میرے سامنے کھڑی ہو کر انہوں نے ہاتھ پیچھے لے جا کر اپنی برا کے ہک کھول دئے اور برا فرش پر گرا دی۔ ان کے ممے اتنی عمر ہونے کے باوجود ڈھلکے ہوئے نہیں تھے بلکہ سینے پر پرفیکٹ انداز میں فکس تھے۔ مموں پر نپل اور ان کے ارد گرد کا حصہ گہرے بھورے رنگ کا تھا۔ نپلز بڑے بڑے تھے اور دیکھنے میں ہی کافی رسیلے لگ رہے تھے۔
وہ میری طرف دیکھ کر مسکرائیں۔ میں صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔ میرا منہ کھلا کا کھلا تھا اور سانسیں تیز تر۔ ایک بار پھر سے جھک کر انہوں نے اپنی پینٹی بھی اتار دی۔ ان کی پھدی کے گرد گہرے سیاہ بال تھے۔
بغیر کچھ کہے وہ ٹانگیں میرے گرد کر کے اور ہاتھ میرے کندھوں پر رکھ کر میرے اوپر سوار ہو گئیں۔
"اندر ڈالو عثمان" انہوں نے میرے کان میں کہا۔
میں نے ہاتھ ان کی ٹانگوں کے درمیان سے لے جا کر اپنا لن پکڑ لیا۔ ٹوپا بہت گرم ہو رہا تھا۔ مریم آہستگی سے نیچے ہونے لگیں، بہت ہی آہستگی سے۔ میرا ٹوپا ان کی پھدی سے ٹچ ہو رہا تھا۔ مجھے ان کے بال اپنے لن پر محسوس ہوئے۔ میری جانگوں کے پٹھے اکڑ گئے اور میں لن سے ان کی پھدی کا دہانہ ڈھونڈنے لگا تاکہ جلدی سے اندر ڈال سکوں۔ میں نے جانگیں اوپر کر کے بھی کوشش کی لیکن مریم نے اپنے چوتڑ مزید نیچے نہیں کئے بلکہ چوتڑ آگے پیچھے کرنے لگیں جس سے میرا لن ان کی پھدی کے دہانے سے رگڑ کھانے لگا۔ مجھے اپنے لن پر ان کی پھدی کے ہونٹ کھلتے محسوس ہوئے اور مریم ایک دم سے نیچے ہو گئیں۔ مجھے اپنے لن پر ان کی پھدی کی گرمی اور نمی محسوس ہوئی جبکہ مریم کے منہ سے بھی لذت بھری آہ نکل گئی۔ انہوں نے ایک ہی جھٹکے میں میرا پورا لن اپنے اندر لے لیا تھا۔
"یس" انہوں نے میرے کان میں سرگوشی کی۔ یم دونوں چند لمحات ساکن رہے۔ میں ان کا وزن اپنے اوپر محسوس کر رہا تھا۔ میرے بازو ان کے جسم کے گرد تھے اور میں دونوں ہاتھ ان کی کمر اور چوتڑ کے ابھاروں پر پھیر رہا تھا۔ ان کے پرفیوم اور جسم کی خوشبو میرے نتھنوں کو معطر کر رہی تھی۔ مریم نے میرے بالوں پر ہاتھ پھیرے اور پھر میرا چہرہ پکڑ کر اپنے چہرے کے قریب کیا۔
"چومو مجھے عثمان۔ چوم لو مجھے۔" ان کی سرگوشی میں بھی کمال کی حدت تھی۔
انہوں نے اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پر دبا دیے اور زبان میرے منہ میں گھسا دی۔ ہم دونوں دیوانہ وار ایک دوسرے کو چومنے لگے اور اتنا قریب ہونے پر مجھے ان کے جسم سے بھرپور لذت اٹھانے کا موقع ملا۔ ان کے جسم کی گرمی مجھے پاگل کئے دے رہی تھی۔ ایک دوسرے کے منہ میں اپنی زبانیں ڈالیں، ہم دنیا سے بیگانہ ہو گئے تھے۔
اس بھرپور بوسے کے دوران مریم کے جسم میں بھی حرکت کے آثار نمودار ہونا شروع ہو گئے تھے۔ آہستہ آہستہ وہ اوپر اٹھتیں اور پھر نیچے ہو جاتیں۔ ان کی ہر حرکت پر میرا لن تھوڑا سا ان کی پھدی سے باہر نکلتا اور پھر سے اندر چلا جاتا۔ لیکن وہ صرف اوپر نیچے ہی نہیں ہو رہی تھیں بلکہ کئی مواقع پر پورا لن اندر کر کے اپنے چوتڑ میری ٹانگوں پر رگڑنے لگتیں۔ میرے کندھوں پر ان کی گرفت سخت ہو گئی، ان کی آہیں بلند ہو گئیں۔
اس پوزیشن میں مجھے ڈسچارج ہونے کا کوئی خطرہ نہیں تھا۔ میں تو بس اس بے باک عورت کو ہر پابندی سے آزاد اپنے لن پر اچھل اچھل کر مزے لیتے دیکھ کر لطف اندوز ہو رہا تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ بھی لذت کی بلندیوں پر ہیں۔ ان کی تیز تر حرکات سے مجھے لگا جیسے وہ ڈسچارج ہونے کے قریب ہیں۔ انہوں نے میرا جسم سختی سے بھینچ لیا تھا جس سے میرا چہرہ ان کے مموں کے درمیان دب سا گیا۔ ان کا ایک نپل بالکل میرے منہ کے سامنے تھا۔ میں نے فوراً منہ میں لے کر چوسنا شروع کر دیا۔
"کاٹو اسے عثمان۔ نپل پر کاٹو میرے" مریم کی آواز بھرا گئی۔ میں نے دانت ان کے نپل پر گاڑ دئے اور انہوں نے اپنے ناخن میری جلد میں۔ وہ ڈسچارج ہو رہی تھیں۔ ان کا پورا جسم کانپنے لگا اور وہ تیزی سے میرے لن پر اوپر نیچے ہونے لگیں۔ یکے بعد دیگرے کئی جھٹکوں اور لذت بھری چیخوں کے بعد وہ ٹھنڈی ہو گئیں اور اپنے جسم کو میرے جسم کے اوپر جیسے بے جان چھوڑ دیا۔ ان کے کالے بال میری گردن پر تھے اور ان کی گرم گرم سانسیں مجھے اپنے کندھوں کی پچھلی جانب محسوس ہو رہی تھیں۔
ہم کچھ دیر ایسے ہی خاموش سے بیٹھے رہے۔ پھر مریم نے پیچھے ہٹ کر میری پیشانی چومی اور میرے اوپر سے ہٹ گئیں۔
"چلو بیڈ روم میں چلیں۔" مریم نے کہا۔
میں صوفے سے اٹھا اور مریم نے میرے بازو میں اپنا بازو ڈال دیا اور ایک بند دروازے کی طرف لے کر چلیں۔ دروازہ کھلا تو میرا منہ پھر سے حیرت سے کھلا کا کھلا رہ گیا۔ اندر ایک نہایت کشادہ بیڈ روم تھا۔ اتنا کشادہ کہ کمرہ بہت بڑا ہونے کے باوجود ڈریسنگ روم کمرے سے علیحدہ تھا۔ ایک پرتعیش واشروم بھی کمرے سے منسلک تھا۔ اس کمرے میں بھی ایک بہت بڑی کھڑکی تھی جس سے شہر کی روشنیاں اندر آ رہی تھیں۔ کمرے کی لائٹس آف تھیں لیکن باہر سے آنے والی روشنی سے سب کچھ ہلکا ہلکا دکھ رہا تھا۔
مریم بیڈ پر چڑھ گئیں اور سیدھی لیٹ گئیں۔
"میں تمہاری ہوں۔ جو چاہو کرو" انہوں نے پیار بھرے لہجے میں کہا۔

No comments:
Post a Comment