھا۔ پورا چہرہ لتھڑ جاتا۔
"واؤ۔" عارفہ نے بس اتنا ہی کہا آر صورتحال کا دل ہی دل میں تجزیہ کرنے لگی۔ اس کی نظریں شاہ رخ کے ٹوپے پر جمی ہوئی تھیں۔
"میں دیکھنا چاہتی ہوں کہ کیا ہوتا ہے اگر میں مسلتی رہوں تو۔" عارفہ نے کہا اور ہاتھ دوبارہ لن پر رکھ دیا۔
"رکو پلیز " شاہ رخ نے عارفہ کا ہاتھ تھام لیا اور اسے مسلنے سے روکنے لگا۔
"عارفہ کوئی دیکھ لے گا اور پھر کتنا گند بھی تو مچے گا۔ ایسا نہیں کرو پلیز" جنید نے کہا۔
"ہاں تم ٹھیک کہہ رہے ہو" عارفہ کو اس کی بات کی سمجھ آ گئی تھی۔
"میں کلاس کے بعد کر کے دکھا دوں گا تمہیں۔" جنید نے کہا۔
"لیکن لن کی حالت سے تو لگتا ہے کہ ضرورت ابھی ہے۔"
"ہاں ضرورت تو ہے لیکن لیا کریں"
"اف یہ دیکھو کیسے یہ بھی ٹائٹ ہو گئی ہیں۔" عارفہ نے ٹٹوں کہ طرف اشارہ کر کے کہا اور ساتھ ہی انگلی سے انہیں چھیڑ بھی دیا۔
جنید کیلئے خود پر قابو رکھنا مشکل ہو رہا تھا۔
"مجھے اتنا کیوٹ لگ رہا ہے پتہ نہیں کیوں۔ ادھر آؤ میں اس بے چارے کو ایک بوسہ تو دے دوں۔" عارفہ نے کہا اور شاہ رخ کی جانگوں پر ہاتھ رکھ کر چہرہ آگے کیا اور ایک چھوٹا سا بوسہ اس کے لن پر ثبت کر دیا۔ کہنے کو تو یہ بوسہ چھوٹا سا تھا لیکن تھا عین ٹوپے کے اوپر۔ جنید کیلئے محض یہ نظارہ کہ عارفہ کا معصوم چہرہ اس کے ہونٹ جنید کے لن کو چومنے کیلئے آگے بڑھ رہے ہیں، تابوت میں آخری کیل ثابت ہوا۔ اس نے کئی بار مٹھ مارتے ہوئے یہ تصور کیا تھا لیکن اب یہ حقیقت تھا۔
"عارفہ" اس نے ایک لمحہ پہلے عارفہ کو پکارا کہ کسی طرح وہ بچ جائے لیکن اب دیر ہو چکی تھی۔ اس کا لن عارفہ کے سرخ ہونٹوں کی تاب نہ لا سکا تھا۔ عارفہ کو اس کے لن میں ایک حرکت محسوس ہوئی جیسے یہ پھڑک گیا ہو اور پھر ایک لمحے سے بھی کم عرصے میں اسے اپنے ہونٹوں پر ایک گرم گرم گاڑھا مادہ محسوس ہوا۔ عارفہ سمجھ گئی۔ وہ فوراً سمجھ گئی کہ شاہ رخ ڈسچارج ہو گیا تھا بلکہ ہو رہا تھا۔ ایسے میں اگر کسی نے دیکھ لیا تو مصیبت آ جاتی۔ عارفہ کے پاس سوچنے کا وقت نہیں تھا۔ جو کرنا تھا ابھی کرنا تھا۔ نہ جانے یہ ردعمل ٹھیک تھا یا نہیں، عارفہ نے اپنا منہ کھول دیا اور شاہ رخ کے ٹوپے کو اپنے منہ میں لے لیا۔ شاہ رخ نے اپنی پوزیشن ایسے کر لی کہ عباس صاحب کو اس کی پیٹھ نظر آئے۔ اب عارفہ عباس صاحب اور ذیادہ تر طلبا کی نظروں سے اوجھل تھی۔ ڈسچارج ہونے کے باوجود وہ ایسے آگے کو جھکا کہ سب یہی سمجھیں کہ پیچھے سے عارفہ کی کمر پر سے ناپ لے رہا ہے۔ لیکن اس طرح جھکنے سے لن مزید عارفہ لے منہ میں چلا گیا۔ اس طرح منی کے اس کے منہ سے باہر چھلکنے کا خطرہ تو کم ہو گیا لیکن عارفہ نروس ہو گئی کیونکہ اب شاہ رخ کا لن اس کے حلق تک پہنچنے والا تھا۔
عارفہ جانتی تھی کہ ایک نہ ایک دن یہ کام اسے کسی نہ کسی لڑکے کیلئے کرنا تو تھا ہی اور غالب امکان یہی تھا کہ وہ لڑکا شاہ رخ ہی ہوتا۔ وہ شاہ رخ کو پسند کرتی تھی لیکن پھر بھی وہ یہی سمجھتی آئی تھی کہ جو لڑکیاں ایسے کام کرتی ہیں وہ گندی ہوتی ہیں۔ وہ یہی سوچا کرتی تھی کہ ایسے منہ میں لے کر کسی مرد کو منہ میں ڈسچارج کروانا تو رنڈیوں کا کام تھا اور لوگ پیسے دے کر رنڈیوں سے یہ کرواتے تھے یا پھر کوئی لڑکی مری جا رہی ہو اپنے شوہر یا بوائے فرینڈ کیلئے تو وہ ایسا کرتی ہو گی۔ لیکن شومئی قسمت کہ اب اس کے منہ میں لن گھسا ہوا تھا اور منی کے قطرے اس کے منہ اور حلق میں گر رہے تھے۔ وہ سوچ رہی تھی کہ کاش ایسا کرتے کسی کی نظر ان پر نا پڑے۔ اگر کسی نے پوچھا تو اس سے تو جواب بھی نہیں بن پائے گا۔
ایک کے بعد ایک قطرہ اور جھٹکا لگتا رہا اور اس کا منہ منی سے بھرنے لگا۔ عارفہ کا دل بہت تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ شاہ رخ کو بہت مزہ آ رہا ہو گا۔ یہی سوچ کر اس نے اپنی زبان بھی اس کے لن پر پھیر دی تھی کہ جتنی منی ہے ساری منہ میں ہی نکل جائے۔ بعد میں قطرے فرش پر گرے تو کسی کو شک بھی ہو سکتا ہے۔
عارفہ یہ بات بھی تسلیم کر بیٹھی تھی کہ اس کی توقعات کے برعکس منی کا ذائقہ کچھ ایسا برا بھی نہیں تھا۔ یہ کوئی پیشاب تھوڑا ہی تھا۔ یہ تو منی تھی جس سے لڑکیاں حاملہ ہو جاتی ہیں اور پھر اسی منی سے بچے کا جنم ماں کی کوکھ میں ہوتا ہے۔ شاہ رخ کے لن کے آخری جھٹکوں سے نکلنے والی منی منہ میں لیتے ہوئے ہوئے وہ یہی سوچ رہی تھی کہ ایک دن اسی منی سے وہ بھی ماں بن جائے گی۔
شاہ رخ جب منی نکال چکا تو اس نے لن عارفہ کے منہ سے نکال لیا اور بے اختیار عارفہ سے معافی مانگنے لگا۔
"آئی ایم سو سوری عارفہ پتہ ہی نہیں چلا اچانک سے بس ہو گیا یہ سب کچھ۔"
عارفہ کو کوئی مسلہ نہیں تھا سوائے اس کے کہ اس کا منہ اب بھی منی سے بھرا ہوا تھا اس لئے اسے اپنے ہونٹ بند ہی رکھنے پڑ رہے تھے۔ وہ بولنا چاہتی تھی لیکن اس حالت میں بولتی تو منی باہر گر جاتی۔ یہ اتنی گاڑھی تھی کہ عارفہ کیلئے ساری ایک ساتھ نگلنی مشکل تھی۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا کہ کوئی چیز مل جائے جسے پی کر وہ منی حلق سے نیچے اتار سکے لیکن ایسا کچھ نہیں تھا۔ شاہ رخ سمجھ گیا تھا کہ عارفہ کے جواب نہ دینے کہ وجہ کیا ہے۔ عارفہ نے شاہ رخ کی طرف چہرہ اٹھا کر دیکھا۔ شاہ رخ کو اس لمحے اتنا پیار آیا کہ اس نے جھک کر عارفہ کے بند ہونٹوں پر ایک بوسہ لے لیا۔ لیکن بوسے کے فوراً بعد دونوں کی نگاہیں عباس صاحب پر ہی گئی تھیں کہ کہیں انہوں نے دیکھ تو نہیں لیا۔

مریم شاہ (Part 4)


 "سوری عثمان۔ لیٹ ہو گئی۔ ایک میٹنگ تھی جو ختم ہی نہیں ہونے میں آ رہی تھی۔ اللہ اللہ کر کے ختم ہوئی تو میں گھر جا کے تیار ہوئی پھر یہاں آئی۔ رئیلی سوری"
میرا دل کیا آگے بڑھ کر انہیں چوم لوں لیکن بس مسکرانے پر ہی اکتفا کیا اور کہا: "کوئی بات نہیں میں بھی بس ابھی آیا تھا۔"
بیرے نے پوچھا کھانے سے پہلے کچھ لیں گے یا نہیں تو مریم نے فوراً اسے اپنے لئے جن اینڈ ٹانک لانے کا کہا۔ ریسٹورنٹ میں کام کرنے کے ناطے مجھے پتہ تھا کہ یہ بہت قیمتی شراب ہے۔ میں شراب پینے کا عادی نہیں تھا لیکن مریم کی موجودگی میں اپنے لئے پانی منگواتے عجیب سا لگ رہا تھا اس لئے میں نے بھی بیرے سے وہی شراب لانے کا کہہ دیا جو مریم نے اپنے لئے منگوائی تھی۔
"ہاں بھئی۔ کیسے ہو؟" بیرے کے جانے کے بعد مریم نے میری طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا۔ ان کی مسکراہٹ کے سامنے مجھے اپنا آپ پگھلتا محسوس ہوا۔ واقعی ان کا حسن بے مثال تھا۔
"ٹھیک ہوں" میں بس اتنا ہی کہہ سکا۔
بیرہ شراب لے آیا اور مریم نے نظریں مجھ پر گاڑے ہوئے ایک چسکی لی۔
"بتاؤ نا کچھ اپنے بارے میں۔ مجھے تو بس یہی پتہ ہے کہ تم سٹوڈنٹ ہو اور ساتھ ریسٹورنٹ میں نوکری کرتے ہو" انہوں نے مجھ سے کہا۔
"جی بتاتا ہوں۔ میرا تعلق گاؤں سے ہے۔ ابو آرکیٹیکٹ ہیں۔ دو بڑی بہنیں ہیں جو شادی شدہ ہیں۔" میں نے انہیں اپنا تعارف کروایا اور کرواتا ہی چلا گیا۔ انہیں بتایا کہ میں نے پہلے آرمی کا ٹیسٹ بھی دیا تھا لیکن انٹرویو میں فیل ہو گیا۔ مریم بہت توجہ سے میری باتیں سن رہی تھیں۔ ان کی نظریں بھی مجھ پر ہی تھیں۔ ساتھ ہی وہ مجھ سے سوال بھی پوچھ رہی تھیں۔ انہوں نے مجھ سے میری امی اور بہنوں سے متعلق پوچھا۔ پھر میرے مشاغل اور پسندیدہ میوزک کے بارے میں پوچھا۔ میں انہیں بتاتا گیا وہ میری باتوں پر مسکراتی گئیں اور مجھے اتنی خوشی محسوس ہوئی کہ الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا۔ محض ان کی صحبت ہی میرے لئے کافی تھی۔ اب مجھے پرواہ نہیں تھی کہ آگے کیا ہوتا ہے۔ میرے لئے یہی کافی تھا کہ مریم جیسی انتہائی خوبصورت خاتون کی صحبت میں اتنے پیاری جگہ پر بیٹھ کر دل کی باتیں کر رہا تھا۔
کھانا لگ گیا۔ کھانا کھاتے کھاتے مجھے احساس ہوا کہ اب تک میں نے تو اپنے بارے میں بہت کچھ انہیں بتا دیا ہے لیکن ان سے کچھ بھی نہیں پوچھا۔
"آپ بھی تو اپنے بارے میں کچھ بتائیں نا۔" میں نے کہا۔
مریم نے اپنا منہ نیپکن سے صاف کیا اور بولیں: "کیا جاننا چاہتے ہو؟"
"سب کچھ۔ مجھے بھی آپ کے بارے میں بس اتنا ہی پتہ پے کہ آپ کا ٹریول ایجنسی کا بزنس ہے۔"
"میں فیصل آباد میں پیدا ہوئی تھی۔ والد ڈاکٹر تھے۔ انہیں برطانیہ میں نوکری مل گئی تو ہم سب وہاں شفٹ ہو گئے۔ اس وقت میری عمر پانچ سال تھی۔ اب میری عمر اکاون سال ہے۔"
"آپ کی انگریزی تو بہت اچھی ہو گی" میں نے پوچھا۔
"ہاں ظاہر ہے بچپن سے تو انگریزی بولتی آ رہی ہوں۔ اب تو میں سوچتی بھی انگریزی میں ہی ہوں اور خواب بھی انگریزی میں ہی آتے ہیں۔"
انہوں نے مزید بتایا کہ دو سال پہلے ان کے والد کی وفات ہو گئی تھی لیکن والدہ ابھی حیات تھیں۔ یہ بھی بتایا کہ کافی سال پہلے ان کی شادی ہوئی تھی لیکن زیادہ عرصہ چل نہ سکی تھی۔ بچے بھی نہیں تھے جس کا انہیں بہت دکھ تھا۔ ان کی ایک بہن بھی تھیں جو ڈاکٹر تھیں۔ مریم نے مزید بتایا کہ ان کے والد کو ان سے ہمیشہ مایوسی ہوئی تھی کیونکہ وہ ڈاکٹر جو نہیں بنی تھیں۔
"میں ہمیشہ سے اپنا بزنس کرنا چاہتی تھی۔ مقصد تو پیسہ کمانا ہی ہوتا ہے نا" ان کی آواز میں ہلکی سی اداسی تھی۔
"جی اور آپ تو کافی کامیابی بزنس وومن ہیں"
"کامیابی کی کئی قسمیں ہوتی ہیں عثمان۔" انہوں نے کہا۔ ہم کھانے کے بعد میٹھا بھی چکھ چکے تھے اور اب پھر سے شراب کی چسکیاں لے رہے تھے۔
مریم کی بات پر مجھ سے کوئی جواب نہ بن پڑا اور کچھ دیر خاموشی چھا گئی۔ شاید ہم دونوں ہی ایک دوسرے کی باتوں کو اپنے اندر جذب کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
اتنے میں بیرہ آ گیا اور یم سے کافی کا پوچھا۔ میں نے مریم کی طرف دیکھا۔
"نہیں " مریم نے سنجیدہ لہجے میں جواب دیا۔ میں ان کے لہجے میں اداسی بھانپ گیا تھا۔ شاید اب وہ اس ملاقات کو ختم کرنا چاہ رہی تھیں۔ انہوں نے بل منگوا کر ادائیگی کی اور بیرہ ان کا کوٹ بھی لے آیا جسے پہنانے میں اس نے مریم کی مدد بھی کی۔ کچھ ہی دیر میں ہم کیفے سے باہر نکل آئے۔
جب ہم کھانا کھا رہے تھے تب ہلکی ہلکی بوندا باندی ہو رہی تھی جس سے اب موسم بہت خوشگوار ہو گیا تھا۔
"مریم آپ کا بہت شکریہ۔ مجھے آپ کے ساتھ وقت گزار کر بہت اچھا لگا" میں نے مریم کا شکریہ ادا کیا۔
"کیا تمہیں گھر جانے کی جلدی ہے؟" انہوں نے پوچھا۔
"نہیں تو"
"میرا فلیٹ یہاں سے قریب ہی ہے۔ چلو چل کر کافی پیتے ہیں۔ اس کیفے کی کافی اتنی اچھی نہیں ہے اسی لئے میں نے یہاں سے نہیں پی۔"
دس بج چکے تھے اور رش کم ہونے لگا تھا۔ ریسٹورنٹ البتہ کھلے تھے۔ میں مریم کے ساتھ پیدل چلنے لگا۔ فلیٹ قریب ہونے کی وجہ سے وہ کیفے بھی پیدل پی آئی تھیں۔ چند منٹ کے بعد ایک بلڈنگ کے سیکیورٹی ڈور سے گزرنے کیلئے مریم نے پرس سے ایک کارڈ نکال کر سوائپ کیا اور ہم بلڈنگ کی لابی میں پہنچ گئے۔ لفٹ میں سوار ہو کر مریم نے دسویں منزل کا بٹن دبا دیا۔ دسویں منزل سے سے بالائی منزل تھی۔
لفٹ سے نکلے تو نیچے سے بھی بڑی لابی ہمارے سامنے تھی۔ یہاں دو دروازے تھے۔ مریم نے چابی نکال کر ایک دروازہ کھولا۔ یہاں جوتوں کا ریک اور کپڑوں کی الماری تھی۔ مریم نے اپنا کوٹ ٹانگ دیا اور ہم فلیٹ کے مین ایریا میں آ گئے۔ ان کا فلیٹ کافی بڑا تھا۔ لاؤنج میں کئی صوفے رکھے تھے اور دیوار پر بڑی سی ایل سی ڈی نصب تھی۔ ایک طرف کچن تھا اور دوسری طرف کمروں کے دروازے۔ کچن کے ساتھ ایک بڑی سی کھڑکی سے باہر کا منظر نظر آتا تھا۔

Friday, 27 September 2024

مریم شاہ (Part 3)


اس رات پہلی بار میں مریم کے خیالوں میں کھویا رہا۔ ان کے حسین سراپے کو تخیل میں لا کر سوچتا رہا۔ نہ جانے کب بستر میں لیٹے لیٹے میرا ہاتھ اپنی ٹانگوں کے درمیان چلا گیا اور میں نے خیالات میں مریم کے جسم کو چھوا، ان کے جسم پر ان گنت بوست ثبت کئے۔ آج سے پہلے جب بھی مریم کے جسم کے بارے میں سوچتا تھا تو ایسا لگتا تھا جیسے یہ کوئی ممنوعہ کام ہو جیسے یہ کوئی گناہ ہو جیسے مریم کے جسم کا سوچنا ایسا ہے جیسے اپنی ماں یا اپنی بہن کے بارے میں سوچنا۔ میں ہمیشہ ایسے خیالات جھٹک دیا کرتا تھا لیکن آج جھٹکنے کی بجائے مریم کا سوچ کر اپنے لن پر ہاتھ پھیرنے لگا۔
شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ اب مجھے مریم کے ساتھ جسمانی تعلق ناممکن نہیں لگتا تھا۔ انہوں نے مجھے ڈنر کی دعوت دی تھی تو ظاہر ہے انہیں میں پسند تو تھا نا۔ جب میں نے آنکھیں بند کر کے خیالوں میں مریم کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ ٹچ کئے، ان کے جسم کو ہاتھوں میں لے کر ان کے کپڑے اتارے تو میرا ہاتھ اپنے لن پر تیزی سے اوپر نیچے ہونے لگا۔ میں نے خیالوں میں مریم کو ننگی کر دیا اور انہیں بستر پر لٹا کر اپنا لن ان کی ٹانگوں کے درمیان رکھ دیا۔
"آہ ہ ہ ہ ہ مریم" میرے منہ سے ایک لمبی سی آہ نکل گئی اور ساتھ ہی میں ڈسچارج بھی ہو گیا۔ کپڑے تو گندے ہو ہی گئے تھے لیکن ساتھ ہی میرے جذبات بھی تبدیل ہو گئے۔ مریم کے ساتھ جنسی تعلق ایک بچگانہ سوچ لگنے لگی۔ اپنے اوپر ہنسی آنے لگی اور میں سوچنے لگا شاید مریم نے ترس کھا کر مجھے ڈنر پر مدعو کیا ہے یا شاید وہ اپنے سامنے مجھے گھبرایا دیکھ کر محظوظ ہوتی ہیں۔
اگلا ایک ہفتہ بہت بے چینی کے عالم میں گزرا۔ کبھی میں سوچتا کینڈل لائٹ ڈنر میں مریم کو اپنی ذہانت سے متاثر کر دوں گا تو کبھی مجھے لگتا کہ انہیں دیکھ کر میرا سارا کانفیڈنس تاش کے پتوں کی طرح بکھر جائے گا اور سارا وقت میری گھبراہٹ میں ہی گزر جائے گا۔
عید پر بھی ریسٹورنٹ تو اوپن ہی تھا اور چھٹی بھی نہیں تھی میری لیکن بدھ والے دن میں اس قدر نروس تھا کہ فاخرہ بھی میری حالت دیکھ کر پوچھ بیٹھی کہ سب کچھ ٹھیک ہے نا۔ میں نے اسے امتحانات کا بہانہ کر دیا کہ پیپرز کی وجہ سے پریشان ہوں۔
ریسٹورنٹ سے چھٹی کے بعد ہاسٹل پہنچ کر میں نے شاور لیا، بوٹ پالش کیے اور گہرے نیلے رنگ کی شرٹ کاٹن جینز کی پینٹ کے ساتھ پہنی۔ یہ شرٹ میں نے پچھلے ہفتے آج کیلئے ہی خریدی تھی اور اتنی مہنگی خریدی تھی کہ اتنے پیسوں میں دو ہفتے کی خوراک کا بندوبست ہو سکتا تھا۔ شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر خود کو دیکھا اور امید کی کہ مریم کو پسند آ جاؤں گا۔ ایک لمحے کو خیال آیا کہ کہیں وہ یہ توقع نہ کر رہی ہوں کہ میں سوٹ پہن کر آؤں گا۔ میرے پاس تو کوئی سوٹ تھا بھی نہیں۔ خیر میں تیار ہو کر وقت سے پہلے ہی کیفے جانے کیلئے نکل کھڑا ہوا اور جب وہاں پہنچا تو سات بجنے میں ابھی پندرہ منٹ باقی تھے۔
کیفے میری توقعات سے زیادہ پرتعیش تھا۔ باہر ہی ایک بیرہ لوگوں کو خوش آمدید کہہ رہا تھا۔ میں کیفے میں داخل ہوا تو کانوں میں باتوں کی آوازیں آنے لگیں۔ میں نے بیرے کو مریم شاہ کا بتایا تو وہ مجھے اوپری منزل پر بالکونی میں لے آیا جہاں ایک ہی میز تھی اور کسی قسم کی کوئی آواز بھی نہیں آ رہی تھی۔ اس نے مجھے بتایا کہ مریم شاہ صاحبہ تو ابھی نہیں آئیں اور اگر میں چاہوں تو دوران انتظار کوئی بھی چیز آرڈر کر سکتا ہوں۔ میں نے منع کر دیا اور تنہائی میں مریم کی راہ دیکھنے لگا۔
میں نے سوچا یقیناً مریم غیر شادی شدہ ہوں گی ورنہ مجھ جیسے جوان لڑکے کو یوں ڈنر پر کیوں بلاتیں۔ یا پھر شاید یہ ان کیلئے بزنس ڈنر ہی تھا اور وہ بس ریسٹورنٹ میں میری خدمات کا شکریہ ادا کرنا چاہ رہی ہوں۔ اور انہوں نے میرے بارے میں اپنے شوہر کو بھی بتا دیا ہو گا۔ کہیں وہ شوہر کو بھی ساتھ ہی نہ لے آئیں ڈنر پر۔ لیکن میز تو دو ہی افراد کیلئے سجائی گئی تھی۔ میں اپنی بے وقوفانہ سوچ پر مسکرا اٹھا۔
میں نے گھڑی کی طرف دیکھا۔ سات بجنے میں پانچ منٹ رہ گئے تھے۔
نہ جانے وہ کیسے کپڑے پہن کر آئیں گی۔ ریسٹورنٹ میں تو ہمیشہ بزنس سوٹ پہنتی تھیں۔ ایک مرتبہ بس سکرٹ پہن کر آئی تھیں۔ مجھے سکرٹ زیادہ پسند تھا۔ ان کی ٹانگیں بھی تو بہت خوبصورت تھیں۔ ایسی خوبصورت ٹانگوں کو کپڑوں میں چھپانا اچھی بات نہیں۔ یہ تو سب کو نظر آنی چاہئیں۔
سات بج گئے اور بے اختیار میری نگاہ دروازے کی جانب اٹھ گئی لیکن دروازہ بند تھا۔ کہیں انہوں نے مجھے دھوکہ تو نہیں دیا۔ لگتی تو نہیں تھیں ایسی۔ یا شاید انہیں کوئی کام پڑ گیا ہو اور ان کے پاس تو میرا نمبر ہی نہیں تو کال کیسے کرتیں۔ ویسے ریسٹورنٹ کا نمبر تو ہو گا ہی۔ وہاں ہی کال کر کے بتا دیتیں دن میں۔
سات بج کر پانچ منٹ ہو گئے۔ میں نے سوچا خواتین اکثر لیٹ ہو جاتی ہیں۔ نارمل ہی ہو گا یہ۔
سات بج کر دس منٹ ہو گئے۔ اب میں سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ مزید کتنی دیر مجھے ان کا انتظار کرنا چاہیے۔ ساڑھے سات تک، پونے آٹھ تک یا اس سے بھی زیادہ دیر تک۔
عین اسی وقت دروازہ کھلا اور مریم بالکونی میں داخل ہوئیں۔ بیرہ ان کے پیچھے تھا۔ میں فوراً ان کے استقبال کو کھڑا ہو گیا۔
مریم نے اپنا پرس فرش پر رکھا اور بیرے نے پیچھے سے انہیں کوٹ اتارنے میں مدد کی۔ ان کو کوٹ انتہائی قیمتی معلوم ہوتا تھا۔ نیچے انہوں نے گہرے سبز رنگ کا چست سا لباس پہن رکھا تھا جس سے ان کا فگر نمایاں ہو گیا تھا۔ چھاتیوں پر سے لباس چست ہونے کی وجہ سے ممے بھی کافی ابھرے ہوئے لگ رہے تھے۔ میک اپ سے اندازہ ہوتا تھا کہ وہ بیوٹی پارلر سے تیار ہوئی ہیں۔ بھرے بھرے ہونٹوں پر سرخ رنگ کی لپ اسٹک بہت جچ رہی تھی۔ لیمپ کی مدھم روشنی میں بھی ان کے کالے بال چمک رہے تھے اور جلد بھی دکھنے میں بہت ملائم لگ رہی تھی۔

 

ہنی مون ان جرمنی Part 4

  پتہ نہیں یہ مارٹن کی عادت تھی کہ ہر سوال کے جواب میں تقریر جھاڑ دیتا تھا یا پھر میری وجہ سے ایسا کر رہا تھا لیکن میں نے چپ چاپ اسکی باتیں ...