مریم ایک مرتبہ مجھے ساتھ لے کر اسی پرانے ریسٹورنٹ گئیں۔ فاخرہ کو دیکھ کر میں جھینپ سا گیا لیکن فاخرہ مجھے مریم کے ساتھ دیکھ کر خوش ہوئی۔ اس نے واپسی پر مجھے گڈ لک بھی کہا تھا۔ میں اس کے رویے میں تبدیلی پر حیران تھا لیکن خوش بھی تھا۔
مریم مجھے اپنی فیملی سے ملوانے بھی لے گئیں۔ ان کی والدہ کافی بزرگ تھیں اور وہ سمجھ بھی نہیں سکی تھیں کہ مریم اور میرے درمیان کیسے تعلقات ہیں۔
میں نے بھی اپنے والدین کو بتایا کہ مجھے ایک لڑکی پسند آ گئی ہے اور وہ عمر میں مجھ سے بڑی ہے۔ والدین نے گھر بلایا تو میں مریم کو ساتھ لے گیا لیکن وہاں جاتے ہوئے میں بری طرح نروس تھا کیونکہ مریم کوئی لڑکی نہیں بلکہ اچھی خاصی میچور خاتون تھیں۔ بہرحال مریم جس طرح تیار ہوئی تھی اور جس طرح کا انہوں نے رویہ رکھا، میرے والدین نے کوئی بڑا اعتراض نہیں کیا۔ وہ اپنے بیٹے کی خوشی میں خوش تھے۔
میں نے اپنی ڈگری بھی مکمل کر لی اور مریم نے مجھے حبیبہ کی جگہ آپریشنز کے شعبے میں ڈائریکٹر لگنے کی پیش کش کر دی کیونکہ حبیبہ اب ریٹائرمنٹ لے رہی تھی۔ میں نروس تھا کہ کہیں بنا بنایا بزنس نہ بگاڑ کر رکھ دوں لیکن مریم نے میری خوب حوصلہ افزائی کی۔
میں اپنے اور مریم کے بارے میں تو بتانا ہی بھول گیا۔ جب پہلی بار میں نے ان کی گانڈ ماری تھی، اس کے کچھ ہی دیر بعد میں نے ان سے اپنے دلی جذبات کا کھل کر اظہار کر دیا تھا۔ میں نے انہیں بتایا تھا کہ میں ان پر مر مٹا ہوں اور ان سے بے پناہ محبت کرنے لگا ہوں۔ مریم نے کہا کہ یہ احساسات دو طرفہ ہیں اور وہ بھی میرے بارے میں ایسا ہی محسوس کرتی ہیں۔ انتہائی رومینٹک سین تھا وہ۔
اب دو سال گزر چکے ہیں اور ہم دونوں کے درمیان محبت انتہاؤں کو چھو رہی ہے۔ ہر بار ہمارا سیکس ایسے ہوتا ہے جیسے دوبارہ ہمیں موقع ہی نہیں ملے گا۔ میرا دل ان کے سیکسی جسم سے کبھی بھرتا ہی نہیں ہے۔
مریم کو البتہ ذرا رف سیکس پسند ہے اس لئے اب ہم اکثر نئی نئی چیزیں ٹرائی کرتے ہیں مثلاً ان کے چوتڑوں پر تھپڑ یا پھر ان کے ہاتھ پاؤں باندھ کر سیکس کرنا۔ ہم نے سیکس ٹوائز بھی خرید لئے ہیں جنہیں ہم اکثر دوران سیکس استعمال کرتے ہیں۔ ہفتے میں ایک یا دو بار مریم مجھ سے گانڈ ضرور مرواتی ہیں خاص طور پر تب جب وہ خود اپنی پھدی میں ڈلڈو گھسائے خود لذتی کر رہی ہوتی ہیں۔
ختم شد
_______________________________________

No comments:
Post a Comment