شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ اب مجھے مریم کے ساتھ جسمانی تعلق ناممکن نہیں لگتا تھا۔ انہوں نے مجھے ڈنر کی دعوت دی تھی تو ظاہر ہے انہیں میں پسند تو تھا نا۔ جب میں نے آنکھیں بند کر کے خیالوں میں مریم کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ ٹچ کئے، ان کے جسم کو ہاتھوں میں لے کر ان کے کپڑے اتارے تو میرا ہاتھ اپنے لن پر تیزی سے اوپر نیچے ہونے لگا۔ میں نے خیالوں میں مریم کو ننگی کر دیا اور انہیں بستر پر لٹا کر اپنا لن ان کی ٹانگوں کے درمیان رکھ دیا۔
"آہ ہ ہ ہ ہ مریم" میرے منہ سے ایک لمبی سی آہ نکل گئی اور ساتھ ہی میں ڈسچارج بھی ہو گیا۔ کپڑے تو گندے ہو ہی گئے تھے لیکن ساتھ ہی میرے جذبات بھی تبدیل ہو گئے۔ مریم کے ساتھ جنسی تعلق ایک بچگانہ سوچ لگنے لگی۔ اپنے اوپر ہنسی آنے لگی اور میں سوچنے لگا شاید مریم نے ترس کھا کر مجھے ڈنر پر مدعو کیا ہے یا شاید وہ اپنے سامنے مجھے گھبرایا دیکھ کر محظوظ ہوتی ہیں۔
اگلا ایک ہفتہ بہت بے چینی کے عالم میں گزرا۔ کبھی میں سوچتا کینڈل لائٹ ڈنر میں مریم کو اپنی ذہانت سے متاثر کر دوں گا تو کبھی مجھے لگتا کہ انہیں دیکھ کر میرا سارا کانفیڈنس تاش کے پتوں کی طرح بکھر جائے گا اور سارا وقت میری گھبراہٹ میں ہی گزر جائے گا۔
عید پر بھی ریسٹورنٹ تو اوپن ہی تھا اور چھٹی بھی نہیں تھی میری لیکن بدھ والے دن میں اس قدر نروس تھا کہ فاخرہ بھی میری حالت دیکھ کر پوچھ بیٹھی کہ سب کچھ ٹھیک ہے نا۔ میں نے اسے امتحانات کا بہانہ کر دیا کہ پیپرز کی وجہ سے پریشان ہوں۔
ریسٹورنٹ سے چھٹی کے بعد ہاسٹل پہنچ کر میں نے شاور لیا، بوٹ پالش کیے اور گہرے نیلے رنگ کی شرٹ کاٹن جینز کی پینٹ کے ساتھ پہنی۔ یہ شرٹ میں نے پچھلے ہفتے آج کیلئے ہی خریدی تھی اور اتنی مہنگی خریدی تھی کہ اتنے پیسوں میں دو ہفتے کی خوراک کا بندوبست ہو سکتا تھا۔ شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر خود کو دیکھا اور امید کی کہ مریم کو پسند آ جاؤں گا۔ ایک لمحے کو خیال آیا کہ کہیں وہ یہ توقع نہ کر رہی ہوں کہ میں سوٹ پہن کر آؤں گا۔ میرے پاس تو کوئی سوٹ تھا بھی نہیں۔ خیر میں تیار ہو کر وقت سے پہلے ہی کیفے جانے کیلئے نکل کھڑا ہوا اور جب وہاں پہنچا تو سات بجنے میں ابھی پندرہ منٹ باقی تھے۔
کیفے میری توقعات سے زیادہ پرتعیش تھا۔ باہر ہی ایک بیرہ لوگوں کو خوش آمدید کہہ رہا تھا۔ میں کیفے میں داخل ہوا تو کانوں میں باتوں کی آوازیں آنے لگیں۔ میں نے بیرے کو مریم شاہ کا بتایا تو وہ مجھے اوپری منزل پر بالکونی میں لے آیا جہاں ایک ہی میز تھی اور کسی قسم کی کوئی آواز بھی نہیں آ رہی تھی۔ اس نے مجھے بتایا کہ مریم شاہ صاحبہ تو ابھی نہیں آئیں اور اگر میں چاہوں تو دوران انتظار کوئی بھی چیز آرڈر کر سکتا ہوں۔ میں نے منع کر دیا اور تنہائی میں مریم کی راہ دیکھنے لگا۔
میں نے سوچا یقیناً مریم غیر شادی شدہ ہوں گی ورنہ مجھ جیسے جوان لڑکے کو یوں ڈنر پر کیوں بلاتیں۔ یا پھر شاید یہ ان کیلئے بزنس ڈنر ہی تھا اور وہ بس ریسٹورنٹ میں میری خدمات کا شکریہ ادا کرنا چاہ رہی ہوں۔ اور انہوں نے میرے بارے میں اپنے شوہر کو بھی بتا دیا ہو گا۔ کہیں وہ شوہر کو بھی ساتھ ہی نہ لے آئیں ڈنر پر۔ لیکن میز تو دو ہی افراد کیلئے سجائی گئی تھی۔ میں اپنی بے وقوفانہ سوچ پر مسکرا اٹھا۔
میں نے گھڑی کی طرف دیکھا۔ سات بجنے میں پانچ منٹ رہ گئے تھے۔
نہ جانے وہ کیسے کپڑے پہن کر آئیں گی۔ ریسٹورنٹ میں تو ہمیشہ بزنس سوٹ پہنتی تھیں۔ ایک مرتبہ بس سکرٹ پہن کر آئی تھیں۔ مجھے سکرٹ زیادہ پسند تھا۔ ان کی ٹانگیں بھی تو بہت خوبصورت تھیں۔ ایسی خوبصورت ٹانگوں کو کپڑوں میں چھپانا اچھی بات نہیں۔ یہ تو سب کو نظر آنی چاہئیں۔
سات بج گئے اور بے اختیار میری نگاہ دروازے کی جانب اٹھ گئی لیکن دروازہ بند تھا۔ کہیں انہوں نے مجھے دھوکہ تو نہیں دیا۔ لگتی تو نہیں تھیں ایسی۔ یا شاید انہیں کوئی کام پڑ گیا ہو اور ان کے پاس تو میرا نمبر ہی نہیں تو کال کیسے کرتیں۔ ویسے ریسٹورنٹ کا نمبر تو ہو گا ہی۔ وہاں ہی کال کر کے بتا دیتیں دن میں۔
سات بج کر پانچ منٹ ہو گئے۔ میں نے سوچا خواتین اکثر لیٹ ہو جاتی ہیں۔ نارمل ہی ہو گا یہ۔
سات بج کر دس منٹ ہو گئے۔ اب میں سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ مزید کتنی دیر مجھے ان کا انتظار کرنا چاہیے۔ ساڑھے سات تک، پونے آٹھ تک یا اس سے بھی زیادہ دیر تک۔
عین اسی وقت دروازہ کھلا اور مریم بالکونی میں داخل ہوئیں۔ بیرہ ان کے پیچھے تھا۔ میں فوراً ان کے استقبال کو کھڑا ہو گیا۔
مریم نے اپنا پرس فرش پر رکھا اور بیرے نے پیچھے سے انہیں کوٹ اتارنے میں مدد کی۔ ان کو کوٹ انتہائی قیمتی معلوم ہوتا تھا۔ نیچے انہوں نے گہرے سبز رنگ کا چست سا لباس پہن رکھا تھا جس سے ان کا فگر نمایاں ہو گیا تھا۔ چھاتیوں پر سے لباس چست ہونے کی وجہ سے ممے بھی کافی ابھرے ہوئے لگ رہے تھے۔ میک اپ سے اندازہ ہوتا تھا کہ وہ بیوٹی پارلر سے تیار ہوئی ہیں۔ بھرے بھرے ہونٹوں پر سرخ رنگ کی لپ اسٹک بہت جچ رہی تھی۔ لیمپ کی مدھم روشنی میں بھی ان کے کالے بال چمک رہے تھے اور جلد بھی دکھنے میں بہت ملائم لگ رہی تھی۔

No comments:
Post a Comment