Saturday, 28 September 2024

مریم شاہ (Part 4)


 "سوری عثمان۔ لیٹ ہو گئی۔ ایک میٹنگ تھی جو ختم ہی نہیں ہونے میں آ رہی تھی۔ اللہ اللہ کر کے ختم ہوئی تو میں گھر جا کے تیار ہوئی پھر یہاں آئی۔ رئیلی سوری"
میرا دل کیا آگے بڑھ کر انہیں چوم لوں لیکن بس مسکرانے پر ہی اکتفا کیا اور کہا: "کوئی بات نہیں میں بھی بس ابھی آیا تھا۔"
بیرے نے پوچھا کھانے سے پہلے کچھ لیں گے یا نہیں تو مریم نے فوراً اسے اپنے لئے جن اینڈ ٹانک لانے کا کہا۔ ریسٹورنٹ میں کام کرنے کے ناطے مجھے پتہ تھا کہ یہ بہت قیمتی شراب ہے۔ میں شراب پینے کا عادی نہیں تھا لیکن مریم کی موجودگی میں اپنے لئے پانی منگواتے عجیب سا لگ رہا تھا اس لئے میں نے بھی بیرے سے وہی شراب لانے کا کہہ دیا جو مریم نے اپنے لئے منگوائی تھی۔
"ہاں بھئی۔ کیسے ہو؟" بیرے کے جانے کے بعد مریم نے میری طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا۔ ان کی مسکراہٹ کے سامنے مجھے اپنا آپ پگھلتا محسوس ہوا۔ واقعی ان کا حسن بے مثال تھا۔
"ٹھیک ہوں" میں بس اتنا ہی کہہ سکا۔
بیرہ شراب لے آیا اور مریم نے نظریں مجھ پر گاڑے ہوئے ایک چسکی لی۔
"بتاؤ نا کچھ اپنے بارے میں۔ مجھے تو بس یہی پتہ ہے کہ تم سٹوڈنٹ ہو اور ساتھ ریسٹورنٹ میں نوکری کرتے ہو" انہوں نے مجھ سے کہا۔
"جی بتاتا ہوں۔ میرا تعلق گاؤں سے ہے۔ ابو آرکیٹیکٹ ہیں۔ دو بڑی بہنیں ہیں جو شادی شدہ ہیں۔" میں نے انہیں اپنا تعارف کروایا اور کرواتا ہی چلا گیا۔ انہیں بتایا کہ میں نے پہلے آرمی کا ٹیسٹ بھی دیا تھا لیکن انٹرویو میں فیل ہو گیا۔ مریم بہت توجہ سے میری باتیں سن رہی تھیں۔ ان کی نظریں بھی مجھ پر ہی تھیں۔ ساتھ ہی وہ مجھ سے سوال بھی پوچھ رہی تھیں۔ انہوں نے مجھ سے میری امی اور بہنوں سے متعلق پوچھا۔ پھر میرے مشاغل اور پسندیدہ میوزک کے بارے میں پوچھا۔ میں انہیں بتاتا گیا وہ میری باتوں پر مسکراتی گئیں اور مجھے اتنی خوشی محسوس ہوئی کہ الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا۔ محض ان کی صحبت ہی میرے لئے کافی تھی۔ اب مجھے پرواہ نہیں تھی کہ آگے کیا ہوتا ہے۔ میرے لئے یہی کافی تھا کہ مریم جیسی انتہائی خوبصورت خاتون کی صحبت میں اتنے پیاری جگہ پر بیٹھ کر دل کی باتیں کر رہا تھا۔
کھانا لگ گیا۔ کھانا کھاتے کھاتے مجھے احساس ہوا کہ اب تک میں نے تو اپنے بارے میں بہت کچھ انہیں بتا دیا ہے لیکن ان سے کچھ بھی نہیں پوچھا۔
"آپ بھی تو اپنے بارے میں کچھ بتائیں نا۔" میں نے کہا۔
مریم نے اپنا منہ نیپکن سے صاف کیا اور بولیں: "کیا جاننا چاہتے ہو؟"
"سب کچھ۔ مجھے بھی آپ کے بارے میں بس اتنا ہی پتہ پے کہ آپ کا ٹریول ایجنسی کا بزنس ہے۔"
"میں فیصل آباد میں پیدا ہوئی تھی۔ والد ڈاکٹر تھے۔ انہیں برطانیہ میں نوکری مل گئی تو ہم سب وہاں شفٹ ہو گئے۔ اس وقت میری عمر پانچ سال تھی۔ اب میری عمر اکاون سال ہے۔"
"آپ کی انگریزی تو بہت اچھی ہو گی" میں نے پوچھا۔
"ہاں ظاہر ہے بچپن سے تو انگریزی بولتی آ رہی ہوں۔ اب تو میں سوچتی بھی انگریزی میں ہی ہوں اور خواب بھی انگریزی میں ہی آتے ہیں۔"
انہوں نے مزید بتایا کہ دو سال پہلے ان کے والد کی وفات ہو گئی تھی لیکن والدہ ابھی حیات تھیں۔ یہ بھی بتایا کہ کافی سال پہلے ان کی شادی ہوئی تھی لیکن زیادہ عرصہ چل نہ سکی تھی۔ بچے بھی نہیں تھے جس کا انہیں بہت دکھ تھا۔ ان کی ایک بہن بھی تھیں جو ڈاکٹر تھیں۔ مریم نے مزید بتایا کہ ان کے والد کو ان سے ہمیشہ مایوسی ہوئی تھی کیونکہ وہ ڈاکٹر جو نہیں بنی تھیں۔
"میں ہمیشہ سے اپنا بزنس کرنا چاہتی تھی۔ مقصد تو پیسہ کمانا ہی ہوتا ہے نا" ان کی آواز میں ہلکی سی اداسی تھی۔
"جی اور آپ تو کافی کامیابی بزنس وومن ہیں"
"کامیابی کی کئی قسمیں ہوتی ہیں عثمان۔" انہوں نے کہا۔ ہم کھانے کے بعد میٹھا بھی چکھ چکے تھے اور اب پھر سے شراب کی چسکیاں لے رہے تھے۔
مریم کی بات پر مجھ سے کوئی جواب نہ بن پڑا اور کچھ دیر خاموشی چھا گئی۔ شاید ہم دونوں ہی ایک دوسرے کی باتوں کو اپنے اندر جذب کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
اتنے میں بیرہ آ گیا اور یم سے کافی کا پوچھا۔ میں نے مریم کی طرف دیکھا۔
"نہیں " مریم نے سنجیدہ لہجے میں جواب دیا۔ میں ان کے لہجے میں اداسی بھانپ گیا تھا۔ شاید اب وہ اس ملاقات کو ختم کرنا چاہ رہی تھیں۔ انہوں نے بل منگوا کر ادائیگی کی اور بیرہ ان کا کوٹ بھی لے آیا جسے پہنانے میں اس نے مریم کی مدد بھی کی۔ کچھ ہی دیر میں ہم کیفے سے باہر نکل آئے۔
جب ہم کھانا کھا رہے تھے تب ہلکی ہلکی بوندا باندی ہو رہی تھی جس سے اب موسم بہت خوشگوار ہو گیا تھا۔
"مریم آپ کا بہت شکریہ۔ مجھے آپ کے ساتھ وقت گزار کر بہت اچھا لگا" میں نے مریم کا شکریہ ادا کیا۔
"کیا تمہیں گھر جانے کی جلدی ہے؟" انہوں نے پوچھا۔
"نہیں تو"
"میرا فلیٹ یہاں سے قریب ہی ہے۔ چلو چل کر کافی پیتے ہیں۔ اس کیفے کی کافی اتنی اچھی نہیں ہے اسی لئے میں نے یہاں سے نہیں پی۔"
دس بج چکے تھے اور رش کم ہونے لگا تھا۔ ریسٹورنٹ البتہ کھلے تھے۔ میں مریم کے ساتھ پیدل چلنے لگا۔ فلیٹ قریب ہونے کی وجہ سے وہ کیفے بھی پیدل پی آئی تھیں۔ چند منٹ کے بعد ایک بلڈنگ کے سیکیورٹی ڈور سے گزرنے کیلئے مریم نے پرس سے ایک کارڈ نکال کر سوائپ کیا اور ہم بلڈنگ کی لابی میں پہنچ گئے۔ لفٹ میں سوار ہو کر مریم نے دسویں منزل کا بٹن دبا دیا۔ دسویں منزل سے سے بالائی منزل تھی۔
لفٹ سے نکلے تو نیچے سے بھی بڑی لابی ہمارے سامنے تھی۔ یہاں دو دروازے تھے۔ مریم نے چابی نکال کر ایک دروازہ کھولا۔ یہاں جوتوں کا ریک اور کپڑوں کی الماری تھی۔ مریم نے اپنا کوٹ ٹانگ دیا اور ہم فلیٹ کے مین ایریا میں آ گئے۔ ان کا فلیٹ کافی بڑا تھا۔ لاؤنج میں کئی صوفے رکھے تھے اور دیوار پر بڑی سی ایل سی ڈی نصب تھی۔ ایک طرف کچن تھا اور دوسری طرف کمروں کے دروازے۔ کچن کے ساتھ ایک بڑی سی کھڑکی سے باہر کا منظر نظر آتا تھا۔

No comments:

Post a Comment

ہنی مون ان جرمنی Part 4

  پتہ نہیں یہ مارٹن کی عادت تھی کہ ہر سوال کے جواب میں تقریر جھاڑ دیتا تھا یا پھر میری وجہ سے ایسا کر رہا تھا لیکن میں نے چپ چاپ اسکی باتیں ...