"واؤ۔ زبردست اپارٹمنٹ ہے" میں نے ان کے فلیٹ کی تعریف کی۔
"تازہ تازہ کافی پینا پسند کرو گے یا پھر چھوڑو کافی۔ آؤ پیار کریں"
مریم کی بات غیر متوقع تو تھی لیکن میری تو جیسے آواز ہی بند ہو گئی۔ چاہنے کے باوجود ان کی بات کا جواب نہ دے پا رہا تھا اور سانس ایسے پھولی ہوئی تھی جیسے پانچ ہزار میٹر کی ریس لگا کر آیا ہوں۔ لیکن مجھے ان کا یوں بولڈ انداز اچھا لگا تھا۔ بغیر کسی تمہید کے وہ مطلب کی بات پر آ گئی تھیں۔
"یس" میں نے ہمت جمع کر کے بس اتنا ہی کہا۔
وہ میرے قریب آئیں اور اپنے ہاتھ میرے کندھوں پر رکھ دئے۔ میں نے ڈرتے ڈرتے اپنے ہاتھ ان کی کمر کے گرد رکھے۔ وہ میرے ڈر کو بھانپ گئیں اور مسکرا کر کہنے لگیں: "ڈرو نہیں عثمان میں کاٹتی نہیں ہوں۔ بغیر کہے تو بالکل نہیں۔" ان کی مسکراہٹ سے ان کے سفید دانت نظر آنے لگے تھے جو ان کے سرخ ہونٹوں کے ساتھ بہت پیارے لگ رہے تھے۔
ہیلز پہنے ہوئے ان کا قد میرے برابر ہو گیا تھا۔ ہمارے چہرے ایک دوسرے سے قریب ہوتے گئے اور مجھے ان کے ہونٹ اپنے ہونٹوں پر محسوس ہوئے۔ ان کے نرم و نازک ہونٹ میرے ہونٹوں پر ٹچ ہوئے اور ہم ایک دوسرے کو چومنے لگے۔ مریم کے ساتھ پہلے بوسے کی یادیں میں اپنے دل سے کبھی نہیں نکال سکتا۔ شاید مرتے دم تک نہ بھول سکوں اسے۔ میری زندگی کی سب سے بھرپور کس تھی یہ اور اس لمحے میں نے سوچا تھا شاید بڑی عمر کی سب ہی عورتیں ایسے جوش سے چومتی ہوں۔ مریم کی ہر ادا میں جوش تھا۔ اور پہلی بار ہونٹ چومنے کے انداز سے ہی مجھے یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ مریم سے بہتر سیکس پارٹنر مجھے کبھی نہیں مل سکتی۔
میں نے بھی ان کے چومنے کا بھرپور جواب دیا تھا۔ ان کے ہونٹ اپنے ہونٹوں کے اندر لے کر چوسے اور پھر میری زبان ان کی زبان سے ٹکرائی اور ہم دیوانہ وار ایک دوسرے کے ہونٹ اور زبان چوسنے اور چاٹنے لگے۔ میرے ہاتھ بدستور ان کی کمر پر تھے۔ میں ان کی کمر کے اتار چڑھاؤ اپنے ہاتھوں پر محسوس کر رہا تھا جبکہ وہ میری گردن پر ہاتھ پھیرے جا رہی تھیں۔
"زپ کھولو" مریم نے ہونٹ پیچھے کر کے میرے کان میں سرگوشی کی۔
میں نے ان کی قمیض کے پیچھے زپ کا ہک پکڑا اور اسے ان کی کمر کے نچلے حصے تک کھینچ دیا۔ ان کے چوتڑ باہر آنے کو بے تاب تھے۔ مریم میری گرفت سے نکل گئیں اور تھوڑا سا پیچھے ہٹ کر انہوں نے اپنے بازو قمیض سے باہر نکالے اور قمیض کو ٹانگوں پر سے نیچے کر کے پاؤں اٹھا کر قمیض سے باہر نکال لئے۔ نیچے انہوں نے سیاہ رنگ کی لیس والی برا پہنی تھی۔ پینٹی بھی اس کے ساتھ کی تھی۔ ٹانگوں پر سیاہ سٹاکنگ چڑھائی ہوئی تھی۔ ہیلز اب بھی ان کے پاؤں میں تھیں۔
فلیٹ میں روشنی کم تھی لیکن اتنی کم نہیں کہ میں ان کا سیکسی سراپا نہ دیکھ سکتا۔ ان کا فگر آئڈیل تھا۔ ان میں وہ سب کچھ تھا جس کی میں نے ہمیشہ تمنا کی تھی۔ وہ دبلی پتلی تھیں، پیٹ نہ ہونے کے برابر لیکن چھاتیاں بھرپور۔ نہ زیادہ بڑی نہ چھوٹی۔ جسم کے مطابق بالکل پرفیکٹ۔ چوتڑوں کے ابھار اور لمبی لمبی ٹانگوں پر سیاہ سٹاکنگ نے ان کی ٹانگوں کے ہر زاویے کو عیاں کر دیا تھا۔
"آپ بہت خوبصورت ہیں" میں نے مریم کی تعریف کی۔ وہ مسکرائیں، جھک کر اپنا لباس اٹھایا اور صوفے پر ترتیب سے رکھ کر میری طرف مڑیں اور میرے کپڑے اتارنے لگیں۔
پہلے آستینوں کے بٹن، پھر شرٹ کے بٹن کھولے، پھر شرٹ پتلون سے نکالی اور پھر میرے بازو شرٹ میں سے نکال کر میری شرٹ اپنے کپڑوں کی طرف صوفے پر اچھال دی۔
میں تو جیسے بے یقینی کی سی کیفیت میں تھا۔ چپ چاپ کھڑا رہا جبکہ مریم نے پہلے میری پتلون کی بیلٹ کھولی اور پھر دونوں طرف انگوٹھے پھنسا کر پتلون اور انڈر وئیر ایک ساتھ اتار دئیے۔ میرا لن ان کے یوں پتلون اتارنے سے ان کے چہرے کے بالکل قریب آ گیا تھا۔
"بیٹھ جاؤ عثمان" انہوں نے مجھ سے کہا۔ میں نے بغیر دیکھے قدم پیچھے کی طرف بڑھائے اور جب پاؤں صوفے سے ٹچ ہوئے تو دھڑام سے بیٹھ گیا۔ مریم میری ٹانگوں میں بیٹھ گئیں اور میرے جوتوں کے تسمے کھول کر جوتے اتار دئے۔ جرابیں بھی اتار دیں اور پتلون اور انڈر وئیر میں سے پاؤں نکال کر مجھے بالکل ننگا کر دیا۔
مجھے بے چینی محسوس ہو رہی تھی۔ کیا میں ایسی بے باک خاتون کو مطمئن بھی کر پاؤں گا؟ کالج میں لڑکیوں سے جسمانی تعلقات تو رہے تھے لیکن وہ لڑکیاں تو اتنی تجربہ کار نہیں تھیں۔ اپنی عمر سے دوگنا سے بھی زیادہ عمر کی خاتون کے ساتھ سیکس کیسا ہو گا؟ یقیناً اپنی زندگی میں مریم نے بہت سے مردوں کے ساتھ سیکس کیا ہو گا۔ کامیاب مردوں کے ساتھ جو ایک خاتون کو مطمئن کرنا جانتے ہوں گے۔ بستر میں بھی اور بستر سے باہر بھی۔
میں نے ان تمام سوچوں کو دماغ سے جھٹکنے کی کوشش کی۔ میرا لن فولاد کی مانند سخت تھا۔ سائز بھی مناسب تھا لہذا میں اس بارے میں تو اتنا پریشان نہیں تھا۔ ویسے بھی مریم کا رویہ ایسا تھا جیسے وہ اس ساری سچویشن میں انچارج ہو لہذا میں نے سوچا حالات کے دھارے پر خود کو چھوڑ دینا ہی مناسب ہے۔

No comments:
Post a Comment