میرے لئے اس سے اچھی اور کیا بات ہو سکتی تھی۔ میں فوراً مان گیا۔
ان کا باتھ ٹب کافی بڑا تھا اور پانی بھرنے میں کافی وقت لگا۔ جب پانی بھر رہا تھا تو مریم نے کچن میں الماری سے ایک بوتل نکالی اور دو گلاسوں میں انڈیل کر باقی بوتل برف کی چھوٹی سی ٹوکری میں رکھ کر باتھ روم میں ہی لے آئیں۔ پھر ہم دونوں نے اپنے اپنے کپڑے اتارے۔ ایسے نہیں جیسے ہمیں کوئی جلدی ہو۔ نہ ایسے جیسے ہم بہت بے صبرے ہوں بلکہ ہمارا انداز تو ایسا تھا جیسے ہم دونوں کوئی شادی شدہ جوڑا ہوں جن کے درمیان کوئی پردہ کوئی جھجک باقی نہ رہی ہو۔
پہلی بار مریم کو اپنے سامنے ننگی کھڑے تسلی سے دیکھا۔ ان کے جسم کی خوبصورتی کو الفاظ میں بیان کرنا میرے لئے ممکن نہیں۔ ان کی جلد کی رنگت، ان کے سڈول ممے، ان کی لمبی لمبی خوبصورت ٹانگوں کی بناوٹ، ان کے چوتڑوں کے ابھار دیکھ کر لگتا ہی نہیں تھا کہ ان کی عمر اکیاون برس ہے۔
"آپ بہت خوبصورت ہیں" میں تو جیسے ان کے حسن میں ہی کھو کر رہ گیا تھا۔
"تھینک یو" مریم نے مسکراتے ہوئے کہا۔
ہم دونوں باتھ ٹب کے گرم گرم پانی میں اتر گئے اور ایک دوسرے کے مقابل ٹب میں لیٹ گئے۔ گلاس ہاتھ میں تھامے شراب کی چسکیاں بھی جاری تھیں۔ مجھے مریم کی ٹانگ اپنی ٹانگ سے چھوتی محسوس ہوئی۔ جسم میں کرنٹ سا دوڑ گیا۔ مریم نے مسکرا کر شراب کا گلاس ہوا میں بلند کیا۔
میں نے بھی جوابا اپنا گلاس بلند کر کے ان کے گلاس سے ٹچ کیا اور ہم دونوں نے ایک ساتھ چسکی لی۔ اب مجھ میں اعتماد آنے لگا تھا۔ میں نے اپنی ایک ٹانگ ان کی پنڈلیوں پر پھیرنا شروع کر دی اور بتدریج اوپر کرتا گیا۔ جب میرا پاؤں ان کی جانگ سے ٹکرایا تو انہوں نے اپنی ٹانگیں کھول دیں۔ میں نے اپنا پاؤں ان کی ٹانگوں کے درمیان لے جا کر ان کی پھدی کے بالوں سے مس کر دیا۔ ہلکا سا دبایا تو مریم کے منہ سے ہممممم کی سی آواز نکلی۔ شاید انہوں نے کچھ کہا بھی تھا لیکن میں سمجھ نہیں پایا۔ مریم نے آنکھیں بند کر لیں اور مزے لینے لگیں۔
شراب پیتے ہوئے میں ان کی پھدی کو اپنے پاؤں کے انگوٹھے سے سہلاتا رہا۔ پانی میں بیٹھنے کی وجہ سے میرا لن حساس ہو گیا تھا لیکن فل کھڑا ہوا تھا۔
تقریباً بیس منٹ بعد، گرم پانی کے اثر سے ہم دونوں پر ہی مدہوشی سی طاری ہونے لگی۔ شاید اس میں شراب کا بھی کچھ نہ کچھ اثر تھا۔ مریم اٹھ کر کھڑی ہو گئیں۔ ان کا خوبصورت بدن گیلا ہو کر اور بھی خوبصورت ہو گیا تھا۔ پھدی کے بال گیلے ہو کر جلد سے چپک گئے تھے۔
"اگر میں اور رکی تو میں نے ٹب میں ہی سو جانا ہے" مریم نے کہا: "اور میرا فی الحال سونے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔"
وہ ٹب سے باہر نکل گئیں اور سٹینڈ سے سفید رنگ کا بڑا سا تولیہ اٹھا کر اپنا بدن خشک کرنے لگیں۔ میں بھی باہر آ گیا اور دوسرا تولیہ اٹھا کر ان کی پیروی کرنے لگا۔
جب بدن خشک ہو گئے تو ہم بیڈروم میں آگئے۔ مریم نے فوراً مجھے پکڑ لیا اور ہم دونوں ایک دوسرے سے چپک کر ایک دوسرے کو چومنے لگے۔ مریم کے ہاتھ میری گردن کے گرد لپٹے تھے جبکہ میرے ہاتھ ان کی کمر کے گرد۔ مریم نے اپنی زبان میرے منہ میں داخل کر دی جسے میں چوسنے لگا۔ ان کے تازہ تازہ نہائے ہوئے بدن کی خوشبو میرے نتھنوں میں گھسی چلی جا رہی تھی۔ میرا جوش بڑھتا ہی جا رہا تھا۔ میں نے ان کے چوتڑوں پر ہاتھ رکھ کر اپنی طرف کھینچا۔ میرا لن ان کے پیٹ سے جا لگا۔ مجھ سے مزید برداشت نہیں ہو رہا تھا۔
"بیڈ پر چلیں" میں نے کہا۔
مریم نے ایک لمحہ میری آنکھوں میں دیکھا اور پھر بیڈ پر چڑھ کر ٹانگیں کھول کر لیٹ گئیں۔ پھر انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے گھٹنے پکڑ کر اپنے چہرے کے دونوں سائیڈوں تک کھینچ لئے جیسے مجھے دعوت دے رہی ہوں۔
میں ان کی ٹانگوں کے درمیان جھک گیا اور اپنا چہرہ ان کی پھدی کے قریب لے گیا۔ ان کی پھدی کے ہونٹ موٹے اور رسیلے تھے لیکن ارد گرد بال بھی بہت تھے۔ اس پوزیشن میں مجھے نہ صرف ان کی پھدی نظر آ رہی تھی بلکہ گانڈ کے سوراخ کا بھی بہت زبردست نظارہ میسر آ رہا تھا۔ آج تک جتنی لڑکیوں سے تعلق رہا تھا کسی کے بھی اتنے بال نہیں تھے۔ یہ میرے لئے نیا لیکن خوشگوار تجربہ تھا۔ میں نے دونوں ہاتھوں کے انگوٹھوں سے ان کی پھدی کے ہونٹ کھولے اور اندر نظر آتی گلابی سرنگ میں اپنی زبان جہاں تک گھس سکتی تھی، گھسا دی۔
میں نے ان کی پھدی کو چاٹنا شروع کر دیا اور مریم کے منہ سے آہیں نکلنے لگیں۔ میں زبان اندر باہر کرتا اور پھر پھدی سے لے کر ان کی گانڈ کے سوراخ تک زبان پھیرتا۔ ان کی پھدی میں زبان داخل کر کے کلٹ پر زبان پھیرتا تو مریم کی آہیں سننے والی ہوتیں۔ وہ مچل مچل جاتیں۔ میری زبان پر ان کی پھدی کا ذائقہ نقش ہو گیا۔ میری ٹھوڑی پر بھی ان کی پھدی سے نکلنے والی نمی لگ گئی۔ ان کی پھدی کا ذائقہ کافی نمکین تھا لیکن مجھے وہ ذائقہ بہت بھایا۔ صرف ذائقہ ہی نہیں ان کی خوشبو بھی مسحور کن تھی۔ میں تو جیسے وحشی ہی ہو گیا۔ جیسے کتے زبان نکال کر چاٹتے ہیں میں بھی ویسے پی زبان نکال کر ان کی پھدی کو بے تحاشا چاٹنے لگا۔ زندگی میں کبھی میں اتنا ہارنی نہیں ہوا تھا۔ آج تک کسی خاتون کے جسم کے اتنا قریب ہونے کا موقع نہیں ملا تھا۔
"اچھا لگ رہا ہے تمہیں؟" مریم نے پوچھا۔ ان کی سانسیں بہت تیز تھیں۔
"اچھا نہیں بہت بہت بہت اچھا" میں نے جواب دیا۔
"ادھر آؤ میرے پاس" مریم نے کہا اور اپنے گھٹنے ہاتھوں کی گرفت سے آزاد کر دئیے۔ میں اوپر ہو کر ان کے ساتھ جا لیٹا اور ہم فوراً ایک دوسرے کو چومنے لگے۔ مریم میری زبان اور ہونٹ چوستی جا رہی تھیں جبکہ میں ان کا ساتھ دینے کے ساتھ ساتھ ان کے مموں کو بھی ہاتھ میں لے کر مسل رہا تھا اور ساتھ ہی نپل پر ہلکا ہلکا نوچ بھی رہا تھا۔ مریم کے منہ سے لذت بھری سسکیاں نکل رہی تھیں۔
"اب میری باری ہے" مریم نے اچانک پیچھے ہٹتے ہوئے کہا۔ دھکا دے کر مجھے بیڈ پر چت گرا دیا اور خود میری ٹانگوں کے درمیان آ گئیں۔ ایک ہاتھ سے میرا لن جڑ سے پکڑا اور اپنے سرخ لپ اسٹک والے ہونٹ کھول کر ٹوپا منہ میں لے کر چوسنے لگیں۔ میں بس انہیں دیکھتا ہی رہا جب وہ میرا لن منہ میں لے رہی تھیں اور اپنے نیل پالش لگے ہاتھوں سے میرے لن کو مسل بھی رہی تھیں۔ ان کے منہ کی گرمی میرے لن کو تڑپائے جا رہی تھی۔ کبھی وہ ٹوپے پر زبان پھیرتیں تو کبھی لن کو اوپر سے نیچے تک چاٹنے لگتیں۔ ایک ہاتھ سے لن کو مسلسل مسل رہی تھیں تو دوسرا ہاتھ ان کا میرے ٹٹوں پر تھا جنہیں وہ ہاتھ میں لے کر دھیرے دھیرے مساج کر رہی تھیں۔
نہ جانے ان کے انداز میں ایسا کیا تھا کہ میرے سارے جذبات بھڑک اٹھے تھے۔ شاید یہ ان کا تجربہ ہی تھا جس نے مجھ پر یہ اثر کیا تھا۔ جب وہ میرے لن کو چوستیں اور ان کا تھوک میرے لن پر سے بہتا ہوا نظر آتا تو میں لذت سے کانپ جاتا۔ اتنا سرور تھا کہ دل چاہتا تھا وہ ہمیشہ ایسے چوستی رہیں اور میں ہمیشہ یہیں لیٹے چسواتا رہوں۔
مریم کا جو ہاتھ میرے ٹٹوں پر تھا وہ ٹٹوں پر ہی نہیں رکا بلکہ ٹٹوں کی نیچے بھی ہاتھ پھیرنے لگیں۔ میں سوچنے لگا کہ آخر یہ سلسلہ کہاں جا کر رکے گا کیونکہ اب میں ان کا ہاتھ اپنی گانڈ کے پاس محسوس کر رہا تھا۔ اگر وہ میری گانڈ کو چھیڑتیں تو میں یقیناً اسی وقت ڈسچارج ہو جاتا۔
لیکن انہوں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ یا کم از کم اس وقت تو نہیں کیا۔ انہوں نے میرا لن منہ سے نکالا اور اپنے بازو سے منہ پونچھ کر میرے لن پر سوار ہو گئیں۔ ایک ہی باری میں پورا اندر لینے کا ان کا انداز نرالا تھا۔
"مزہ آیا" مریم نے مجھ سے پوچھا۔
"بہت" مزہ تو اتنا تھا کہ میری آواز نہیں نکل رہی تھی۔
مریم نے اوپر نیچے کی بجائے آگے پیچھے ہونا شروع کر دیا۔ بعد میں انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ اس پوزیشن میں وہ جلدی ڈسچارج ہو جاتی تھیں۔
میری نظروں کے سامنے وہ میرے کندھوں پر ہاتھ رکھے ایسے میرے لن پر سواری کر رہی تھیں جیسے کسی گھوڑے پر بیٹھی ہوں۔ ان کے بال ہوا میں لہرا رہے تھے اور ممے بھی اوپر نیچے دائیں بائیں جیلی کی طرح ہل رہے تھے۔ میرا دل چاہا کاش اس موقع کی کوئی تصویر کھینچ سکتا۔
مریم کی رفتار بڑھ گئی کیونکہ وہ ڈسچارج ہو رہی تھیں۔ آنکھیں بند، منہ کھلا، آہیں اور سسکیاں بے انتہا۔ انہوں نے اپنے ہاتھ میرے کندھوں پر اتنی زور سے گاڑے کہ قریب تھا کہ میں درد سے چلا اٹھتا۔ ان کا انداز وحشیانہ تھا جب وہ ڈسچارج ہو رہی تھیں۔ ڈسچارج ہونے کے بعد وہ میرے اوپر ہی ڈھیر ہو گئیں اور مجھے اپنے سینے پر ان کے دل کی تیز دھڑکن محسوس ہونے لگی۔
کچھ دیر میں وہ میرے اوپر سے ہٹ گئیں اور میں اٹھ کر ان کی ٹانگوں کے درمیان آ گیا۔ ایک ہی جھٹکے میں اپنا لن پورا کا پورا ان کی پھدی میں ڈال دیا۔ انہوں نے میری طرف دیکھا۔ کالے سیاہ بالوں کے درمیان ان کا چہرہ بہر خوبصورت لگ رہا تھا۔
"زور سے چودو عثمان ۔ مجھے زور سے چودو۔"
مریم کی زبان پر سے میں نے ایسے الفاظ پہلی بار سنے تھے۔ میں نے ان کی بات پر عمل کیا اور انہیں تیز تیز جھٹکوں میں چودنے لگا۔ وہ سسکیاں لیتیں تو میرا جوش اور بڑھتا۔ سیکس کا اتنا مزہ تو مجھے زندگی میں کبھی نہیں آیا تھا۔ نہ ہی میں نے سوچا تھا کہ سیکس اتنا مزےدار بھی ہو سکتا ہے۔ جذبات ، احساسات اور سب سے بڑھ کر مریم جیسی خاتون کی میرے نیچے موجودگی، مجھ سے چدنے کی خواہش، یہ سب مل کر میرے اندر لگی آگ اور بھڑکا رہے تھے۔
مریم کی پھدی کافی ٹائٹ تھی۔ گرم بھی کافی تھی اور گیلی بھی اور چکنی بھی۔ اتنا شدید سیکس کرنے سے ہم دونوں کو ہی ہلکا ہلکا پسینہ آنے لگا تھا۔ مجھے ہوا میں ان کی پھدی اور پسینے کی ملی جلی خوشبو آ رہی تھی۔ میرا لن ان کی پھدی کی گرمائش سے مزید سخت ہو گیا۔
"میں ہونے لگا ہوں" میں چلا اٹھا۔
مریم نے بانہیں کھول دیں۔ میں نے پہلے کی طرح ان کی دونوں کلائیوں کو جکڑ لیا اور ان کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اپنے جھٹکوں کی رفتار مزید تیز کر دی۔ ان کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے میں نے پوری قوت سے اپنا لن ان کی پھدی میں بار بار گھسایا۔ وہ میرے نیچے کسمسانے لگیں۔ ان کی کلائیوں پر میرے ہاتھوں کی گرفت بہت سخت تھی اور جھٹکے بھی بہت شدید۔ وہ کسمسا کر کمر اکڑا کر میرے نیچے ایسے مچل رہی تھیں جیسے کوئی مچھلی پانی سے باہر آ کر تڑپتی ہے۔ میں نے اپنی رفتار ممکن ہر تک بڑھا دی۔ مریم ڈسچارج ہونے کے قریب تھیں۔ دوسری بار ڈسچارج ہونے پر ان کا جوش دیدنی تھا۔ آہوں کی جگہ اب چیخوں نے لے لی تھی اور وہ اپنا سر دائیں بائیں پٹخ رہی تھیں۔ انہیں اس قدر گرم دیکھ کر میں بھی ڈسچارج ہو گیا اور اپنی منی ان کی پھدی میں نکالنے لگا۔ ہم دونوں ہی لذت کی انتہاؤں پر تھے۔ ڈسچارج ہوتے وقت انسان جو کچھ محسوس کرتا ہے وہ ایک منفرد احساس ہے۔ دنیا کے کسی اور احساس میں اس قدر شدت نہیں ہوتی۔ اور اگر مرد اور عورت دونوں اکٹھے ڈسچارج ہوں، وحشیانہ سیکس کے بعد ڈسچارج ہوں تو اس احساس کی شدت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ میرے بھی کچھ ایسے ہی احساسات تھے جب میں ہر جھٹکے میں مریم کی پھدی میں منی نکال رہا تھا۔
اتنے زبردست ڈسچارج کے بعد ہم دونوں ہی نڈھال ہو گئے۔ میں بیڈ پر چت لیٹ گیا اور مریم میرے پاس آ کر میرے سینے سے لگ گئیں۔ میں ایک ہاتھ ان کی گردن کے نیچے سے گزار کر ان کے بالوں سے کھیلنے لگا۔ میں نے ان کے گال پر بوسہ دیا اور ہم جنوری کی اس دوپہر میں ایک دوسرے کے ساتھ لپٹ کر لیٹے رہے۔ یہ لمحات اتنے خوبصورت تھے کہ وقت گزرنے کا پتہ ہی نہ چلا اور شام ہو گئی۔ شہر کی روشنیاں کھڑکی سے اندر آنے لگی تھیں جب ہم بیڈ سے اٹھے۔ شاور لے کر کپڑے پہن کر تیار ہوئے۔ مریم نے ٹیکسی بلانے کیلئے فون کر دیا تھا۔

No comments:
Post a Comment