تین ہفتے بیت گئے۔ مریم کی نہ کال آئی نہ وہ خود ریسٹورنٹ آئیں۔
میرا انتظار جمعے کے دن ختم ہوا جب مجھے مریم کا فون آیا۔ میں اس وقت کتابوں میں غرق تھا اور ساتھ ساتھ برگر کھا رہا تھا۔ جنوری کا مہینہ تھا اور کھڑکی پر بارش کی بوندیں ٹکرا رہی تھیں۔ موسم سرد تھا۔
"عثمان۔ مریم بات کر رہی ہوں۔ نیا سال مبارک ہو"
"مریم" میری اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی۔ دل دھک دھک کرنے لگا۔ "مجھے تو امید نہیں رہی تھی کہ آپ کال کریں گی۔"
"سوری عثمان۔ میں فیصل آباد گئی ہوئی تھی۔ فیملی سے ملنے۔ لیکن مجھے کال کر دینی چاہیے تھی۔ سوری" مریم نے کہا۔ میں خاموش رہا۔
"اچھا یہ بتاؤ کل مصروف تو نہیں نا۔ میں ملنا چاہ رہی ہوں۔" مریم کی بات پر میرا دل حلق میں آ گیا۔ دل چاہا کہ انکار کر دوں کہ اتنے دن بن بتائے غائب رہی تھیں۔ انہیں کوئی احساس نہیں تھا میرا لیکن پھر سوچا کہ میں نے کونسا خود کال کی تھی۔ میں بھی تو اپنی انا میں تھا۔
"نہیں۔ کچھ بھی نہیں کر رہا کل"
"اچھا یہ بتاؤ ہائیکنگ کیلئے سامان ہے تمہارے پاس؟"
"میرے پاس بوٹ ہیں واک کرنے کیلئے"
"ہاں ٹھیک ہے نا پھر۔ چلو پھر مارگلہ کی پہاڑیوں پر ہائیکنگ کریں؟ ہائیک کریں گے، پھر لنچ کریں گے، رات کو ڈنر کریں گے۔ کیا خیال ہے؟"
میں سوچ میں پڑ گیا۔ اگر لنچ بھی کرنا تھا اور ڈنر بھی تو پیسے مریم کو ہی دینا پڑیں گے۔ میں تو اتنے مہنگے کھانے افورڈ ہی نہیں کر سکتا لیکن یوں مریم پر سارا بوجھ ڈالنا بھی اچھا نہیں لگتا تھا۔ وہ امیر تو تھیں اور یہ تو ان کیلئے بہت چھوٹا سا خرچہ تھا لیکن پھر بھی میرا دل نہیں مان رہا تھا۔ لیکن منع کرنے پر کہیں ان سے ملنے سے نہ رہ جاؤں اس لئے اپنی انا کو دبا کر میں نے کہہ دیا: "جی زبردست آئیڈیا ہے"
"ٹھیک ہے میں کل تمہیں صبح نو بجے پک کروں گی" میں نے مریم کو اپنے ہاسٹل کا پتہ بتایا اور بات ختم ہو گئی۔
اگلے دن پونے نو بجے میں بوکھلایا پھر رہا تھا اپنے کمرے میں۔ ہر تیس سیکنڈ بعد کھڑکی سے جھانک رہا تھا۔ شکر ہے آج موسم اچھا تھا۔ دھوپ کھل کر نکلی تھی۔ نو بجنے میں پانچ منٹ تھے جب مجھے کسی گاڑی کے طاقتور انجن کی آواز سنائی دی۔ میں باہر نکلا تو مریم نے اپنی نئی نویلی بی ایم ڈبلیو کار کی ڈگی کھول دی۔ میں نے ہائیکنگ کیلئے جوگر ڈگی میں رکھ دئیے اور مریم کے ساتھ والی سیٹ پر آ کر بیٹھ گیا۔
"گڈ مارننگ" مریم نے چہرہ میری طرف موڑ کر مسکراتے ہوئے کہا۔ ان کی اس مسکراہٹ کیلئے میں کتنا ترسا تھا۔ ان کا چہرہ دیکھتے ہی میں پگھلنے لگا۔ کیا مجھے ان سے محبت ہو گئی ہے؟
راستے میں کچھ زیادہ باتیں نہیں ہوئیں۔ مریم گاڑی کافی تیز چلاتی تھیں۔ میں کبھی کھڑکی سے باہر دیکھتا تو کبھی نظریں چرا کر مریم کو۔ اتنے کانفیڈنس سے انہیں گاڑی چلاتے دیکھنا واقعی مسحور کن تھا۔
پارکنگ میں کار لگا کر ہم باہر نکلے اور پہلی بار میں نے ان کے چہرے کو سورج کی روشنی میں دیکھا۔ انہوں نے سیاہ رنگ کا چست ٹراؤزر اور سرخ رنگ کی واٹر پروف جیکٹ پہن رکھی تھی۔ جیکٹ تو اتنی فٹ تھی کہ لگتا تھا جیسے انہوں نے آرڈر ہر بنوائی ہو اپنے جسم کے عین مطابق۔ حسب معمول ہونٹوں پر وہی گہرے سرخ رنگ کی لپ اسٹک اور چہرے پر میک اپ تھا۔ بال البتہ انہوں نے آج پونی میں باندھ رکھے تھے۔ ان کی جلد اگرچہ تروتازہ لگ رہی تھی لیکن سورج کی روشنی میں میں نے ان کی آنکھوں کے پاس جھریاں دیکھ لی تھیں۔
میں نے ڈگی سے بوٹ نکالے۔ مریم نے کار لاک کر کے چابی جیب میں ڈال لی۔
"کیا مجھے کس بھی نہیں کرو گے اب؟" مریم نے بناوٹی اداسی لہجے میں لاتے ہوئے کہا۔
میں فوراً آگے بڑھا اور ان کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دئیے۔ پارکنگ میں کوئی نہیں تھا اس لئے ہم ہونٹ سے ہونٹ ملائے کھڑے رہے۔ اتنی مسحور کن فیلنگ تھی کہ دل ہی نہیں کرتا تھا الگ ہونے کا۔ صرف ہونٹ ان کے ہونٹ پر رکھے تھے، زبان استعمال نہیں کی تھی۔
لیکن ہمیں علیحدہ ہونا پڑا کیونکہ ایک اور کار کی آواز آئی تھی۔ ہم دونوں ہائیک کیلئے نکل کھڑے ہوئے۔ راستے میں جنگل تھا درخت تھے اور ویرانی تھی۔ ہم دونوں نے خوب باتیں کیں، میوزک کے بارے میں، فلموں کے بارے میں، سیاست کے بارے میں، اپنی فیملیز کے بارے میں اور نہ جانے کس کس موضوع پر۔ باتوں باتوں میں کوئی مزاحیہ بات ہوتی تو مریم کھلکھلا کر ہنس پڑتیں اور مجھے ان کی صحبت میں ہونے پر اپنی قسمت پر فخر ہونے لگا۔
ایک امیر، خوبصورت ، کامیاب عورت مجھ جیسے لڑکے میں کیوں دلچسپی لے رہی ہے؟ جب بھی میرا ضمیر مجھ سے یہ پوچھتا تو میں اسے تھپکی دے کر سلا دیتا اور مریم کی اداؤں میں کھو جاتا۔
ہم نے راستے میں ایک چھوٹے سے ہوٹل میں لنچ لیا۔ یہاں اندھیرا تھا کیونکہ لائٹ گئی ہوئی تھی۔ ہم دونوں نے برگر کھائے اور دو بجے تک ہم واپس کار کے پاس پہنچ چکے تھے۔ ڈھائی بجے تک ہم مریم کے فلیٹ والی بلڈنگ کی پارکنگ میں تھے جہاں کار کھڑی کر کے لفٹ سے دسویں منزل پر پہنچے۔
جوتے اتار کر مخصوص جگہ پر رکھے اور لاؤنج میں آ گئے۔ مریم نے جیکٹ بھی اتار کر وہیں لٹکا دی تھی۔
"ریسٹورنٹ میں تو سات بجے کی بکنگ کروائی ہے میں نے۔ ابھی تو کافی ٹائم ہے۔ کیوں نہ تب تک نہا لیں۔" مریم نے پہلے گھڑی کی طرف دیکھ کر بات کی اور آخری فقرہ مجھے دیکھ کر مسکراتے ہوئے ادا کیا۔

No comments:
Post a Comment